جادو کےدیگر عجیب قصے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے سال ہمارے والدین کے ہاں عجیب سا قصہ ہوا۔ کسی نے یہ بتایا کہ گھر کے دو افراد پر کچھ ’عمل‘ ہوا ہے۔ اس کے بعد چھت پر واقع پانی کی ٹنکی کے نیچے سے عجیب سا گودڑ، مٹی اور تعویز نکلے۔ ٹینک کے اندر سے ایک چاقو لٹکا ہوا ملا، گیٹ کی دہلیز پر خون کے دھبے نظر آئے۔ گھر والے حیران ہو گئے۔ سمجھ نہیں آئی کہ یہ سب ہے کیا۔ آخر پڑوس میں رہنے والے ایک بزرگ سے پوچھا جو کہ لوگوں کے لیے دعا کیا کرتے ہیں۔ انہیں یہ عـجیب چیزیں دکھائیں، وہ تعویز جن پر گھر کے تین افراد کے نام صاف صاف لکھے تھے۔ انہوں نے ہمیں اپنے ایک ساتھی کا فون نمبر بتایا کیونکہ ان کو ایسی چیزوں کے توڑ کا علم تھا۔ ان صاحب نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہاں کسی نے کوئی کالا عمل کیا ہے لیکن اس شخص کی شناخت کرنے سے انکار کر دیا۔ ہم نے بھی اپنی طرف سے دعا وغیرہ پڑھیں اور گھر کے چار لوگ تو ویسے بھی پابندی سے نماز پڑھتے تھے۔ جب لوگوں سے ذکر کیا تو معلوم ہوا کہ بہت سے جانے والوں کے ساتھ اس طرح کے قصے ہو چکے تھے۔ یعنی یہ عام سی بات ہو گئی تھی۔ ہم میں تعلیم، جدید زندگی اور دین ایمان نے مل کر یہ تاثر پیدا کر دیا تھا کہ ایسی چیزیں کم ہی ہوتی ہیں۔ لیکن شاید یہ اس دنیا کا ایک مضبوط حصہ ہیں۔ سوچا کہ یہ ہماری سر زمین کا ہی مسئلہ ہے لیکن پھر ہانگ کانگ میں بیٹھی ایک امریکی ’سائکِک‘ نے پاکستان کے اس گھر کے بارے میں ساری یہی باتیں بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا ذمہ ایک جن نما چیز (بقول ان کے ایک’اینٹِٹی‘) ہے جسے اس زمین پر گھر بنانے کے کام سے تکلیف پہنچی ہے۔ امریکی خاتون نے بتایا کہ اس طرح کی چیزیں امریکہ میں بھی عام ہیں اور ان کا ’علاج‘ کرنے والے بہت موجود ہیں۔ مجھے یہ سن کر ’ایمیٹی ویل ہارر‘ فلم و کتاب کی کہانی یاد آگئی۔ یقین مانیے کہ اس کے بعد نیو زی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک ’سائکِک نے بالکل یہی باتیں بتائیں اور ہمیں تو حیرانی ہوئی کہ بین الاقوامی سطح پر اس چیز میں کتنا پروفیشنل اتفاق پایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہوگا تو وہ ہی جو خدا بہتر سمجھےگا اور ہم تو صرف ہمت و حوصلے سے کام لے سکتے ہیں لیکن یہ غور کرنے کی بات ہے کہ کائنات کے ایک پورے علاقے سے ہم لوگ زیادہ تر نا واقف ہیں۔ ہر چیز کا وجود اس کے ظاہر ہونے کے ثبوت سے نہیں، یہ تو ہمیں معلوم ہے۔ مثلاً ’ریڈیو ویوز‘ ہمیں دکھائی نہیں دیتیں لیکن ان کے وجود کے بارے میں ہم جانتے ہیں۔ اور مجھے یہ ایک بہت دلچسپ بات لگی ہے کہ اس عمل اور اس کے توڑ کرنے کے ماہرین دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں۔ ایسی باتوں کے بارے میں مجھ جیسے لوگ لا علمی کے شکار ہیں۔ لیکن شاید ہمیں ان کو پہچان لینا چاہیے اور یوں ہم ایسے قصوں سے کم گھبرائیں گے۔
عبدالوحید خان، برمنگھم، برطانیہ آپ نے ٹھیک کہا کہ یہ جادو ٹونے والے ہر جگہ موجود ہیں۔ یقین کریں یہاں برطانیہ میں بھی ایسے لوگ بڑی تعداد میں ہیں۔ ویسے جادو ٹونا کرنا سخت گناہ ہے لیکن کیا کیا جائے کہ یہ چیزیں ہر حصے میں ہیں۔ جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان شاہدہ اکرم، ابو ذہبی، متحدہ عرب امارات وحید ایاز، کراچی، پاکستان
کراچی پہنچ کر میں حفاظت کے بارے میں کافی سوچتی رہی۔ حفاظت یعنی حفاظت حسین، ایک ایسا شخص جس کا کئی برسوں تک ہمارا ساتھ رہا۔ والدین نے جب اپنا مکان خریدا تو کچھ ہفتوں کے لیئے چوکیدار کی ضرورت پڑی۔ لوگوں سے پچھوایا تو کسی نے کہا کہ ہے ایک شحض، بہت شریف اور اچھا آدمی ہے۔ اس کا نام جب سنا تو لگا کہ یہ ایک اچھا شگون ہے کہ چوکیدار کا نام ہی حفاظت ہو! وہ کچھ ہفتے بارہ سال بن گئے۔ دنیاوی چیزوں میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی حفاظت کو اور وہ خاصے نمونے شخص تھے۔ بنیان اور تہمد پہنے پھرتے تھے اور انگریز راج کے قصے سنانے کا بڑا شوق تھا۔ خود کلکتے میں ریلوے کے ملازم رہے تھے اور ہر سال ہندوستان جاکر ریل پر مفت سیر کرتے تھے اور اپنے تمام دوستوں سے جا کر ملتے۔ بہت سال پہلے ہم نے ایک کتا رکھا۔ چھوٹا سا تھا جب اسے لائے اور اسے ’ٹرین‘ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک دن حفاظت بھاگے بھاگے آئے اور خوشی سے بتانے لگے ’ہم نے کتے کو بھونکنا سکھا دیا!’ ہم نے کتے کو بھونکنا سکھا دیا!‘ اسی طرح جب بجلی کا کبھی جنریٹر چلاتے تو پٹرول ڈال کر وہ چلتا لیکن بجلی آنے پر اس کاکنیکشن ہٹا کر پھر بجلی آن کرنی پڑتی تھی۔ بجلی کے آنے کی اطلاع دینے کے لیے پھر حفاظت بھاگے بھاگے آتے اور اعلان کرتے ’حکومت کی بجلی آگئی، حکومت کی بجلی آگئی۔‘ میری شادی جب ہوئی تو رخصتی پر نہ میں روئی نہ میرے والدین، البتہ جب ہم گھر سے خدا حافظ کہہ کر ائیرپورٹ کے لیے روانہ ہورہے تھے تو حفاظت بہت روئے۔ موٹے موٹے آنسووںکے ساتھ۔ ’چھوٹا بابو جا رہا ہے۔‘ حفاظت چار سال پہلے اس دنیا سے چل بسا۔ آخری وقت تک کسی کا محتاج نہ ہوا۔ چلتا پھرتا، آخری وقت تک خود کماتا رہا۔ ’بابو‘ نے عزت اور ایمانداری سے اپنی زندگی گزاری۔ اپنے بچوں کو بھی یہی سبق سکھائے اور خیر سے اب اس کے بیٹے اپنا اپنا کاروبار کر رہے ہیں اور تمام پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں پڑھائی میں لگے ہوئے ہیں۔ اکثرحفاظت کی یاد آتی ہے۔ اچھے اور مخلص انسانوں سے جب ہمارا واسطہ پڑے تو ہمیں ان کی قدر ضرور کرنی چاہیے۔
علی رضا، سویڈن حیرت ہوتی ہے جب لوگ اپنی آراٌ دیتے ہوئے اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ کاش ایم اکرم صاحب بھی اپنے دل کی بات تہذیب کے دائرے میں رہ کر کرتے یا پھربی بی سی والے ہی کچھ نوک پلک سنوار دیتے۔یہاں لکھا تو ہے کہ بی بی سی آپ کی آراٌ میں چھانٹ کر سکتی ہے۔ شاہدہ اکرم، ابو ظہبی، متحدہ عرب امارات عبد الوحید خان، برمنگھم، برطانیہ محمد اکرام، برطانیہ فیصل تقی، کراچی، پاکستان ڈاکٹر حسن، پیرس، فرانس |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||