مرلی دھرن کا ’دوسرا‘ غیر قانونی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک بائیومکینک ماہر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سری لنکا کے سپنر مرلی دھرن کا گیند جسے ’دوسرا‘ کہا جاتا ہے، غیر قانونی ہے۔ پروفیسر بروس ایلیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ درست ہے کہ مرلی دھرن کا بازو دس ڈگری کے زاویعہ تک پھیلتا ہے جو کہ آئی سی سی کی قانونی حد سے دوگنا ہے۔‘ آئی سی سی کے مطابق بازو کو پانچ ڈگری تک پھیلنا چاہیئے۔ سری لنکا کے کرکٹ کے حکام نے پروفیسر ایلیٹ کی رپورٹ آئی سی سی کو بھیج دی ہے۔ پروفیسر ایلیٹ کی ٹیم نے مرلی دھرن کے ایکشن کا مکمل تجزیہ کیا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد اگر اس سال کسی میچ ریفری یا امپائیر نے مرلی دھرن کے ایکشن پر اعتراض کیا تو ان کے کرکٹ کھیلنے پر ایک سال کے لئے پابندی لگ سکتی ہے۔ آئی سی سی صرف اس وقت کوئی اقدام کرے گی جب مرلی دھرن کا ایکشن اس کے پاس رپورٹ کیا جائے گا اور اس کے بعد وہ ان کے خلاف پابندی لگا سکتی ہے۔ ان کا گیند جسے ’دوسرا‘ کہا جاتا ہے آف بریک ہونے کی بجائے دائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بیٹسمین کے دوسری طرف نکل جاتا ہے۔ آئی سی سی نے پہلے ہی کہا ہوا ہے کہ وہ سپن بولر کے لئے پانچ ڈگری کی حد کو نہیں بڑھائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||