’شکست کا اکیلا ذمہ دار نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تیز بالر شعیب اختر نے امید ظاہر کی ہے کہ دورہ آسٹریلیا میں پاکستان کی خراب کارکردگی پر انہیں موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ شعیب اختر کو وی بی سیریز کے دوران زخمی ہونے کی بنا پر واپس پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔ وی بی سیریز سے پہلے آسٹریلیا نے ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو تین صفر سے شکست دی تھی۔ اس بارے میں شعیب اختر کا کہنا تھا کہ ’ میرا خیال ہے کہ پہلے دو ٹیسٹوں میں ہم نے اچھی بالنگ کی لیکن دوسری جانب سے ہمیں مدد نہیں ملی‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں اکیلا شکست کا ذمہ دار نہیں کیونکہ کرکٹ ایک ٹیم کا کھیل ہے‘۔ شعیب اختر نے پہلے دو ٹیسٹوں میں گیارہ وکٹیں حاصل کی تھیں مگر تیسرے ٹیسٹ میں وہ کوئی وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔انہوں نے تیسرے ٹیسٹ میں صرف پندرہ اوور کرائے اور پھر زخمی ہونے کی بنا پر میدان سے باہر چلے گئے۔ بعد ازاں گابا اوول میں کھیلے گئے وی بی سیریز کے میچ میں صرف 2 اوور کروانے کے بعد ہی وہ لنگڑاتے ہوئے میدان سے باہر آ گئے تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارت کے دورے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے شعیب کو صحتیاب ہونے تک آرام کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ سڈنی ٹیسٹ کے دوران اخبارات میں شعیب اختر کی تصاویر کے اشاعت پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان کا کہنا ہے کہ وہ شعیب سے اس معاملے پر بازپرس کریں گے۔ شعیب کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ ’ مجھے اس گھٹیا تصاویری مہم سے بہت دکھ ہوا ہے اور یہ میری کردار کشی کی کوشش ہے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں سڈنی ٹیسٹ میں پورا فٹ بھی نہیں تھا لیکن میں اس لیے کھیلا کیونکہ ٹیم کو میری ضرورت تھی۔کس بالر کو فٹنس مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ہر تیز بالر کو اپنے کیرئر میں فٹنس کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔‘ گزشتہ برس بھی بھارت سے ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد شعیب کو ایک میڈیکل انکوائری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم 1999 کے بعد پہلی بار 25 فروری کو تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے میچ کھیلنے کے لیے بھارت جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||