60 فیصد قرضے،40 فیصد امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزیرِاعظم شوکت عزیز کا کہنا ہے کہ زلزلہ متاثرین کے لیے چھ اعشاریہ دو بلین امریکی ڈالر کی امدادی پیشکشں میں سے ساٹھ فیصد قرضے اور چالیس فیصد امداد ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے وسائل اکٹھے کرنے کی غرض سے اٹھارہ نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والی ’ڈونرز کانفرنس‘ میں کی گئی پیشکشوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کسے قبول کریں اور کسے مسترد۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہم قرضوں کی شکل میں ملنے والی امداد کی پیشکشوں کا ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ کون کون سی ہمارے مفاد میں ہیں‘۔ پیر کے روز ملتان میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حزب مخالف کے رہنماؤں کا خیال تھا کہ ڈونرز کانفرنس ناکام رہے گی اور اس بات کا اظہار وہ ٹیلی ویژن چینلز پر تواتر سے کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ’ موجودہ حکومت کی ساکھ بین الاقوامی طور پر بہتر ہونے کی وجہ سے کانفرنس توقع سے بھی بڑھ کر کامیاب رہی‘۔ وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جاسکتی کیونکہ تیل کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھنے کے لیئے حکومت پہلے ہی اس مد میں ساٹھ ارب روپے کا خسارہ برداشت کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں تیل کی قیمتیں اب بھی علاقے کے دوسرے ممالک سے کم ہیں۔ | اسی بارے میں ’سردی ہزاروں کو مار دے گی‘25 November, 2005 | پاکستان ’اب ایک اور سانحے کا خدشہ‘25 November, 2005 | پاکستان ’خوراک ذخیرہ کرنا پہلی ترجیح‘25 November, 2005 | پاکستان ’13 لاکھ افراد کو خوراک پہنچانا ہے‘25 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||