پاکستان سری لنکا لیگ میچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ہونے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز کا آخری لیگ میچ جمعرات کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جارہا ہے۔ دونوں ٹیمیں اس میچ کو ہفتہ کو ہونے والے فائنل کی ریہرسل کے طور پر استعمال کریں گی۔ انضمام الحق کا کہنا ہے جمعرات کے میچ کو آسان نہیں سمجھیں گے اور ہر صورت میں اس کو جیتنے کی کوشش کریں گے۔ سری لنکا کے کوچ جان ڈائسن کا کہنا ہے کہ ان کی نظریں ہفتے کو ہونے والے فائنل پر مرکوز ہیں۔ پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں سیریز کی تیسری ٹیم زمبابوے کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فائنل میں جگہ بناچکی ہیں۔ پاکستان نے سیریز میں اب تک تینوں میچز جیتے ہیں جن میں کراچی میں سری لنکا کےخلاف آٹھ وکٹوں سے کامیابی بھی شامل ہے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستانی ٹیم ابتدائی میچ جیتنے کے بعد شکست سے دوچار ہوتی رہی ہے لہذا ان کی کوشش ہوگی کہ اس سیریز میں تین میچز جیتنے کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے۔ ا نہیں اپنے اوپنرز کی کارکردگی سے تشویش ہے اور وہ واضح نہیں ہیں کہ وہ ریگولر اوپنرز سے یہ میچ کھیلیں یا لوئر آرڈر میں سے کسی سے اوپننگ کرائیں۔ انضمام الحق نے شعیب اختر سے نئی گیند نہ کرائے جانے کے بارے میں کہا کہ ہر کھلاڑی کو وہیں استعمال کیا جانا چاہئے جہاں ٹیم کو اس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر اسٹرائیک بولر ہیں، ان سے شروع کے اوور کرانے کی صورت میں بعد میں رنز روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ وکٹ کیپر معین خان کے بارے میں انضمام الحق کا کہنا ہے کہ وہ مکمل فٹ ہوگئے ہیں اور جمعرات کا میچ کھیلیں گے کیونکہ وہ ریگولر وکٹ کیپر کو ترجیح دیتے ہیں۔ معین خان کی بیماری کی وجہ سے یونس خان نے دو میچوں میں وکٹ کیپنگ کی تھی۔ کوچ جان ڈائسن کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم بہت خطرناک ہے۔ کراچی میں اس کے بولرز نے اننگز کے درمیانی حصے میں عمدہ بولنگ کرتے ہوئے صورتحال بدل دی جس کا وہ اس بار توڑ کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||