سری لنکا کا بھرپور جواب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالروں کی عمدہ کارکردگی کی وجہ سے یاد رکھے جانے والے فیصل آباد ٹیسٹ کے دوسرے دن پاکستانی ٹیم بیٹنگ کی ناکامی کے سبب آٹھ وکٹوں کے نقصان پر256 رنز بناسکی اس طرح پاکستان کو سری لنکا پر صرف 13 رنز کی سبقت ہی حاصل ہوسکی ہے اور اس کی صرف دو وکٹیں باقی ہیں۔ اس سے قبل شعیب اختر اور محمد سمیع کی مؤثر بولنگ نے سری لنکا کی پہلی اننگز243 رنز پر محدود کردی تھی۔ پاکستان کی اننگز کا آغاز عمران فرحت اور یاسرحمید نے پراعتماد انداز میں کیا۔ لیکن گیارہ کے انفرادی سکور پر عمران فرحت مالنگا کی گیند پر جیہان مبارک کو کیچ دے بیٹھے۔ عاصم کمال بہت اعتماد سے کھیل رہے تھے لیکن تراسی منٹ میں ان کی17 رنز کی اننگز اسوقت ختم ہوگئی جب انہوں نے فرنینڈو کی باہر جاتی ہوئی گیند پر سلپ میں جے وردھنے کو کیچ دے دیا۔ یاسرحمید بھی عجلت پسندی کا شکار ہوئے۔ دس چوکوں کی مدد سے58 رنز بنانے کے بعد انہوں نے فرنینڈو کی ایک گیند کو ہک کرنے کی کوشش کی۔ اسی کوشش میں جیہان مبارک نے ان کا ایک شاندار کیچ لے کر انہیں بھی پویلین کی راہ دکھائی۔ انضمام الحق اور شعیب ملک نے صورتحال بہتر کرنے کی کوشش کی لیکن پانچویں وکٹ کے لیے ان کی54 رنز کی شراکت کا خاتمہ ہیرتھ نے کردیا جن کی گیند کو پل کرنے کی کوشش میں پاکستانی ٹیم کے کپتان اور سب سے قابل اعتماد بیٹسمین 32 کے سکور پر مالنگا کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ اس وقت پاکستانی ٹیم کی پانچ وکٹیں188 رنز پر گرچکی تھیں۔ ایک بڑی برتری کے لیے پاکستان کی تمام تر امیدیں شعیب ملک سے وابستہ تھیں لیکن 48 کے انفرادی سکور پر غیرضروری رن لیتے ہوئے وہ رن آؤٹ ہوگئے۔ اس وقت پاکستان کا اسکور چھ وکٹوں کے نقصان پر227 رنز تھا۔ معین خان ایک بار پھر بیٹسمین کی حیثیت سے ناکام رہے اور صرف پانچ رنز بناکر جے سوریا کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ اس سے قبل سری لنکا نے گزشتہ روز کے اسکور233 رنز7 کھلاڑی آؤٹ پر دوبارہ اننگز شروع کی تو97 رنز پر ناٹ آؤٹ تھلن سماراویرا نے شعیب اختر کی پہلی ہی گیند پر اپنی چوتھی ٹیسٹ سنچری مکمل کرلی سری لنکا سے باہر یہ ان کی پہلی سنچری بھی تھی لیکن چار گیندوں کے بعد شعیب اختر کوہک کرنے کی کوشش میں وہ ڈیپ اسکوائرلیگ پر محمد سمیع کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ سماراویرا نے رنگانا ہیرتھ کے ساتھ آٹھویں وکٹ کی شراکت میں قیمتی57 رنز کا اضافہ کیا۔ پاکستان کی طرف سے برق رفتار شعیب اختر کافی دنوں کے بعد بھرپور فارم میں دکھائی دیے۔ انہوں نے60 رنز دے کر5 وکٹیں حاصل کیں اپنے33 ویں ٹیسٹ میں انہوں نےنویں مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ محمد سمیع نے بھی مایوسی توڑتے ہوئے71رنز کے عوض4 کھلاڑی آؤٹ کئے۔دونوں کی یہ عمدہ کارکردگی یقینی طور پر پاکستانی ٹیم کے نقطہ نظر سے خوش آئند تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||