کرکٹر پر خاتون سے زیادتی کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک آسٹریلوی اخبار کی اس رپورٹ کا سختی سے نوٹس لیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میلبورن ٹیسٹ کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک کھلاڑی نے ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ سِڈنی ہیرلڈ سن نامی اخبار کے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاتون نے پولیس میں رپورٹ درج نہیں کرائی البتہ وہ جنسی تشدد سے متعلق سینٹر کے علم میں یہ واقعہ لائی ہے۔ اخبار نے کرکٹر کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا میں موجود پاکستانی ٹیم مینیجمنٹ نے ایسے کسی واقعے سے انکار کیا ہے۔ کوچ باب وولمر کے مطابق انہوں نے کھلاڑیوں سے جب اس خبر اور الزام کی بابت بات کی تو وہ ہکا بکا رہ گئے اور انہوں نے اسے بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر عباس زیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی نے آسٹریلیا میں وکلاء سے رابطہ کیا ہے۔ ٹیم مینیجمنٹ کو سختی سے ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ تحقیقات کرکے حقائق معلوم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پاکستانی کرکٹر اس واقعے میں ملوث پایا گیا تو اسے دی جانے والی سزا ’مثالی ہوگی‘ اور اگر اخبار کی خبر غلط ثابت ہوئی تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ عباس زیدی نے کہا کہ اس مبینہ واقعے کی پولیس میں کوئی رپورٹ درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ہوٹل کی انتظامیہ نے اس بارے میں کچھ کہا ہے، ممکن ہے کہ یہ بلیک میلنگ یا منفی صحافت ہو۔ انہوں نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ میلبورن ٹیسٹ کے تین ہفتے گزرجانے کے بعد اب یہ خبر کیوں شائع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سنگین نوعیت کا الزام ہے جس کی تحقیقات کرکے حقیقت سامنے لائی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||