عبدالرشید شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی |  |
 |  شعیب اختر |
صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات میں اپنے لئے مینڈیٹ حاصل کرنے کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کو بعض معاملات پر سخت چیلنج درپیش ہے۔ آسٹریلیا میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی اورخاص کر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مبینہ واقعات پر صدر مشرف کی تشویش اور ان میں مبینہ طور پر ملوث کرکٹرز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کے بعد شہریارخان کے لئے کڑے فیصلے کرنا لازمی ہوگیا ہے جس سے قوم کا اعتماد بحال ہوسکے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے مبینہ واقعے کی تحقیقات یہ کہہ کر ختم کردی ہے کہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کا کہنا ہے کہ فاسٹ بولر شعیب اختر کے مبینہ طور پر نائٹ کلب جانے کے واقعے کی تحقیقات ہورہی ہے اور اگر یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ نائٹ کلب میں گئے تھے تو پھر ان کے خلاف یقینا کارروائی ہوگی لیکن اس بارے میں شعیب اختر کا کہنا ہے کہ وہ نائٹ کلب نہیں بلکہ ایک ریسٹورنٹ گئے تھے۔ شہریارخان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ فی الحال بھارتی میڈیا کی مہم معلوم ہوتی ہے کیونکہ وہیں سے شعیب اختر کی تصویریں منظرعام پر آئیں جن کے بارے میں دعوی کیا جارہا ہے کہ وہ نائٹ کلب کی تصاویر ہیں۔ شہریارخان کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستانی ٹیم آئندہ ماہ بھارت جانے والی ہے لہٰذا ٹیم کے ایک اہم کھلاڑی کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کرکے پاکستانی ٹیم کا مورال متاثر کیا جارہا ہو۔ شہریارخان آئندہ چند روز میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایگزیکٹیو اور ایڈہاک کمیٹی کا اعلان کرنے والے ہیں اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ رمیز راجہ کے بعد ایگزیکٹیو کا عہدہ خالی ہے جس پر ایک کرکٹر کی تقرری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے آئین کے تحت ضروری ایڈہاک کمیٹی روز مرہ کے کام نمٹائے گی جبکہ ایڈوائزری پینل بدستور کام کرتا رہے گا۔
|