BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 March, 2004, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کھلاڑی کے ساتھ شہر بھی کھیلتا ہے

عمران خان اور وسیم اکرم
عمران خان اور وسیم اکرم ہر کام تیزی سے کرتے تھے
کھلاڑی اپنے ملک کے نمائندے تو ہوتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے شہر کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔ اُن کے لیے اپنے شہر میں قومی ٹیم کی طرف سے کھیلنا ایک اضافی اعزاز کا باعث ہوتا ہے۔ چاہے انہوں نے اپنے کیرئیر کے بہت کم بڑے میچ اپنے شہر میں کھیلے ہوں۔ مگر وہ جب بھی اپنے شہر میں کھیلنے آتے ہیں۔ اُن پر ذمہ داری معمول سے کچھ زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

تھوڑا سا غور کرنے پر ہمیں کھلاڑیوں میں اُن کے شہر کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔

اگر آپ لاہور، کراچی یا لندن کی مصروفیات سے بھاگ کر کبھی ملتان گئے ہوں تو آپ کو محسوس ہوا ہو گا جیسے زندگی میں ایک خاص قسم کا ٹھہراؤ آ گیا ہو۔

ملتان کی زندگی میں بھی پچھلے چند برسوں میں تیزی تو آئی ہے۔ مگر پھر بھی شہر کا پرانا مزاج نئی ضرورتوں کے آگے آسانی سے ہتھیار ڈالنے پر ہرگز آمادہ نہیں ہے۔ اور آج بھی گھوڑے کی ٹاپ یہاں زندگی کو ردھم فراہم کرتی سنائی دیتی ہے۔

اس کے علاوہ لہجےکی حلاوٹ ابھی بڑی حد تک موجود ہے۔

کوئی مسئلہ نہیں
اگر دنیا میں کوئی بھی کچھ کر سکتا ہے تو لاہور والے اُسے بائیں ہاتھ سے کر سکتے ہیں۔ وسیم اکرم کے بائیں ہاتھ کا کمال اُن کے پیر و مرشد عمران خان کا وردھان ہے۔ مگر بولنگ کی اس روایت میں ایک بڑا حصّہ ایک لاہوری سرفراز نواز کا ہے۔

اب ملتان کی ان خصوصیات کا موازنہ انضمام الحق کی بلے بازی سے کیجئے۔ یوں نہیں محسوس ہوتا کہ جیسے انضمام نے اپنے شہر کی بہت سی خصوصیات کو اپنے کھیلنے کے انداز میں سمو لیا ہے؟ انہیں کوئی جلدی نہیں اور یہ چیز ہی اُن کے کھیل کا طُرہّ امتیاز ہے۔ مخالف گیند باز چاہے کتنا ہی تیز رفتار ہو، وہ چاہے کتنی ہی چالاکی سے انضمام کے اطمینان میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے، انضمام کو اپنا کام اپنے ہی انداز میں کرنا ہوتا ہے۔ ہار جیت اپنی جگہ، مخالفوں کی بات تو ایک طرف، وہ دوسرے پاکستانی شہروں کے نمائندوں کی التجاؤں کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ اُن کے ساتھ کریز پر چاہے جو بھی ہو، اُنہیں ڈسٹرب کرنے کا نتیجہ ایک رن آوٹ کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

اب انضمام کے پارٹنر بھی کیا کریں، وہ بھی مجبور ہیں۔ وہ اپنے اپنے شہروں کی خصوصیات اُجاگر کئیے بغیر نہیں رہ سکتے۔

یوسف یوحنا کو لیجئے۔ اُن میں اطیمنان تو ہے مگر ایک مقام پر آ کے اُنہیں لگتا ہے کہ اب دھکم پیل کیے بغیر سفر جاری رکھنا ناممکن ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں یوحنا کے شہر کے ایک ایسے نمائندے جنہیں نظرانداز کرنا ناممکن ہے، وسیم اکرم ہیں۔

اگر دنیا میں کوئی بھی کچھ کر سکتا ہے تو لاہور والے اُسے بائیں ہاتھ سے کر سکتے ہیں۔ وسیم اکرم کے بائیں ہاتھ کا کمال اُن کے پیر و مرشد عمران خان کا وردھان ہے۔ مگر بولنگ کی اس روایت میں ایک بڑا حصّہ ایک لاہوری سرفراز نواز کا ہے۔

وقار یونس
بوریوالہ ایکسپریں چھوٹے شہروں میں تیزی کے ساتھ ہونے والی تبدیلی کا ایک نشان ہے

یہ تینوں بولر اُس تحریک کا حصّہ ہیں جو روایت میں جدت کو ملا کر ایک نئی طرح ڈالتی ہے۔ سرفراز نواز اور عمران خان دونوں اُس لاہور کی نمائندگی بھی کرتے ہیں جو ’اَتھرا‘ ہے اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ لاہور جو اپنی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہے اور کبھی کبھار طاقت کے خمار میں اُس مطلق العنان بادشاہ کی طرح سرشار اپنے طریقے سے حکومت کرنے پر مُصر ہے۔ کبھی کبھار پرانے رسم و رواج سے برسرپیکار۔ مگر ہر دو صورتوں میں ایک لاہوری کا فخریہ انداز اپنائے ہوئے۔ ماجد خان کا انداز کچھ اسی طرح کا تھا۔

روایت سے لڑنے کا انداز جاوید میانداد کا تھا۔ سٹریٹ فائیٹ کا لقب پانے والےاس کھلاڑی نے پاکستان کی نمائندگی بہت شاندار طریقے سے کی۔ ساتھ ساتھ کراچی کی نمائندگی بھی اُن کے لقب سے ظاہر ہے۔

اُن کے بعد ان خصوصیات کے حامل راشد لطیف اور معین خان جیسے کھلاڑیوں نے متعدد مواقع پر اپنی ’فائٹنگ ایبلٹیز‘ سے واضح طور پر اس روایت کو آگے بڑھایا۔ بلاشبہ اسے کراچی کی مجموعی صورتحال کا آئینہ دار کہا جا سکتا ہے۔

جاوید میانداد سے پہلے ظہیر عباس نے اُس کراچی کی نمائندگی بہت عرصے تک کی جو چھوٹے شہروں سے آنے والوں کو نکھارنے، سنورانے، بنانے میں نام پیدا کر چکےہیں۔

اب پچھلے چند سالوں میں بات کراچی اور لاہور سے آگے چلی گئی ہے۔ آج پاکستانی ٹیم میں مختلف شہروں کے ’فلیورز‘ موجود ہیں۔ اگر یاسر حمید پشاور کا ایک جدید رُخ لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف پنجاب کے ایک چھوٹے شہر مریدکے سے طلوع ہونے والے عمران نذیر ہیں جو اپنی دھواں دار بلے بازی سے چھوٹے شہروں اور قصبوں کی بڑھتی ہوئی خود اعتمادی کا پتہ دیتے ہیں۔

مریدکے بھی اُسی لائن پر آنے کے لیے بیتاب ہے جہاں سے ابھی کچھ عرصہ پہلے بوریوالہ ایکسپریس کا گزر ہوا تھا۔

روالپنڈی ایکسپریس کا ذکر، کرکٹ کے حوالے سے ایک کم جانے جانیوالے شہر کا ابتدائی اعلان ہے۔ خدا کرے کے شیعب اختر کو اپنے شہر میں کھیلنےکا زیادہ سے زیادہ موقع ملے کہ آج کل کھلاڑیوں کو گھر واپس آتے آتے ایک عرصہ لگ جاتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد