کیا سفید گیند سرخ سے مختلف ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکٹ کھیلنے والوں کا ایک بڑا طبقہ یہ خیال رکھتا ہے کہ کرکٹ کی سفید گیند سرخ گیند سے زیادہ سوئنگ کرتی ہے اور اس سے تیز کی جا سکتی ہے۔ بی بی سی سپورٹ کی سپورٹس اکیڈمی کی تحقیق کے مطابق سفید گیند صرف ان ایک روزہ میچوں میں استعمال کی جاتی ہے جن میں دوسری مرتبہ بیٹنگ کرنے والی ٹیم فلڈ لائٹ میں رات کے وقت اپنی باری لیتی ہے۔ اس طرح کے حالات میں سفید گیند سرخ گیند کی نسبت آسانی سے نظر آ جاتی ہے۔ ان دونوں گیندوں میں جو مٹیریل یا سامان استعمال ہوتا ہے وہ وہی ہے جو 1700 ویں صدی سے کرکٹ کی گیند بنانے میں استعمال ہوتا آیا ہے۔ سب کرکٹ بال اندر سے کارک اور لیٹیکس کی ربڑ سے بنے ہوتے ہیں اور ان کے اوپر چمڑا چڑھایا گیا ہوتا ہے۔ لیکن سفید گیند سرخ گیند کی نسبت رگڑنے سے جلد کھردری ہو جاتی ہے۔ اس لیے اس پر زیادہ لیپ کیا ہوتا ہے کہ جلد گندی نہ ہو اور نہ ہی جلد خراب ہو۔ کرکٹ کے عالمی کپ میں گیندیں سپلائی کرنے والی کمپنی کوکابورا کا کہنا ہے کہ دونوں گیندوں میں فرق صرف رنگ کا ہی ہے اور کسی اور چیز کا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں گیند ایک ہی میٹیریل سے بنے ہیں اور ایک ہی طرح سے بنائے گئے ہیں۔ برطانیہ میں کوکابورا کے برانڈ مینیجر سٹورٹ واٹرٹن کا کہنا ہے کہ سفید گیند کو بنانے میں جو عمل درکار ہے وہ بالکل وہی ہے جو سرخ گیند کو بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ ’سوائے چمڑے کے رنگ کے باقی پروڈکشن لائن وہی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر بڑی محنت کی جاتی ہے کہ دونوں گیندوں کی پرفارمنس ایک جیسی رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||