BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جے سوریا کو کپتانی چھوڑنا راس آ گیا
جے سوریا
جے سوریا اب بھی ایک روزہ میچوں کے چیلنج سے لطف اندوز ہوتے ہیں
جب کوئی کھلاڑی تیس کے پیٹے میں ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی چھوڑ دے تو اس کا مطلب اکثر یہ ہی لیا جاتا ہے کہ یہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والا ہے۔

آسٹریلیا کے کپتان سٹیو وا اور انگلینڈ کے کپتان ناصر حسین نے تقریباً ایسا ہی کیا تھا جب انہوں نے کہا ہم کپتانی چھوڑ رہے ہیں تاکہ کسی نوجوان کھلاڑی کو آگے آنے کا موقعہ ملے۔

لیکن سنتھ جے سوریا کے کیس میں ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کپتانی اس لیے چھوڑی کے اپنے ٹیسٹ کیریئر کو مزید بڑھا سکیں۔

انہوں نے فروری میں اپنا 309 واں میچ کھیل کر سری لنکا کے کسی بھی کھلاڑی کی طرف سے سب سے زیادہ ایک روزہ میچ کھلینے کا ریکارڈ بنانے کے بعد کہا: ’میں چاہتا ہوں کہ جب تک ممکن ہو میں اپنے ملک کی نمائندگی کروں‘۔

پاکستان کے شہر فیصل آباد میں ہونے والے حالیہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں ان کے 253 رنز ان کی اپنے ملک کے لیے کرکٹ کی بلندیوں کو چھونے کی اس خواہش کا ایک نمونہ ہیں۔

یہ جے سوریا کی 13 ویں ٹیسٹ سنچری تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’میں جب بھی اپنے ملک کے لیے کھیلتا ہوں وہ ایک خاص بات ہوتی ہے، اور مجھے اس پر بہت فخر ہے‘۔

’ہر ایک کے کیریئر میں 100 رنز کی بڑی اہمیت اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے یہ اس طریقے سے بنائے ہیں۔

اپنی ڈبل سنچری کے دوران انہوں نے 6,000 رنز بنا لیے اور اب وہ تیزی کے ساتھ اروندا ڈسلوا کے 6,361 رنز کی طرف بڑھ رہے ہیں جو سری لنکا کی طرف سے سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ ہے۔

جے سوریا نے پندرہ سال پہلے میلبورن کے مقام پر آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ میچ کے ساتھ اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا اور اپنے پہلے میچ میں پانچویں نمبر پر کھیلتے ہوئے تین رنز بنائے۔

لیکن 1996 کے ورلڈ کپ میں مخالف ٹیموں کے چھکے چھڑا کر انہوں نے اپنے آپ کو ایک اوپنر کی حیثیت سے منوا لیا۔

اگرچہ سری لنکا کے ورلڈ کپ جیتنے میں اروندا ڈسلوا نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا لیکن جے سوریا کے بہترین سٹرایک ریٹ نے سری لنکا کی جیت کو یقینی بنا دیا تھا۔

اگلے سال ہی انہوں نے ٹیسٹ میچ کی کسی اننگز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کیا۔

وہ برائن لارا کا 375 رنز کا ریکارڈ تو نہ توڑ سکے لیکن انہوں نے سری لنکا کی ایک فلیٹ پچ پر بھارت کے خلاف 340 رنز بنائے۔ اس اننگز میں سری لنکا نے چھ وکٹ کے نقصان پر ریکارڈ 952 رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئر دی۔

1999 میں جے سوریا کو کپتان بنا دیا گیا اور اس کے بعد انہوں نے 18 ٹیسٹ میچ اور 60 ایک روزہ میچوں میں سے 37 میچ جیت کر ایک اچھے کپتان کی حیثیت سے عزت کمائی۔

جے سوریا نے 2003 میں کپتانی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ کچھ دنوں بعد شارجہ میں ہونے ٹورنامنٹ میں ان کی جگہ مارون اٹا پٹو کو سری لنکا کا کپتان بنا دیا گیا۔

جے سوریا صرف اپنے بیٹ ہی سے کرشمے نہیں دکھاتے بلکہ ان کی گیند میں بھی بڑا جادو ہے اور اکثر اوقات ان گیند بازی سری لنکا کو میچ جتوانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے خلاف ہونے والے پاکٹل کپ فائنل میں سترہ رنز دے کر پانچ وکٹ حاصل کرنا اس کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔

35 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد جے سوریا کو یہ تو پتا ہے کہ ان کا کیرئیر اب آخری مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ لیکن جب تک یہ ختم نہیں ہوتا جے سوریا اس کے ایک ایک لمحے سے محضوظ ہونا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد