| تئیس مئی: ’حلال قرض کیا ہوتاہے؟‘ |
کسی نے خوب کہا ہے کہ مغرب پر راج کرنا ہو تو علم اور منطق کا سہارا لیں اور مسلمانوں پر اپنی دھاک بٹھانی ہو تو مذہب کا ہتھیار استعمال کریں۔ یہ وہ تعویز ہے جس کو پلو میں باندھ کر رکھنا چاہے۔میں اس بات کی شہادت دے سکتی ہوں کہ مسلمان صارفین کو آمادہ کرنے کے لیے بعض مغربی بنکوں نے انتہائی موثر ہتھار استعمال کیا ہے۔ آج پانچویں بار حلال بینکنگ والا خط موصول ہوا۔ مجھے حلال قرض لینے پر مائل کیا جارہا ہے۔ یوروپی بینکوں نےقرض لینے کی اتنی سہولت دے رکھی ہے کہ آپ اپنی جسم وجان سے لے کر جائداد تک سب کچھ گروی رکھ سکتے ہیں۔ اگر گروی رکھنے کےلۓ کچھ نہیں تو اپنا مستقبل رہن رکھ سکتے ہیں ۔ میں نے حلال گوشت، حلال روزی اور حلال بچے والا سبق بچپن سے سیکھا تھا مگر حلال قرض یا حلال سود کیا ہوتا ہے کسی امام نے اس کی صحیح تشریح نہیں کی تھی۔ شاید اسی لئے مغربی بینکوں نے اب یہ بوجھ اپنے سر لے کر مسلمانوں کو حلال قرض دینے کا بیڑا اٹھایاہے اور مجھے ان لوگوں میں شامل کردیا گیا ہے۔ میں نے سوچا بغیر سود کے قرض مل جائے تو کیا حرج ہے۔ بڑی ہمت کرکے میں نے بینک والے سے حلال سود کے بارے میں تفصیلات جاننا چاہیں۔ وہ قرض پر سود حاصل کریں گے لیکن وہ حلال ہوگا یا اگر میں کوئی کھاتہ کھولوں تو اس پر حلال شرح سود ہوگا۔ ان کا جواب دائروں میں گھومتا رہا۔ میرے پلے کچھ نہیں پڑا۔ حساب و کتاب بچپن سے کمزور ہے۔ ہاں یہ بات صیح ہے کہ بینک والے اور اپنے اس قصائی کے درمیان کوئی فرق نہیں جو ہر مسلمان کوحلال گوشت کھلا رہا ہے مگر کسے معلوم کہ حلال کیا ہے یا حرام کیا؟
نوید عاصم، سعودی عرب دین ہو یا دنیا، بغیر علم کے کچھ ہاتھ نہیں آیے گا۔۔۔آج کل جو مذہب کے ٹھیکیدار ہیں اگر وہ دین کا علم ہی سیکھ لیتے تو آج یوں اسلام کو بدنام نہ کرتے۔۔۔علم، علم، علم سیکھیں۔۔۔عبدل الیم، جاپان یہاں جاپان میں حلال فوڈ شاپ پر انڈین ویڈیو فلمیں بھی ملتی ہیں۔ وہ جب میں لے کر آتا ہوں تو میرے جاپانی دوست کہتے ہیں کہ یہ حلال فوڈ کے ساتھ حلال ویڈیو لائے ہو کیا؟ شاہدہ اکرم، ابو ظہبی نعیمہ جی آپ کا حساب کتاب جیسا بھی رہا ہو، بات صرف کتاب تک محدود نہیں۔۔۔چلو اچھا ہے اب انگریز بھی حلال، حرام کے چکر میں پڑ جائیں گے۔۔۔ اظفر خان، ٹورانٹو نعیمہ جی اگر آپ کے والدین نے آپ کو حلال اور حرام میں فرق نہیں بتایا تو ہم کیا کریں؟ |