مشرق کی قینچی، مغرب کی کُلید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغرب میں بسنے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کے اُن کی زندگی کا دارومدار صرف دو اداروں پر ہوتا ہے: بینک اور انشورنس کمپنی۔ بینک میں آپکا اکاؤنٹ گویا آپکا مالی، معاشی، معاشرتی اور ثقافتی نامہء اعمال ہے کہ اسی کے بل بوتے پر آپکو دُکاندار ادھار سودا دے گا، عمارت کا مالک فلیٹ کرائے پر دےگا اور کار کمپنی قسطوں پر کار مہیّا کرے گی۔ قرض محبت کی قینچی ہو گی دیارِ مشرق میں، مغرب میں تو محبت سے لیکر عزت، شہرت، شوکت اور حشمت تک ادھار ہی ہر چیز کی کلید ہے۔ آپکی مالی استطاعت و استقامت کا اندازہ آپکی جیب میں مال دیکھ کر نہیں بلکہ آپکی اُدھار لینے کی قوّت و صلاحیت سے لگایا جاتا ہے۔ اُدھار لینے کی یہ طاقت درجہ بہ درجہ بڑھتی ہے اور آپ زندگی میں جتنا زیادہ اُدھار لیتے ہیں، بینک کی نگاہوں میں آپ اتنے ہی وقیع اور مستند قرار پاتے ہیں۔ گویا ذی وقار ہونے کے لیئے ذی اُدھار ہونا ضروری ہے۔ چھوٹے چھوٹے قرضے لینے اور چکانے کے بعد جب آپ بڑے قرض داروں کی کلاس میں داخِل ہونا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپکی’ کریڈٹ ہسٹری‘ دیکھی جاتی ہے، یعنی یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ ماضی میں صرف کار خرید کر مطمئن ہوگئے تھے یا بعد میں قالین، فریج، صوفے او بڑی سکرین کے ٹیلی ویژن کی خاطر بھی بینک سے قرضے لیتے رہے ہیں۔
اگر اس سلسلے میں آپ ایک درخشندہ ماضی کے امین ہیں تو بینک آپکو لاکھوں کا قرضہ دینے کے لیئے تیار ہو جائے گا۔ ایک شاندار قرضہ جاتی ماضی کے بغیر آپ بینک کو نیا اُدھار دینے کے لیئے قائل نہیں کر سکتے۔ کچھ عرصہ قبل جب شرح سود اچانک بہت گِر گئی تو بینکوں کو زیادہ سے زیادہ گاہکوں کی تلاش ہوئی اور ہم جیسے بے کس و بے نوا افراد کے گھروں پہ بھی بینکوں کے دعوت نامے آنے لگے جن پر جلی حروف میں لکھا تھا: ’اُدھار لے لو اُدھار! سستا اُدھار، ارزاں قرضے آسان قسطیں ---- اس طرح کی رال ٹپکا دینے والی مخلصانہ پیشکش کون سنگدِل ٹھُکرا سکتا ہے۔ کئی بار سوچا کہ دس بیس ہزار قرضہ لے لیا جائے۔ بیوی کو بینکوں کے مرّوت نامے دکھائے تو اسکا دِل بھی پسیج گیا اور کہنے لگی ’ہم تو خوامخواہ بینک والوں کو بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں، دیکھو تو سہی کیسے بھلے آدمی ہیں‘ چنانچہ ہم دونوں نے تجربے کے طور پر پندرہ ہزار پاؤنڈ ادھار لینے کی درخواست داغ دی۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ درخواست اگلے ہی روز منظور ہو جائے گی اور رقم ہمارے مشترکہ اکاؤنٹ میں پہنچ جائے گی بیوی کہنے لگی’ کاش بیس ہزار مانگ لیئے ہوتے۔‘ ہم نے نہلے پہ دہلا مارا کہ بیس کیا چالیس بھی مانگتے تو ضرور مل جاتے۔ تھوڑے سے غوروفکر کے بعد بیوی نے مدّبرانہ انداز میں کہا ’بھئی گھر میں پیسہ ہو تو کبھی نہ کبھی کام آ ہی جاتا ہے‘ ’کِتنا سود ادا کرنا ہے؟‘ بیوی نے تشویش سے پوچھا۔ میں نے حساب کتاب کر کے رقم بتائی تو بیگم بھِنّا کے رہ گئیں۔ بولیں یہ تو تم نے نہیں بتایا تھا کہ اس پر ہمارا ماہوار خرچہ بھی ہوگا۔ کہا کہ آخر بینک والوں نے کوئی خیرات خانہ تو نہیں کھول رکھا، وہ بھی تو چار پیسے کمانے کے لیے ہی بازار میں بیٹھے ہیں۔
بیگم نے بھی انگلیوں پر حساب کتاب کر کے کچھ نتیجہ نکالا اور حکم دیا کہ کل ہی یہ قرضہ واپس کر دو۔ خریدا ہوا مال واپس کرنے کے سلسلے میں یہ فقیر خاصا شرمیلا واقع ہوا ہے چنانچہ پچھلے چار برس سے غلط سائز کے جوتے گتّہ پھنسا کر پہن رہا ہے لیکن انہیں واپس کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ جب بیوی نے محسوس کیا کہ میں قرض واپس کرنے سے گریزاں ہوں تو انتہائی تشویش بھرے لہجے میں بولی ’اور تو کوئی بات نہیں لیکن مجھے یہ جان کر بہت دُکھ ہوا کہ وہ بینک یہودیوں کا ہے۔‘ ’دُنیا بھر کے بینک یہودیوں ہی کے ہیں بھلی لوگ، اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔‘ اگلے روز بیگم نے دلائل کا ایک نیا تھیلا کھول لیا اور قرض کے خلاف بزرگوں کے اقوالِ زرّیں سے لیکر یہودی سود خوروں کے خلاف ہِٹلر کی شعلہ فشاں تقریروں کے اقتباسات تک سُنا دیئے۔ میں کسی بھی طرح قائل نہ ہوا تو بیگم نے آخری حربے کے طور پر وہ دلیل پیش کی جو غالباً اسے سب سے پہلے پیش کرنی چاہیئے تھی۔ ’سوباتوں کی ایک بات – سود حرام ہے، لینے والا بھی جہنمی اور دینے والا بھی جہنمی۔‘ خیر بینک مالکان کے جہنم رسید ہونے پر تو مجھے کیا اعتراض ہوسکتا تھا لیکن خود اپنا مستقبل شعلوں کی لپیٹ میں دیکھ کر میں نے قرضہ لوٹانے کی ٹھان لی۔ اگلے روز بینک سے رابطہ کیا تو وہ کہنے لگے جلدی کیا ہے، ابھی تو پانچ برس پڑے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں قرضے کا بوجھ سر پہ لےکر جینا نہیں چاہتا۔ میرے بہت اصرار ہر انہوں نے قرضہ تو واپس لے لیا لیکن پانچ سال کے سود کا بِل مجھے روانہ کر دیا۔ میں آج تک اُس سود کی قسطیں ادا کر رہا ہوں یعنی نیکی برباد اور گناہ لازم۔ بینکوں کی چِیرہ دستیاں ایک ایسا موضوع ہیں کہ مغرب میں آباد ہر شخص کے دِل پر اسکے داغ دیکھے جا سکتے ہیں۔ برس ہا برس تک بینکوں کے چرکے کھانے کے بعد بلآخر قدرت نے انتقام لینے کا ایک سنہری موقعہ عطا کیا۔ ’سو دِن بینک کے، ایک دِن کسٹمرکا‘
کرنا خُدا کا یوں ہوا کہ بینک سے پانچ سو پاؤنڈ کیش نکلوانا تھا۔ پرچی بھر کے دے دی، تھوڑی دیر میں کھڑکی پہ موجود مدراسی لڑکی نے نوٹوں کی ایک گڈّی مجھے تھما دی۔ میں نے بھی بے دھیانی میں لے کر جیب میں رکھ لی لیکن دروازے پر پہنچ کر احساس ہوا کہ کچھ گڑ بڑ ہوئی ہے، بینک والوں نے میرے ساتھ کوئی دھوکا کیا ہے۔ ایک کونے میں جا کر جیب سے نوٹ نکالے تو واقعی معاملہ گڑ بڑ تھا: بینک والی نے نہ جانے کِس جھونک میں دس دس کی بجائے بیس بیس کے نوٹ گِن دیئے تھے، گویا اُس نے جو رقم پانچ سو کے طور پر ادا کی وہ دراصل ایک ہزار پاؤنڈ تھے۔ عمر بھر بینکوں کا جبر و ستم سہنے والے شخص کو پہلی بار موقع ملا تھا کہ کروڑوں اربوں میں کھیلنے والے ایک عالمی ادارے کو پانچ سو پاؤنڈ کا صدمہ پہنچا سکےاور یہ اوّلین موقع تھا کہ اس صریح بے ایمانی پر اپنے مسٹر ضمیر صاحب بھی چُپ سادھے رہے۔۔۔ آخر وہ بھی تو ہم پر ہونے والی بینکوں کی ستم کاریاں عرصہ دراز سے دیکھ رہے تھے۔ ضمیر کی ملامت سے تو بچ نکلے لیکن یقین تھا کہ بیگم جی بھر کے لعن طعن کریں گی، مگر حیرت ہوئی کہ انہوں نے بھی بُرا سا منہ بنا کر صرف اتنا کہا ’ایسے بینک کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہیئے۔‘ اگلے روز ہم بے ایمانی کی اُس زائد کمائی کو سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کرانے کےلیئے بینک گئے تو دیکھا کہ سانولی رنگت کی وہ پستہ قد مدراسی لڑکی آنکھوں میں آنسو لیئے بیٹھی ہے جِس نے ایک روز پہلے ہماری مالی حالت مستحکم کی تھی۔ میری بیوی نے حال احوال پوچھا تو وہ پھٹ پڑی کہ کل مجھ سے حساب کتاب میں گڑبڑ ہوگئی اور شام کو بیلنس میں پانچ سو پاؤنڈ کا فرق نکل آیا، ساری رات لیجر کھنگالتے گزر گئی، کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ رقم کہاں گئی۔ اب یا تو میری تنخواہ میں سے کاٹ لیں گے یا پھر شاید ہمیشہ کے لیئے بینک سے میری چھُٹی ہو جائے۔ اس کے بعد لڑکی نے زاروقطار رونا شروع کر دیا۔ میری بیوی بھی عجیب عورت ہے، گھر سے خریداری کے کیا کیا منصوبے بنا کر چلی تھی اور مدراسن کو روتا دیکھ کے فوراً بولی ’لو کمال ہوگیا، ہم تو اسی سلسلے میں تمھارے پاس آئے ہیں۔ کل میرے میاں پانچ سو نکلوا کے لے گئے تھے، گھر جاکر گِنے تو ایک ہزار نکلے۔ میں تو اُسی وقت واپس کرنا چاہتی تھی مگر بینک بند ہو چکا تھا۔ ‘ لڑکی نے آنکھیں پونچھ ڈالیں اور انتہائی ممنونیت سے مجھے دیکھنے لگی اور میں نے بھی چہرے پر ’یہ تو میرا فرض تھا‘ والی سنجیدہ سی مسکراہٹ چسپاں کر لی۔ لڑکی کی مدد کرنے پر ایک روحانی سی تسکین تو ضرور ہوئی لیکن بینک کے خلاف میری نفرت میں کئی گُنا اضافہ ہو گیا اور میں نے تہیہ کر لیا کہ بینک سے انتقام لینے کا اگلا موقع ہرگز ہرگز ضائع نہیں کروں گا۔ |
اسی بارے میں پاکستان کو چھ ارب ڈالر کا قرضہ02 June, 2006 | پاکستان حلال قرض کیا ہوتاہے؟23 May, 2006 | Poll سیاسی جماعتوں کے خفیہ قرضے بند20 March, 2006 | آس پاس 60 فیصد قرضے،40 فیصد امداد06 December, 2005 | پاکستان اٹھارہ افریقی ملکوں کے قرضے معاف 25 September, 2005 | آس پاس امریکہ: دو ارب ڈالر روزانہ قرضہ03 August, 2005 | آس پاس جی آٹھ منصوبے پر عالمی ردِعمل12 June, 2005 | آس پاس ’غریب ترین ملکوں کے قرضے معاف‘11 June, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||