اٹھارہ افریقی ملکوں کے قرضے معاف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے دنیا کے اٹھارہ انتہائی غریب ملکوں کے قرضے معاف کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اتوار کو واشنگٹن میں ہی عالمی بینک کے رکن ممالک کے وزرائے خزانہ اور ترقی کے ایک اجلاس میں ان ملکوں کے مزید قرضے معاف کرنے پر غور ہوگا۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاسوں میں ان قرضوں کی معافی پر غور اُن تجاویز کی روشنی میں ممکن ہوا جو اس سال جولائی میں دنیا کے بڑے صنعتی ملکوں کی تنظیم جی ایٹ کے سکاٹ لینڈ میں ہونے والے اجلاس میں منظور کی گئیں تھی۔ آئی ایم ایف پر عملدرآمد اس سال کے آخر میں شروع ہوگا۔ قرضوں کی معافی کے لیے مہم چلانے والوں کو امید ہے کہ عالمی بینک بھی آج قرضوں کی معافی کے حق میں فیصلہ کرے گا۔ برطانوی حکام کے مطابق اس فیصلے سے غریب ملکوں کو ایک سے ڈیرھ ارب روپے کی سالانہ بچت ہوگی جو وہ قرضے چکانے میں خرچ کرتے ہیں۔ اس طرح بچنے والی رقم کو غربت کے خاتمے پر خرچ کیا جائے گا۔ اگرچہ اس فیصلے کا فوری فائدہ اٹھارہ ملکوں کو ہوگا جن کی اکثریت براعظم افریقہ میں ہے تاہم توقع ہے کہ بعد میں بیس دوسرے ممالک بھی اس فیصلے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||