ان فٹ شعیب قبول نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے واضح کردیا ہے کہ شعیب اختر مکمل فٹ ہونے کی صورت میں ہی بھارت کے دورے کے لیے قابل قبول ہونگے۔ وہ جمعہ کو فاسٹ بولر سے ملاقات کرنے والے ہیں جس میں ان سے آسٹریلیا کے دورے میں پیش آنے والے واقعات پر ان سے وضاحت طلب کی جائےگی۔ شعیب اختر نے آسٹریلیا کے خلاف پرتھ اور میلبورن کے ٹیسٹ میچوں میں عمدہ بولنگ کرتے ہوئے گیارہ وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن ان فٹ ہونے کے سبب وہ سڈنی ٹیسٹ میں کوئی وکٹ حاصل نہیں کرسکے تھے جبکہ ون ڈے سہ فریقی سیریز کے دوران ہمسٹرنگ کی تکلیف کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں وطن واپس بلا لیا تھا۔ شعیب اختر نے وطن واپس آنے کے بعد مختلف انٹرویوز میں اپنے ان فٹ ہونےاور نائٹ کلب کی مبینہ تصاویر کے سلسلے میں عائد الزامات کا دفاع کیا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ شعیب اختر کے بیانات ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں تو نہیں آتے؟ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے شعیب اختر کے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ انہیں قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’شعیب اختر کو صفائی کا پورا موقع دیا جائے گا اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی‘ ۔ شہریارخان پر صدر پرویز مشرف کی جانب سےکرکٹ ٹیم میں ڈسپلن کے معاملات درست رکھنے کے سلسلےمیں غیرمعمولی دباؤ ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شعیب اختر سے ان کی فٹنس اور خاص طور پر رویے کے بارے میں بات کی جائے گی اور اس بات کو کسی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جائےگا کہ مکمل فٹ شعیب اختر ہی ٹیم میں شامل ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس وقت شعیب اختر کے علاوہ محمد سمیع ، عمر گل اور شبیراحمد کے ان فٹ ہونے کے سبب مشکلات کا سامنا ہے۔ شبیراحمد کی فوری واپسی ممکن نظر نہیں آتی جبکہ محمد سمیع کی فٹنس بھی غیریقینی اگر شعیب اختر کی فٹنس اور رویے کے سلسلے میں کرکٹ بورڈ مطمئن نہ ہوسکا تو پھر اس بات کے امکانات ہیں کہ بھارت کے دورے میں پاکستانی بولنگ کا بوجھ رانا نویدالحسن ،محمد خلیل اور شاہد نذیر اٹھائیں گے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ شعیب اختر کا کیریئر تباہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||