ہم کتنے بھوکے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بہت یاد آ رہا ہے۔ کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ وجوہات کا ایک پورا پلندہ ہے۔ ساتھ ساتھ کچھ موڈ بھی خراب ہے، بلکہ غصہ ہے شاید۔ کسی ایک پر نہیں سب پر۔ ان لوگوں پر جن کی زبانیں بند ہیں اور ان لوگوں پر بھی جن کی بہت زیادہ کھلی ہیں۔ وہ جو سب دیکھ کر خوش ہیں اور وہ بھی جو آنکھیں بند رکھ کر خوش رہنا چاہتے ہیں۔ سڑکوں پر آ کر جانیں دینے والوں پر بھی اور کمروں میں بند رہ کر گھٹ کر مرنے والوں پر بھی۔ ’کراچی میں بم دھماکہ ہو گیا، کتنے لوگ مر گئے، اوہ۔ آج کھانے میں کیا لیں گے۔ بریانی پکا لیں‘۔ گھن آتی ہے۔ پاکستان بہت یاد آ رہا ہے۔ گرمی ہے، بہت گرمی ہے۔ لوگ مر رہے ہیں، پینے کو پانی نہیں اور جو ہے وہ بھی زہر اور ایسے میں ’ارباب رہے گا یا ایم کیو ایم۔ کون کس کی سمری پر دستخط کرے گا‘۔ حکومت نے گزشتہ چار سال میں القاعدہ سے تعلق رکھنے کے شبہے میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک کیے اور اس سے زیادہ تعداد میں گرفتار۔ کہاں کسی اور ملک میں؟ ٹمبکٹو میں یا کہیں اور۔ اپنے ہی ملک میں ہزاروں ہلاک اور گرفتار۔ بمباری، گھر تباہ، اموات، بے مکانی۔ یہ سب کچھ ذہنوں سے نکل سکے گا۔ یا ’وقت ہر زخم ہر غم کو بھلا دیتا ہے‘۔ کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ یہ سوچے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر معصوم لوگوں کی ہلاکتوں کا ذکر، حکومت ناراض۔ جہادیوں کی بے وجہ اور لا حاصل جنگ پر تنقید، جہادی ناخوش۔ کیا کوئی بیچ کا راستہ نہیں۔ کیا مذہب کے لیئے دوسرے کو مارنا ضروری ہے۔ کیا میں اپنے اچھے اخلاق سے کسی کو متاثر نہیں کر سکتا۔ میں کیوں اپنے ہمسائے کو خوش دیکھ کر خوش نہیں رہ سکتا۔ یا اس کی خوشی سے مجھے آخر کیا مسئلہ ہے۔کیا وہ زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور ہے۔ اگر پاکستان میں کسی بدامنی، کسی برائی یا اس کے کسی پاکستانی لالچی حکمران کی کارستانی یا اسکی ملکی مفاد کے خلاف کسی پالیسی پر اگر مجھے غصہ آتا ہے یا کسی نام نہاد جہادی کی قتل وغارت گری سے میرا خون کھولتا ہے تو میں ملک دشمن کیسے ہو گیا۔ یا مجھ پر ملک کے خلاف ہی لکھنے کا الزام کیوں۔ یہ دکھ ہے، غصہ ہے، شرمندگی ہے اور دعا ہے۔ یہ دعا ہے کوئی گلہ نہیں میری آرزو ہے خدا کرے میری زندگی اک گلاب پاکستان بہت یاد آ رہا ہے۔ (آپ کو لگتا نہیں کہ بہت ساری چیزیں اکٹھی دماغ میں گھس گئیں ہیں)
|
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||