2004ء پاک بھارت روابط کا سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسی بھی کھیل کی سحرانگیزی روایتی حریفوں کے درمیان ہونے والے دلچسپ مقابلوں سے قائم ہے اور اس ضمن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مقابلوں سے زیادہ مؤثر اور بڑی مثال کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ 2004 کو بجا طور پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کا سال کہا جا سکتا ہے۔ یہ اسی کا تنیجہ ہے کہ کھیل کے میدان بھی دونوں ممالک کے کھلاڑیوں کے دلچسپ مقابلوں سے آباد ہوئے جس میں سرفہرست کرکٹ کا کھیل رہا بلکہ ایک لمحے کے لیے یہ محسوس ہوا جیسے یہ تعلقات صرف کرکٹ کے لیے ہی استوار ہوئے ہوں۔ پندرہ سال کے طویل انتظار کے بعد سوروگنگولی کی قیادت میں بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان آئی تو برصغیر ہی نہیں دنیا کا ہر وہ حصہ جہاں پاکستانی اور بھارتی بستے ہیں کرکٹ کے بخار میں مبتلا دکھائی دیا۔ ان میچوں کی مقناطیسی کشش بانی پاکستان قائداعظم کی صاحبزادی دینا واڈیا کو بھی پاکستان لے آئی جو اپنے صاحبزادے نسلی واڈیا کے ساتھ لاہور کا ون ڈے میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں موجود تھیں۔
اس سیریز کے موقع پر عام شائقین کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کے صدر احسان مانی کی خوشی بےجا نہ تھی جن کا کہنا تھا کہ کرکٹ کو سیاست سے دور رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس سیریز سے نہ صرف اس خطے کی کرکٹ بلکہ بین الاقوامی کرکٹ بھی مضبوط ہوگی۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جگ موہن ڈالمیا اس اعتراف کے باوجود کہ پاک بھارت کرکٹ دونوں حکومتوں کے فیصلوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے مستقبل سے مایوس نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کا یہ سلسلہ ختم نہ ہونے کے لیے شروع ہوا ہے۔ میدان سے باہر کی ڈپلومیٹک سرگرمیاں بھی کھلاڑیوں کی میدان میں دکھائی گئی کارکردگی سے کسی طور پیچھے نہ رہیں۔
انضمام الحق کی دو سنچریاں بھی بھارت کو ون ڈے سیریز جیتنے سے نہ روک سکیں۔ اسی طرح راہول ڈراوڈ کی شاندار بیٹنگ کے نتیجے میں ٹیسٹ سیریز بھی بھارت کے نام رہی۔ ملتان ٹیسٹ سہواگ کی شاندار ڈبل سنچری کے سبب یاد رکھا جائے گا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں یہ بھارت کی جانب سے پہلی ٹرپل سنچری تھی۔ عرفان پٹھان نے اگرچہ بھارتی ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا لیکن ان کی بھرپور صلاحیتیں پاکستان کے خلاف سیریز میں کھل کر سامنے آئیں۔ بڑودہ کی جامع مسجد کے موذن کے بیٹے کی شاندار کارکردگی پر والدین کی خوشی بے جا نہ تھی جو خاص طور پر پاکستان میچ دیکھنے آئے تھے۔ پاکستانی ٹیم نے لاہور ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کر دی لیکن پنڈی ٹیسٹ میں بازی اس کے ہاتھ سے نکل گئی۔ اس شکست کا اثر شعیب اختر پر پڑا اور ان کی فٹنس کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے میڈیکل کمیشن تشکیل دے ڈالا جس پر سابق کپتان عمران خان نے تنقید کرتے ہوئے اور کہا کہ اگر وہ شعیب اختر کی جگہ ہوتے تو ان پر جھوٹے الزامات عائد کرنے والوں کو عدالت میں لے جاتے۔ روایتی حریف سے ہارنے کے بعد جاوید میانداد کوچ نہ رہے اور باب وولمر نئے کوچ بنادیئے گئے۔ اپنے ہی میدانوں میں بھارت سے ہارنے کے بعد پاکستانی ٹیم نے روایتی حریف کو پھر جیتنے نہیں دیا۔ سری لنکا کے ایشیا کپ، ہالینڈ کی سہ فریقی سیریز، آئی سی سی چمپیئنز ٹرافی اور کولکتہ کے ون ڈے انٹرنیشنل کی جیت نے پاکستانیوں کی مایوسی کو بڑی حد تک کم کر دیا۔ اس سال پاکستان کے سابق کپتان وقار یونس نے بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہا اور وسیم اکرم کی طرح اب وہ بھی کمنٹری باکس میں نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت ہاکی کے کھلاڑیوں کی گولڈ میڈلز سینے پر سجانے کی حسرت دل ہی میں رہی۔ ایتھنز اولمپکس میں دونوں ٹیموں کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ کراچی میں منعقدہ جونیئر ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت نے پاکستان کو شکست دی۔ 1999 کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا انعقاد عمل میں آیا۔ اسی سیریز کے دوران پاکستان کے سہیل عباس نے انٹرنیشنل ہاکی میں سب سے زیادہ گول کرنے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کر دیا۔ دو بار ملتوی ہونے کے بعد بالآخر 2004 میں پاکستان نے سیف گیمز کی میزبانی کی۔ انتظامی معاملات کے لحاظ سے یہ کھیل بےحد کامیاب رہے لیکن پاکستانی کھلاڑی ایک بار پھر بھارتی کھلاڑیوں کی زبردست کارکردگی کے سامنے مشکلات سے دوچار رہے۔ بھارت نے پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی تمغوں کی دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل عارف حسن کو یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہ تھی کہ دنیا ہم سے بہت آگے نکل گئی ہے۔ کرکٹ اور ہاکی کے علاوہ بیڈمنٹن اور ٹینس میں بھی پاک بھارت رابطے کے نتیجے میں کھلاڑی نئے تجربے سے آشنا ہوئے۔ پاکستان کے نمبر ایک ٹینس کھلاڑی عقیل خان کو بھارت جا کر سیٹلائٹ ٹورنامنٹس کھیلنے کا موقع ملا جن میں ان کی کارکردگی بہت اچھی رہی۔ مذاکرات کے بعد جس کھیل کے ذریعے پاک بھارت تعلقات بحال ہوئے وہ سنوکر ہے۔گزشتہ برس بھارتی سنوکر ٹیم پاکستان آئی تھی مگر اس سال پاکستانی کھلاڑیوں نے بھارت کا دورہ کیا۔ پاکستانی دستے نے بلے بلے کے روایتی شور میں پٹیالہ کے پنجاب گیمز میں شرکت کی۔ 1928 کے اولمپکس میں غیرمنقسم ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے دنیا کے معمر ترین اولمپیئن فیروز خان نے کراچی میں اپنی 100ویں سالگرہ منائی۔ پاک بھارت تعلقات کی بحالی کے نتیجے میں اس سال کھیلوں کے میدانوں میں جو جوش و خروش نظر آیا اس سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ سیاست کی الجھنیں نئے سال میں اسے کم نہیں ہونے دیں گی کیونکہ انہی کھیلوں نے دوستی کے رشتے کو مضبوط کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||