ایم سی کا سونامی فنڈ میں حصہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایم سی سی کرکٹ کلب نے اعلان کیا ہے کہ وہ سونامی کے متاثرین کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے ۔ کلب نے اعلان کیا ہے کہ وہ سری لنکا کے گالے سٹیڈیم کو بحال کرنے کے لیے پچیس ہزار پونڈ دے گا۔ گالے گرونڈ کو 1998 میں ٹیسٹ میچ کرانے کا درجہ دیا گیا تھا۔ ایم سی سی کے سیکریٹری جنرل راجر نائیٹ نے بتایا ہے کہ وہ ان تنظیموں کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو سونامی کے متاثرین کی مدد کے لیے دن رات انتھک کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاڈز کرکٹ گروانڈ کے’ لمبے کمرے‘ میں فنڈ اکھٹے کرنے کی مہم شروع کریں گے۔ لاڈز کرکٹ گرونڈ کا پویلین آج کل مرمت کی غرض سے بند ہے۔ برطانیہ کی کرکٹ ٹیم نے سونامی کے متاثرین کے لیے پہلے ہی کافی امداد کا اعلان کر دیا ہے۔ ایم سی سی کے سیکریٹری نے کہا کہ ہر کوئی سونامی کی تباہ کاریوں پر پریشان ہے اور اس کے متاثرین کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ایم سی سی کے سیکریٹری نے بتایا ہے کہ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ سے سونامی کے متاثرین کی امداد کے لیے ایک امدادی میچ کرانے کے لیے رابطہ کیے ہوئے ہیں۔ گالے سٹیڈیم کے گراونڈز مین جیانندا وارناویرا نے بتایا ان کا یہ خواب تھا کہ گالے کرکٹ گراونڈ پر انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی جائے۔ لیکن یہ خواب پورا ہونے کے اتنے ہی تھوڑے عرصے میں یہ کرکٹ گرونڈ اس طرح تباہ ہو گیا ہے۔ مزید براں انٹرنیشل کرکٹ کونسل، آئی سی سی نےسونامی کے متاثرین کی امداد کے لیے آسٹریلیا میں ہونے والے دو میچوں کو آفیشل درجہ دے دیا ہے اور اس میں بنائے گئے رنز اور وکٹیں کھلاڑیوں کے انفرادی اعداو شمار میں شامل کیے جائیں گے۔ پاکستان کے فاسٹ بولر شعیب اختر جو زخمی ہونے کی وجہ سے دس تاریخ کو ہونے سونامی امدادی میں حصہ نہیں لے سکیں گے کی جگہ عبدالرزاق کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ سری لنکا کے مشہور کھلاڑی مرلی دھرن نے اعلان کیا ہے کہ وہ امدادی میچوں میں حصہ لیں گے۔مرلی دھرن کندھے کے زخمی ہونے کے بعد پہلی دفعہ کسی میچ میں حصہ لیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||