BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 July, 2005, 21:12 GMT 02:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لائیو ایٹ: سُر اور سیاست کا ملاپ

شیراک، بلیئر اور بش
دنیا کے امیر ترین ممالک کے سربراہان کو پیغام دیا جائے گا کہ وہ غربت کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کریں
دنیا کے آٹھ امیر ترین ممالک کی سکاٹ لینڈ میں ہونے والی سربراہ کانفرنس پر اخلاقی دباؤ ڈالنے کے لیے آج لندن میں لائیو ایٹ سلسلے کا کنسرٹ کئی سیاسی اور فنی اختلافات کے باوجود ایک تاریخی کامیابی ثابت ہوا۔

لندن کے ہائیڈ پارک میں منعقد یہ کنسرٹ ان دس کانسٹس میں سے ایک تھا جو دنیا کے مختلف شہروں میں ’غربت کو ماضی بنادو‘ مہم کے موقع پر بیک وقت منعقد کئےگئے۔

ان شہروں میں ٹوکیو، جوہانسبرگ، پیرس، روم، برلن، ماسکو، ایڈن پروجیکٹ کورنویل اور فلاڈیلفیا اور کینیڈا کا شہر بیری بھی شامل تھے۔

لندن کا کانسرٹ جب ہائیڈ پارک میں شروع ہوا تو آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے لیکن درجہ حرارت چوبیس ڈگری سیلسیس ہونے کی وجہ سے موسم اس طرح کے کھلے کنسرٹ کے لیے شاندار تھا۔

کنسرٹ کے منتظمین اور لندن میٹروپولیٹن پولیس کا اندازہ تھا کہ یہاں کم از کم دو لاکھ افراد کا اجتماع ہوگا لیکن شائقین کی تعداد اندازوں سے کہیں زیادہ رہی۔

ان میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جنہوں نے ہائیڈ پارک سے متصل پارک لین اور بیز واٹر روڈ سے ملحقہ عمارات کی چھتوں اور پارک کے باہر لگے مجسموں اور درختوں پر چڑھ کر دنیائے موسیقی کے ان بڑے ناموں کو اپنی زندگی کی بہترین پرفارمنس دیتے ہوئے دیکھا۔

اتنا بڑا مجمع ہونے کے باوجود شائقین نے نہائت نظم وضبط کا مظاہرہ کیا۔ پہلا شو جاپان کے شہر ٹوکیو میں برطانوی وقت کے مطابق صبح چھ بجے شروع ہوا۔

اس کنسرٹ میں آئس لینڈ کی گلوکارہ، بیورک اور برطانوی بوائے بینڈ میک فلائی نے مقامی فنکاروں کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد ساوتھ افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں شو شروع ہوا ۔

لندن کے کانسرٹ میں پاپ موسیقی کی دنیا کے سب سے مشہور نام شامل تھے۔ ان میں بیٹلز کے سابق رکن، سر پال میکارٹنی، سر ایلٹن جان، سر باب گیلڈوف، یوٹو، میڈونا، سٹنگ، ٹریوس، رابی ولیمز، آر ای ایم، ڈائی ڈو، یوبی فورٹی اور پنک فلائیڈ محض چند نام ہیں۔

اس شو کی خاص بات ستر کی دہائی میں دنیا بھر میں بے پناہ شہرت حاصل کرنے والے پنک فلائیڈ بینڈ کے ارکان کا صرف اس شو کے لے یک جاں ہونا بھی تھا۔

براہ راست سیٹلائیٹ رابطے نے ان تمام کنسرٹس کو ملاکر ایک بہت بڑے عالمی شو میں بہت ہی کامیابی سے تبدیل کیا جس میں تمام شائقین نے موسیقی اور غربت کے خلاف پیغامات کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان، جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا اور مائیکروسوفٹ کمپنی کے مالک بل گیٹس کے پیغامات سنے۔

اس عالمی سطح کے کنسرٹ کا انعقاد کروانے میں تین نام بہت اہم ہیں۔ ان میں سر باب گیلڈاف ، آئیر لینڈ کے بینڈ یو ٹو کے گلوکار بونو اور برطانوی فلمی مصنف اور ہدایتکار رچرڈ کرٹس شامل ہیں۔ لائیو ایٹ کانسرٹ نے بیس سال قبل لائیو ایڈ کانسرٹ کی یاد تازہ کروادی۔

سر باب گیلڈاف نے لائو ایڈ کانسرٹ افریقہ کے قحط زدہ عوام کی امداد کے لئے رقم اکھٹا کرنے کے لئے منعقد کروایا تھا جس میں دنیائے پاپ موسیقی کے اس دور کی تمام ہی بڑی شخصیتوں نے ان کا ساتھ دیا تھا۔

لائو ایٹ اس حوالے سے مختلف نہیں تھا۔ لیکن اس میں شامل فنکاروں کی تعداد اور شائقین نے اسے ایک تاریخی موقع بنادیا ہے جس کے حوالے یقیناً ایک طویل عرصے تک دئیے جائینگے۔

منتظمین کا خیال ہے کہ اس شو کو دنیا کے پانچ بلین افراد دیکھیں گے اور یوں دنیا کی آبادی کا اسی فیصد بلواسطہ یا بلاواسطہ اس عالمی شو کے کسی نہ کسی حصے کو ضرور دیکھے گا۔

66جی ایٹ اجلاس
ضمیمہ: جی ایٹ سے آپ کیا امید کرتے ہیں؟
66جی ایٹ کیا ہے؟
جی ایٹ کا قیام انیس سو ستّر کی دہائی میں ہوا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد