BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 November, 2004, 08:20 GMT 13:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دنیائے کرکٹ کے شہزادے کی بری کارکردگی کیوں؟

News image
اینڈریو ہال کان پور میں ٹنڈولکر کی وکٹ لینے کے بعد۔
وہ شائد دنیا کا امیر ترین کرکٹر ہو اور یقینناً تاریخ کا ایک بہترین کھلاڑی، لیکن پچھلے کچھ عرصے دنیا کے زیادہ تر باؤلروں کے لئے اس کی وکٹ حاصل کرنا اتنا مشکل نہیں رہا۔

سچن ٹنڈولکر کے مایہ ناز کیرئیر کے پچھلے دو برس پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتاہے کہ انڈیا کا یہ سپر سٹار بھی ناکام ہوسکتا ہے۔

بری کارکردگی کے اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی میں کان پور میں ایک ایسی پچ پر جہاں چار دن میں صرف تیرہ وکٹیں گر سکیں، جنوبی افریقہ کے میڈیم پیس باؤلر اینڈریو ہال نے صرف تین کے سکور پر ٹنڈولکر کی بیچ کی وکٹ بہت آسانی سے اڑا دی۔

ٹنڈولکر کے پچھلے دو بررس
نیوزی لینڈ میں: 8، 51، 9، 32
آسٹریلیا میں: 0،1،37،0،241،60
پاکستان میں: 194، 2، 8، 1
انڈیا میں آسٹریلیا کے خلاف: 8، 2، 5،55

اگرچے اس برس کے شروع میں دنیائے کرکٹ کے شہزادے کا روایتی رنگ دو ٹیسٹ میچوں میں(سڈنی میں 214 اور ملتان میں 194 ) دیکھنے کو ملا لیکن حیران کن طور پر ان کے کیرئیر میں سنگل فگرز کا اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ایک وقت میں عظیم ترین بیٹسمین اب ریٹنگ میں بارہویں نمبر پر ہے۔

ٹائمز آف انڈیا نامی اخبار کے سپورٹس ایڈیٹر ایاز میمن نے ٹنڈولکر کے کیرئیر پر قریب سے نظر رکھی ہے اور ان کا خیال ہے کہ پہلے ٹنڈولکر کبھی بھی اتنی غیر یقینی کے ساتھ بیٹنگ نہیں کرتے تھے جتنا اب کرتے ہیں۔ ’وہ ہمیشہ بیس یا تیس رنز بہت جلدی سے بنالیتے تھے اور وہ ایسا کرلیں تو بڑا سکور آسانی سے بنا لیتے تھے۔ لیکن اب میرے خیال میں وہ قدرتی انداز میں نہیں کھیل رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ کریز پر جمنے کے لئے شروع کے بیس تیس رنز کے لئے بڑی جدوجہد کرتے ہیں۔

لیکن بیٹنگ کے شعبے میں قدرے بری کارکردگی کے باوجود ٹنڈولکر فیلڈنگ اور باؤلنگ میں بہت کامیابی سے جمے ہوئے ہیں۔

ایاز میمن کا خیال ہے کہ ٹنڈولکر کی مزید بری کارکردگی کے باوجود انہیں ٹیم سے ڈراپ نہیں کیا جائے گا۔ ’اس ساکھ کے کھلاڑی کو ٹیم سے نکالنا کوئی آسان کام نہیں اور ویسے بھی میرے خیال میں ٹنڈولکر اپنی روایتی فارم میں واپس ضرور آئیں گے۔ ان کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے میچ پریکٹس۔‘

ایاز میمن کو ٹنڈولکر کے فارم میں واپس آنے کی جو امید ہے وہ اتنی انہونی نہیں ہے کیونکہ تیس سنچریوں اور نو ہزار پانچ سو ترتالیس رنز کے ساتھ ٹنڈولکر یقینناً کبھ بھی فارم میں واپس آسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد