مرلی کا بولنگ ایکشن مشکوک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے مایہ ناز آف اسپنر مرلی دھرن، آسٹریلیا سے حالیہ ٹیسٹ سیریز کے دوران ایک بار پھر اپنے مشکوک بولنگ ایکشن کی وجہ سے آئی سی سی کے شکنجے میں پھنس گئے ہیں۔ آئی سی سی نے اس بات کو مکمل طور پر واضح کر دیا ہے کہ اگر ایمپائر یا میچ ریفری نے ان کے مشکوک بولنگ ایکشن کے بارے میں شکایت کی تو ان پر ایک سال کی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ویسٹرن آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی، سری لنکن کرکٹ بورڈ کے اصرار پر مرلی دھرن کے مشکوک بولنگ ایکشن کو درست کرنے کا کام کر رہی ہے۔ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق سری لنکن کرکٹ بورڈ چھ ہفتوں کے دوران اپنی وضاحت پیش کر سکتا ہے۔ اگر اس دوران کوئی فیصلہ یا کوئی نتیجہ نکلتا ہے تو سری لنکن کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری ہوگی۔ اگر مرلی دھرن پھر بھی اپنا بولنگ ایکشن درست کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو آئی آئی سی کو پورا حق حاصل ہو گا کہ وہ مرلی دھرن کو معطل کر دے۔ اس سلسلے میں آئی سی سی نے اپنے قوانین میں کسی حد تک نرمی کی ہے جس کے تحت مرلی دھرن اپنا ہاتھ دس ڈگری تک موڑ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ قانون صرف فاسٹ بولر کے لیے ہے جو اپنا ہاتھ دس ڈگری تک موڑ سکتے ہیں۔آئی سی سی نے یہ نرمی مرلی دھرن کے لیے کی ہے جن کے بولنگ ایکشن میں پیدائشی نقص پایا جاتا ہے۔ جبکہ آئی سی سی کے سربراہ میلکن اسپیڈ نے اس امکان کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ قوانین کے تحت اسپن بولر اپنا ہاتھ معمولی حد تک موڑ سکتے ہیں۔ جبکہ مرلی دھرن کے ایکشن میں غیر معولی نقص پایا جاتا ہے۔ گز شتہ سال انڈیا میں آئی سی سی کے منعقد ہونے والے اجلاس میں تمام سربراہوں نے شرکت کی تھی اور تمام سربراہوں نے آئی سی سی کے نئے قوانین پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا تھا۔ میلکن اسپیڈ نے مزید کہا ہے کہ ان قوانین کا اطلاق ان تمام بولر ز پر ہوتا ہے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||