سلیم ملک: کرکٹ اکیڈمی کا منصوبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق کپتان اور میچ فکسنگ میں سزا یافتہ سلیم ملک نے لاہور میں اپنی کرکٹ اکیڈمی بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ سلیم ملک کو چار سال قبل میچ فکسنگ کے الزام میں عدالتی انکوائری کے بعد عمر بھر کرکٹ نہ کھیل سکنے کی سزا دی گئی تھی تاہم وہ اپنی بے گناہی پر اصرار کرتے رہے ہیں ان کا کہنا ہے ’میرے خیال میں کرکٹ کی کوچنگ کرنے کی کوشش میں تو کوئی برائی نہیں ہے۔ کرکٹ میرا پیشہ رہی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اپنی مہارت نوجوان کھلاڑیوں کو منتقل کروں۔‘ سلیم ملک نے اپنے موقف پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو چاہیے کہ آپ اپنا علم اگلی نسل کو منتقل کریں۔‘ اکتالیس سالہ سلیم ملک ان پانچ کھلاڑیوں میں شامل تھے جن کے خلاف01_2000 کے دوران میچ فکسنگ کے مختلف الزامات کے تحت انکوائری ہوئی اور جنہیں آئندہ زندگی بھر کرکٹ کھیلنے سے محروم کر دیا گیا۔ ان کے علاوہ دیگر چار کھلاڑیوں میں پاکستانی عطاالرحمٰن، انڈین اظہرالدین اور اجے شرما اور جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ہنسی کرونیئے شامل تھے۔ سلیم ملک کے پاکستانی جج جسٹس قیوم نے تحقیقات کی تھیں اور اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ سلیم ملک 95_1994 کےدوران سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف میچ فکسنگ میں ملوث تھے تاہم ان کا کہنا تھا کہ 94_1993میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کی فکسنگ کے الزام کے خاطر خواہ شواہد نہیں ہیں۔ سلیم ملک نے اس فیصلے خلاف کئی اپیلیں کی ہیں جو تمام کی تمام مسترد ہوتی رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||