BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 January, 2005, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسٹریلیا کون جائے گا ؟

ملکی سطح کے مقابلوں میں معین خان کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔
ملکی سطح کے مقابلوں میں معین خان کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔
آسٹریلیا میں ہونے والی سہ فریقی ایک روزہ سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم میں ردو بدل منگل تک متوقع ہے۔ ٹیم انتظامیہ نے آل راؤنڈر اظہر محمود اور وکٹ کیپر معین خان کو ٹیم میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے جبکہ اوپنر محمد حفیظ کی ٹیم میں شمولیت یقینی دکھائی دیتی ہے۔

ٹیسٹ سیریز کی شکست اور فٹنس مسائل نے آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم کی مایوسی میں اضافہ کردیا ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان اس صورتحال سے مایوس نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ پرتھ ٹیسٹ میں 72 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد سے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ انہیں کپتان انضمام الحق کی فٹنس پر سب سے زیادہ تشویش لاحق ہے لیکن انہیں توقع ہے کہ انضمام الحق اور محمد سمیع ایک روزہ میچ کھیلیں گے۔

وسیم باری کی سربراہی میں قائم قومی سلیکشن کمیٹی منگل تک سہ فریقی ون ڈے سیریز کے لیے پاکستانی اسکواڈ کو حتمی شکل دے گی۔ سہ فریقی ون ڈے سیریز میں شریک تیسری ٹیم ویسٹ انڈیز ہے جس نے پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں شکست دینے کے بعد فائنل میں انگلینڈ کو ہرا دیا تھا۔

وسیم باری جو ہر سلیکشن کے موقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ وہ کپتان کی مرضی کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اس مرتبہ بھی اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہیں کیونکہ کوچ باب وولمر ایک بیان میں ٹیم میں وکٹ کیپر معین خان اور آل راؤنڈر اظہر محمود کی شمولیت کی خواہش ظاہر کرچکے ہیں حالانکہ یہ دونوں کھلاڑی فارم میں نہ ہونے کے نتیجے میں ٹیم سے باہر ہیں

معین خان آخری دس ایک روزہ اننگز میں محض 95 رنز بنانے کے بعد کپتان انضمام الحق کے نہ چاہتے ہوئے بھی سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ کی ٹیم سے ڈراپ ہوئے جس کے بعد انہوں نے قائداعظم ٹرافی میں ایک بڑی اننگز کھیلی۔ لیکن دوسری جانب راشد لطیف بھی قائداعظم ٹرافی میں پچیس کیچز اور اسٹمپڈ کے ساتھ سلیکٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرچکے ہیں تاہم کپتان اور منیجمنٹ کی گڈ بک میں نہ ہونے کے سبب سلیکٹرز بھی ان کے معاملے میں کپتان کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔

باب وولمر کی اظہر محمود کے بارے میں خواہش اس لیے بھی حیران کن ہے کہ وہ ایک سال سے پاکستانی ٹیم میں اس بنا پر شامل نہیں ہوسکے ہیں کہ آخری36 اننگز میں وہ15ء67 کی بھاری بھرکم اوسط سے صرف19 وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آخری 42 اننگز میں 18ء17 کی اوسط سے صرف 567 رنز بناپائے ہیں ظاہر ہے کہ اس پرفارمنس پر وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں کس طرح واپس آسکتے ہیں لیکن باب وولمر کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک1998ء والا اظہرمحمود ہی یاد ہے۔

اوپنر توفیق عمر اور محمد حفیظ ٹیم میں شمولیت کے مضبوط دعویدار کے طور پر سامنے آئے ہیں لیکن آف اسپن کی اضافی خوبی اور شعیب ملک کی فٹنس اور مشکوک بولنگ ایکشن کے پیش نظر محمد حفیظ کی ٹیم میں واپسی یقینی دکھائی دیتی ہے۔ محمد حفیظ ایک باصلاحیت کرکٹر ہے لیکن بدقسمتی سے اسے صحیح رہنمائی نہیں ملی اور وہ سابق کوچ اور سابق چیف سلیکٹر کی چپقلش کی نذر ہوگیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد