BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 October, 2004, 07:55 GMT 12:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور میں آئی سی سی کا اجلاس

زمبابوے کرکٹ کونسل پر نسلی امتیاز کے الزامات ہیں
زمبابوے کرکٹ کونسل پر نسلی امتیاز کے الزامات ہیں
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ایگزیکٹو بورڈ کا دو روزہ اجلاس سولہ اور سترہ اکتوبر کو لاہور میں ہورہا ہے جس کے ایجنڈے کی خاص بات زمبابوے کرکٹ میں مبینہ نسلی امتیاز کے بارے میں آئی سی سی کی انکوائری رپورٹ کا پیش کیا جانا ہے۔

اس کے علاوہ اجلاس میں بونس پوائنٹس ختم کرنے، آئی سی سی کے دس سالہ پروگرام اور امپائرنگ کے معاملات پر بات ہوگی۔

زمبابوے کرکٹ اس سال اپریل سے شدید بحران سے دوچار ہے کیونکہ اس کے پندرہ کھلاڑیوں نے نسلی تعصب کا الزام عائد کرتے ہوئے خود کو انٹرنیشنل کرکٹ سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ ان میں سے تین کی واپسی ہوچکی ہے۔

زمبابوے کرکٹ یونین نے سیاہ فام وکٹ کیپر تتندا ٹائبو کو قیادت کی ذمہ داری سونپتے ہوئے نئے اور ناتجربہ کار کھلاڑیوں کے ذریعے ٹیم تشکیل دے دی لیکن معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے آئی سی سی نے زمبابوے کی ٹیسٹ رکنیت آئندہ سال جنوری تک معطل کردی ہے اور زمبابوے کی ٹیم اس وقت صرف ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہی ہے۔

آئی سی سی نے زمبابوے کرکٹ میں مبینہ طور پر نسلی تعصب کے الزامات کی حقیقت کا جائزہ لینے کے لئے دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔ اس نے ہرارے میں اس معاملے کی سماعت کی تھی جو رک گئی تھی تاہم تحریری شواہد کی بنیاد پر اس نے اپنی رپورٹ مرتب کرلی تھی جو لاہور میں آئی سی سی کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

زمبابوے کرکٹ یونین کے چیئرمین پیٹر چنگوکا یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ زمبابوے کرکٹ میں نسلی امتیاز موجود ہے۔ آئی سی سی انکوائری رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس مسئلے سے کھلے ذہن کے ساتھ نمٹنے کوشش کی ہے اور زمبابوے کرکٹ کے دروازے ان تمام کھلاڑیوں کے لئے کھلے ہیں جو واپس آنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بونس پوائنٹس کا طریقۂ کار ورلڈ کپ میں رائج نہیں تو دوسرے ایونٹس میں بھی اسے اپنانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں دوسرے کرکٹ بورڈز کے حکام سے بھی ان کی بات ہوئی ہے اور وہ بھی پاکستان کرکٹ بورڈ سے متفق نظرآتے ہیں۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آئندہ سال دورۂ بھارت کو بھی حتمی شکل دی جائے گی جو پچیس فروری سے شروع ہوگا۔اس دورے میں پاکستانی ٹیم تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد