سری لنکا 119 رن سے جیت گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں سہ فریقی کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میں پاکستان کی ٹیم اڑتیس اوور میں 168 رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ سری لنکا کا سکور 287 تھا۔ اس طرح سری لنکا نے قذافی سٹیڈیم میں سن 1996 میں عالمی کپ اور سن 2002 میں ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کے بعد تیسری بڑی کامیابی حاصل کی۔ پاکستان نے ہوم گراؤنڈ پر بڑا ٹورنامنٹ نہ جیتنے کی روایت قائم رکھی۔ اسی قذافی اسٹیڈیم میں اسے1987 ورلڈکپ کے سیمی فائنل اور 95-1994 کی سہ فریقی سیریز کے فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ فائنل میں سری لنکا کی طرف سے جے سوریا نے پانچ اور اپل چندنا نے تین کھلاڑی آؤٹ کیے۔ جے سوریا نے جو بیٹنگ میں عمدہ کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے آٹھ اوور میں صرف پندرہ رن کے عوض پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے۔ پاکستان کے اوپنر سلمان بٹ نے سب سے زیادہ چالیس رن بنائے۔ شعیب ملک سینتیس پر سٹمپ آؤٹ ہوئے۔ اس سے پہلے یاسر حمید اٹھارہ کے سکور پر بولڈ ہو گئے تھے۔ سری لنکا کی طرف سے کپتان مارون اتاپتو اور سنگاکارا نے نصف سنچریاں بنائیں۔ پاکستان کے کپتان انضمام الحق نے ٹاس جیت کر سری لنکا کو کھیلنے کی دعوت دی تھی۔ سری لنکا کو ابتدائی اوور میں ہی ایک نقصان اٹھانا پڑا جب ان کے اوپنر جایانتھ کوئی رن بنائے بغیر رن آؤٹ ہو گئے تھے۔ جے سوریا آؤٹ ہونے والے دوسرے کھلاڑی تھے۔ ان کا کیچ رانا نوید کی گیند پر انضمام نے لیا۔ انہوں نے اکیس رن بنائے۔ لیکن اس کے بعد اتاپتو، سنگاکارا، جے وردھنے اور تلک دلشن نے عمدہ بیٹنگ کی۔ گزشتہ میچ کی طرح اس میچ میں بھی پاکستان کی فیلڈنگ مایوس کن رہی۔ جے سوریا کا کیچ ایک رن پر یاسر حمید نے شعیب اختر کی گیند پر ڈراپ کیا۔ اتاپتو،جنہوں نے چھیاسٹھ رن بنائے، 25 کے اسکور پر نوید الحسن کی گیند پر انضمام الحق کے ہاتھوں ڈراپ ہوئے۔ پاکستانی ٹیم ان ہی گیارہ کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اتری جو جمعرات کو سری لنکا کے خلاف آخری لیگ میچ کھیلے تھے جبکہ سری لنکا کی ٹیم میں کندمبی کی جگہ فرویز ماہروف کی واپسی ہوئی ہے۔ اس ڈے نائٹ فائنل کے لیے سری لنکا کی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔ مرون اتاپتو( کپتان) جے سوریا، سمن جیانتھا، مہیلا جے وردھنے، کمارسنگاکارا تلکارتنے دلشن، اپل چندنا، چمندا واس، نوآن سوئسا، دلہارا فرنینڈو اور فرویز ماہروف پاکستانی ٹیم انضمام الحق( کپتان) یاسرحمید، سلمان بٹ، شعیب ملک، یوسف یوحنا،معین خان، شاہدآفریدی، شعیب اختر، محمد سمیع،عبدالرزاق اور رانا نویدالحسن پر مشتمل تھی۔ اب دونوں ٹیمیں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں مدمقابل ہونگی۔ پہلا ٹیسٹ بیس اکتوبر سے فیصل آباد میں شروع ہوگا جبکہ دوسرا ٹیسٹ اٹھائیس اکتوبر سے کراچی میں کھیلا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||