پہلی پاکستانی خاتون کمنٹیٹر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ویسے تو ہر شعبے میں ہی کافی ترقی ہوئی ہے اور خواتین کو بھی متعدد نئے شعبوں میں کام کرنے کا موقع ملا ہے لیکن اب بھی پاکستان میں بہت سے شعبے ایسے ہیں جن میں یا تو خواتین نمائندگی بالکل ہی نہیں ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہیں شعبوں میں سے ایک شعبہ کرکٹ کمنٹری کا بھی ہے۔ لیکن اب ایک خاتون کمنٹیٹر کے آنے سے یہ شعبہ بھی خواتین کی دسترس سے باہر نہیں رہا۔ لِینا معین عزیز پہلی پاکستانی خاتون ہیں جو بحیثیت کرکٹ کمنٹیٹر سامنے آئی ہیں۔ ان کو کرکٹ کمینٹیٹر بننے تک کن کن مشکلات کا سامنا رہا اور ان کا بحیثیت کمنٹیٹر کیا مستقبل ہے، میں نے ان سے اسی موضوع پر بات چیت کی جو انہی کی زبانی درج ذیل ہے: ’آج سے تقریباً بیس برس پہلے جب میں بہت چھوٹی تھی، اُس وقت لڑکیوں میں تو کرکٹ کا شوق بہت ہی کم ہوا کرتا تھا اور لڑکیوں کا کرکٹ کھیلنا بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لیکن میں اس وقت بھی اپنے محلے کے لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتی تھی۔ اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں اپنے محلے کے لڑکوں کی ٹیم کی کپتان بن گئی۔ ’مجھے ایک بات کی خوشی ہے کہ میرے والد نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی۔ وہ خود بھی کرکٹ کے بہت شوقین ہیں شاید اسی لیے کرکٹ میں میری دلچسپی بڑھتی چلی گئی اور پھر میں نے کھیل کے موضوعات اور خاص طور پر کرکٹ کے بارے میں لکھنا شروع کر دیا۔ ’میں نے پہلی مرتبہ سن 1992 کے ورلڈ کپ کے دوران اخبارات کے لیے لکھنا شروع کیا اور اب تک میں مختلف اخباروں کے لیے تقریباً تین سو مضامین لکھ چکی ہوں۔ ’اخبارات میں لکھنے کے علاوہ میری یہ کوشش رہی کہ ٹیلی وژن پر بھی کرکٹ کی کمنٹری کروں۔ میں نے اس مقصد کے لیے بار بار پاکستان ٹیلی وژن کے دروازے پر دستک دی اور طویل عرصے کی کوشش کے بعد بلآخر مجھے ٹیلی وژن پر کمنٹری کرنے کا موقع ملا گیا۔ ’میں نے ٹیلی وژن پر ابتداً پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ مقابلوں کی کمنٹری کی اور بعد میں مجھے پاکستان اور سری لنکا کے مابین ہونے والے میچ میں بھی کمنٹری کا موقع ملا۔ ’پاکستان ٹیلی وژن کے علاوہ مجھے ایک مرتبہ ٹین سپورٹس (Ten Sports) پر بھی نصف گھنٹے کے لیے بنگلہ دیش اور پاکستان کے مابین ہونے والے میچ میں کمنٹری کرنے کا موقع دیا گیا۔ ’لیکن اسوقت سے اب تک مجھے مزید انٹرنیشنل میچوں میں کمنٹری کا موقع نہیں مل ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بہت کم ہوتی ہے اور جتنی کرکٹ ہوتی ہے اس پر مرد کمنٹیٹر کافی حاوی نظر آتے ہیں۔ ’ویسے تو پوری دنیا میں ہی خواتین اس شعبے میں نہ ہونے کہ برابر ہیں، بین الاقوامی طور پر صرف ایک ہی خاتون بحثیت کمنٹیٹر کے سامنے آئی ہیں اور ان کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو میں بہت خوش نصیب ہوں۔ ’پاکستان میں اگر کوئی چینل کمنٹری دکھاتا ہے، تو وہ ہے حکومتی چینل (یعنی پی ٹی وی)۔ پاکستان میں سپورٹس کے حوالے سے ابھی تک کوئی پرائیوٹ ٹی وی چینل نہیں بنا ہے، لیکن شاید مستقبل قریب میں اگر کوئی ایسا چینل بن جاتا ہے تو مجھے اور میری جیسی بہت سی دوسری خواتین کو یہ موقع مل سکے گا کہ وہ بھی اپنے شوق کی تکمیل کر سکیں۔ ’میں کبھی کبھار مایوس ضرور ہوتی ہوں لیکن ناامید نہیں ہوں۔ مجھےسمجھ نہیں آ رہا کہ میں کیا کروں، فراغت سے تنگ آ کر اب میں نے ایک ریسٹورنٹ کھولا ہے اور یہاں آنے والے دوستوں سے کرکٹ پر گپ شپ کر کے گزارہ کرتی ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||