مرلی کے بغیر آج سے پہلا ٹیسٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ بدھ سے اقبال سٹیڈیم فیصل آباد میں شروع ہورہا ہے۔ سری لنکا کی ٹیم مرلی دھرن کی شاندار بولنگ کے بل پر پاکستان میں دو ٹیسٹ سیریز جیت چکی ہے جو اس مرتبہ فٹ نہ ہونے کے سبب ٹیم میں شامل نہیں۔ مرلی دھرن کندھے کے آپریشن کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے منتظر ہیں۔ سری لنکا نے پاکستان میں جو دو ٹیسٹ سیریز اور ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل جیتا ہے ان سات میچوں میں مرلی دھرن نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے49 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ مرون اتاپتو نے تسلیم کیا ہے کہ مرلی کی کمی شدت سے محسوس ہوگی۔ اتاپتو کا کہنا ہے کہ ’مرلی دھرن کا نہ ہونا ٹیم کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔ ہم مرلی کے بغیر زیادہ ٹیسٹ نہیں کھیلے نہ ہی زیادہ میچز جیتے ہیں جب مرلی دھرن نے آپریشن کا فیصلہ کیا تو تمام کھلاڑیوں نے مایوس ہونے کے بجائے اچھی آل راؤنڈ پرفارمنس دی اور جنوبی افریقہ کو شکست دی۔ہمارے بولرز میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ بیس وکٹیں حاصل کرسکیں لیکن اس کے لئے انہیں نظم وضبط کے ساتھ بولنگ کرنی ہوگی۔‘ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کو اندازہ ہے کہ ان کے بولرز ون ڈے میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکے لیکن وہ ان سے مایوس نہیں ہیں۔ پاکستانی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کئے گئے پانچ میں سے تین کھلاڑی رانا نویدالحسن، ریاض آفریدی اور ذوالقرنین ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلے ہیں۔ ان میں سے تیز بولر ریاض آفریدی اور وکٹ کیپر ذوالقرنین پہلی مرتبہ پاکستانی ٹیم میں شامل کئے گئے ہیں۔ یہ دونوں اس سال بنگلہ دیش میں انڈر19 ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم میں شامل تھے۔ تاہم ریاض آفریدی کے مشکوک بولنگ ایکشن کے بارے میں امپائرز نے باضابطہ رپورٹ کی تھی جبکہ ٹیم میں شامل آف سپنر شعیب ملک بھی دوسری مرتبہ بولنگ ایکشن درست نہ ہونے پر رپورٹ ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||