BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 August, 2004, 20:41 GMT 01:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسپانسرز کی تلاش

انضمام
ڈومیسٹک کرکٹ کے لئےاسپانسرز کی کمی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے لئے اسپانسرز کی تلاش شروع کردی ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مارکیٹنگ کنسلٹنٹ ریاض محمود کے مطابق اس سیزن میں پانچ بڑے ٹورنامنٹ کھیلے جائیں گے جن کے لئے اسپانسرشپ درکار ہے اس کا حتمی فیصلہ بیس ستمبر کو کیا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے خوبصورت پریزنٹیشن کے ذریعے اداروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے اور اسے توقع ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کے لئے معقول اسپانسرشپ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائےگا۔

پاکستان کا فرسٹ کلاس سیزن اکتوبر میں قائداعظم ٹرافی کے ذریعے شروع ہوگا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اگست کے مہینے میں ابھی تک پریزنٹیشن اور مختلف اداروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوششوں میں ہی لگاہوا ہے جبکہ یہ کام بھارت کے خلاف سیریز ختم ہونے کے فورا بعد ہی شروع ہوجانا چاہیئے تھا ۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اسپانسرز کی طرف سے عدم دلچسپی کا سامنا رہا ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے مقابلے میں علاقائی کرکٹ کو فروغ دینے کا جو نعرہ بلند کرتے رہے ہیں اس میں اداروں کو کوئی کشش نظرنہیں آتی ۔

اس کے علاوہ پاکستان کے بڑے ناموں والے سپراسٹار کرکٹرز اپنی ادارتی ٹیموں کی طرف سے کھیلنے میں بھی پس وپیش سے کام لیتے ہیں جس کے نتیجے میں تماشائیوں کو فرسٹ کلاس میچوں میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی ۔

جب تک ان دو نکات پر پاکستان کرکٹ بورڈ توجہ نہیں دے گا پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا ڈھانچہ منظم نہیں ہوسکے گا۔ عام شائقین کو اس بات سے قطعا کوئی دلچسپی نہیں کہ شعیب اختر کے آرایل سے کھیلے یا پنڈی سے ، صرف شعیب اختر کی کشش انہیں گراؤنڈ میں لے جائے گی۔

لیکن اگر اسٹار کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ سے دور رہیں گے تو تماشائیوں سے یہ توقع کرنا فضول ہوگی کہ وہ میدانوں کا رخ کریں دلچسپ بات یہ ہے کہ آنے والے سیزن میں بھی ڈپارٹمنٹل کرکٹ اسی وقت ہوگی جب پاکستان کرکٹ ٹیم بین الاقوامی میچز میں مصروف ہوگی اور بڑے کھلاڑی فرسٹ کلاس کرکٹ سے غائب رہیں گے۔

اسوقت صورتحال یہ ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کے موقع پر بھی پاکستانی میدان نہیں بھرے جاتے جس کے کئی اسباب ہیں ۔ پاکستان کے ٹیسٹ گراؤنڈز بظاہر بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں لیکن وی آئی پی اور پریس کو دی جانے والی سہولتوں کی حد تک۔

جہانتک عام انکلوژر کا تعلق ہے توان میں عام شائقین کے لئے سہولتیں کم پریشانیاں زیادہ موجود ہوتی ہیں جس کا اعتراف پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہرسربراہ نے کیا ہے ان حالات میں کرکٹ بورڈ کے لئے ڈومیسٹک کرکٹ میں اسپانسراور عام شائق کی دلچسپی پیدا کرنا آسان نہ ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد