BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جادو کےدیگر عجیب قصے

تعویز


پچیس مئی: جادو اور دیگر عجیب باتیں

پچھلے سال ہمارے والدین کے ہاں عجیب سا قصہ ہوا۔

کسی نے یہ بتایا کہ گھر کے دو افراد پر کچھ ’عمل‘ ہوا ہے۔ اس کے بعد چھت پر واقع پانی کی ٹنکی کے نیچے سے عجیب سا گودڑ، مٹی اور تعویز نکلے۔ ٹینک کے اندر سے ایک چاقو لٹکا ہوا ملا، گیٹ کی دہلیز پر خون کے دھبے نظر آئے۔

گھر والے حیران ہو گئے۔ سمجھ نہیں آئی کہ یہ سب ہے کیا۔ آخر پڑوس میں رہنے والے ایک بزرگ سے پوچھا جو کہ لوگوں کے لیے دعا کیا کرتے ہیں۔ انہیں یہ عـجیب چیزیں دکھائیں، وہ تعویز جن پر گھر کے تین افراد کے نام صاف صاف لکھے تھے۔ انہوں نے ہمیں اپنے ایک ساتھی کا فون نمبر بتایا کیونکہ ان کو ایسی چیزوں کے توڑ کا علم تھا۔

ان صاحب نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہاں کسی نے کوئی کالا عمل کیا ہے لیکن اس شخص کی شناخت کرنے سے انکار کر دیا۔ ہم نے بھی اپنی طرف سے دعا وغیرہ پڑھیں اور گھر کے چار لوگ تو ویسے بھی پابندی سے نماز پڑھتے تھے۔

جب لوگوں سے ذکر کیا تو معلوم ہوا کہ بہت سے جانے والوں کے ساتھ اس طرح کے قصے ہو چکے تھے۔ یعنی یہ عام سی بات ہو گئی تھی۔

ہم میں تعلیم، جدید زندگی اور دین ایمان نے مل کر یہ تاثر پیدا کر دیا تھا کہ ایسی چیزیں کم ہی ہوتی ہیں۔ لیکن شاید یہ اس دنیا کا ایک مضبوط حصہ ہیں۔ سوچا کہ یہ ہماری سر زمین کا ہی مسئلہ ہے لیکن پھر ہانگ کانگ میں بیٹھی ایک امریکی ’سائکِک‘ نے پاکستان کے اس گھر کے بارے میں ساری یہی باتیں بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا ذمہ ایک جن نما چیز (بقول ان کے ایک’اینٹِٹی‘) ہے جسے اس زمین پر گھر بنانے کے کام سے تکلیف پہنچی ہے۔

امریکی خاتون نے بتایا کہ اس طرح کی چیزیں امریکہ میں بھی عام ہیں اور ان کا ’علاج‘ کرنے والے بہت موجود ہیں۔ مجھے یہ سن کر ’ایمیٹی ویل ہارر‘ فلم و کتاب کی کہانی یاد آگئی۔

یقین مانیے کہ اس کے بعد نیو زی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک ’سائکِک نے بالکل یہی باتیں بتائیں اور ہمیں تو حیرانی ہوئی کہ بین الاقوامی سطح پر اس چیز میں کتنا پروفیشنل اتفاق پایا جاتا ہے۔

ظاہر ہے کہ ہوگا تو وہ ہی جو خدا بہتر سمجھےگا اور ہم تو صرف ہمت و حوصلے سے کام لے سکتے ہیں لیکن یہ غور کرنے کی بات ہے کہ کائنات کے ایک پورے علاقے سے ہم لوگ زیادہ تر نا واقف ہیں۔ ہر چیز کا وجود اس کے ظاہر ہونے کے ثبوت سے نہیں، یہ تو ہمیں معلوم ہے۔ مثلاً ’ریڈیو ویوز‘ ہمیں دکھائی نہیں دیتیں لیکن ان کے وجود کے بارے میں ہم جانتے ہیں۔

اور مجھے یہ ایک بہت دلچسپ بات لگی ہے کہ اس عمل اور اس کے توڑ کرنے کے ماہرین دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں۔

ایسی باتوں کے بارے میں مجھ جیسے لوگ لا علمی کے شکار ہیں۔ لیکن شاید ہمیں ان کو پہچان لینا چاہیے اور یوں ہم ایسے قصوں سے کم گھبرائیں گے۔


آپ کی رائے

عبدالوحید خان، برمنگھم، برطانیہ
آپ نے ٹھیک کہا کہ یہ جادو ٹونے والے ہر جگہ موجود ہیں۔ یقین کریں یہاں برطانیہ میں بھی ایسے لوگ بڑی تعداد میں ہیں۔ ویسے جادو ٹونا کرنا سخت گناہ ہے لیکن کیا کیا جائے کہ یہ چیزیں ہر حصے میں ہیں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان
آپ کو لندن میں بیٹھ کر عجیب لگتا ہے، یہاں تو ہر دوسرا آدمی اس مرض میں مبتلہ ہے۔ شرک و بدت کی آخیر ہو چکی ہے۔ آخبارات دیکھ لیس تو آپ کو پروڈکٹس کے اشتہار کم اور تاویز اور عاملوں کے اشتہارات زیادہ نظر آئیں گے۔یہاں ہر کوئی پہنچا ہوا سرکار نظر آتا ہے۔ اگر اتنے پہنچہ ہوئے ہیں تو وہ خود جنرل مشرف سے کرسی چھین کر کیوں نہیں بیھٹ جاتا؟

شاہدہ اکرم، ابو ذہبی، متحدہ عرب امارات
ایک مسلمان ہونے کے ناتے زندگی کے ساتھ ہی جڑی موت پر بھی یقین تو رکھتے ہیں لیکن جب کچھ انہونی ہو جاتی ہیں تو باوجود یقین نہ ہونے کے دل ڈر سا جاتا ہے اور پھر اگر اپنے پیارے اور ان کی سلامتی جڑی ہوئی ہو تو تکلیف اور ہو جاتی ہے۔ پھر بھی جب سب دنیا میں یہی ضعیف الاعتقادی مختلف رنگوں میں موجود ہو تو سبکچھ بھول کر اس زات پر بھروسہ کیوں نہ کریں جو سب کا حافظ و ناصر ہے؟ یعنی حفاظت کرنے والےاور مدد گار۔ میرا یقین ہے کہ میری زنگی میں جو کچھ بھی ہوا ہےیا ہوگااس کی منشا کے بغیر نہیں ہو سکتا تو ڈر کیسا؟

وحید ایاز، کراچی، پاکستان
سمجھ نہیں آیا کہ اعنبر صاحبہ ا سبلاف کے ذریعے ہمیں کیا پیغام دینا چاہتی ہیں۔ اکیسویں صدی میں ہمیس دوبارہ وہم کی دنیا میں لومانا چاہتی ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ ’راشنلسلٹ‘ سوچ پر ویب ساوئٹ پر جائیں۔






سولہ مئی: ’حفاظت کی باتیں‘

کراچی پہنچ کر میں حفاظت کے بارے میں کافی سوچتی رہی۔

حفاظت یعنی حفاظت حسین، ایک ایسا شخص جس کا کئی برسوں تک ہمارا ساتھ رہا۔

والدین نے جب اپنا مکان خریدا تو کچھ ہفتوں کے لیئے چوکیدار کی ضرورت پڑی۔

لوگوں سے پچھوایا تو کسی نے کہا کہ ہے ایک شحض، بہت شریف اور اچھا آدمی ہے۔ اس کا نام جب سنا تو لگا کہ یہ ایک اچھا شگون ہے کہ چوکیدار کا نام ہی حفاظت ہو!

وہ کچھ ہفتے بارہ سال بن گئے۔

دنیاوی چیزوں میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی حفاظت کو اور وہ خاصے نمونے شخص تھے۔ بنیان اور تہمد پہنے پھرتے تھے اور انگریز راج کے قصے سنانے کا بڑا شوق تھا۔ خود کلکتے میں ریلوے کے ملازم رہے تھے اور ہر سال ہندوستان جاکر ریل پر مفت سیر کرتے تھے اور اپنے تمام دوستوں سے جا کر ملتے۔

بہت سال پہلے ہم نے ایک کتا رکھا۔ چھوٹا سا تھا جب اسے لائے اور اسے ’ٹرین‘ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک دن حفاظت بھاگے بھاگے آئے اور خوشی سے بتانے لگے ’ہم نے کتے کو بھونکنا سکھا دیا!’ ہم نے کتے کو بھونکنا سکھا دیا!‘

اسی طرح جب بجلی کا کبھی جنریٹر چلاتے تو پٹرول ڈال کر وہ چلتا لیکن بجلی آنے پر اس کاکنیکشن ہٹا کر پھر بجلی آن کرنی پڑتی تھی۔ بجلی کے آنے کی اطلاع دینے کے لیے پھر حفاظت بھاگے بھاگے آتے اور اعلان کرتے ’حکومت کی بجلی آگئی، حکومت کی بجلی آگئی۔‘

میری شادی جب ہوئی تو رخصتی پر نہ میں روئی نہ میرے والدین، البتہ جب ہم گھر سے خدا حافظ کہہ کر ائیرپورٹ کے لیے روانہ ہورہے تھے تو حفاظت بہت روئے۔ موٹے موٹے آنسووںکے ساتھ۔ ’چھوٹا بابو جا رہا ہے۔‘

حفاظت چار سال پہلے اس دنیا سے چل بسا۔ آخری وقت تک کسی کا محتاج نہ ہوا۔ چلتا پھرتا، آخری وقت تک خود کماتا رہا۔

’بابو‘ نے عزت اور ایمانداری سے اپنی زندگی گزاری۔ اپنے بچوں کو بھی یہی سبق سکھائے اور خیر سے اب اس کے بیٹے اپنا اپنا کاروبار کر رہے ہیں اور تمام پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں پڑھائی میں لگے ہوئے ہیں۔

اکثرحفاظت کی یاد آتی ہے۔ اچھے اور مخلص انسانوں سے جب ہمارا واسطہ پڑے تو ہمیں ان کی قدر ضرور کرنی چاہیے۔


’ آپ کیا کہتے ہیں‘

علی رضا، سویڈن
حیرت ہوتی ہے جب لوگ اپنی آراٌ دیتے ہوئے اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ کاش ایم اکرم صاحب بھی اپنے دل کی بات تہذیب کے دائرے میں رہ کر کرتے یا پھربی بی سی والے ہی کچھ نوک پلک سنوار دیتے۔یہاں لکھا تو ہے کہ بی بی سی آپ کی آراٌ میں چھانٹ کر سکتی ہے۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی، متحدہ عرب امارات
عنبر جی، آج انسانوں میں سے انسانیت ختم ہو چکی ہے اور اگر کہیں حفاظت صاحب جیسی ہستی ہیں تو وہ ایک ہی نعمت ہوتی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہوا کرتا۔ اچھے لوگوں کی اچھی باتیں ہمیشہ یاد رہا کرتی ہیں۔ آپ نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ حفاظت صاحب کو ان کے جانے کے بعد بھی اتنے اچھے لفظوں میں یاد کیا، کہیں اوپر وہ چھوٹا بابو کی تحریر اور اپنی تعریف سے بہت خوش ہو رہے ہوں گے۔ یقین رکھیں۔

عبد الوحید خان، برمنگھم، برطانیہ
یہ تو اچھی بات تھی کہ آپ نے گھر کے حفاظت کے لیئے جس آدمی کو رکھا وہ حفاظت حسین تھا اور اب آپ ان کی اچھائیاں یاد کر رہیں ہیں۔ زندگی یہ ہی ہے کہ انسان چلا جاتا ہے، اس کا کردار یاد رکھنے کے لیئے رہ جاتا ہے۔ وہ لوگ خوش قسمت ہیں جو اچھی یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔

محمد اکرام، برطانیہ
وہی لکھنے والے، وہی خیالات۔ آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ لوگ سب سے اچھے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ کسی کو آپ کی بکواس میں دلچسپی نہیں ہے۔

فیصل تقی، کراچی، پاکستان
حفاظت کی باتیں دل کو چھو لینے والی ہیں۔ ویسے اکرم ںاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ جس چیز کو آپ نے بکواس کہا اور اسی پر اپنا رد عمل ظاہر کیا اس سے تو واضح ہوجاتا ہے کہ بکواس کس نے کی۔ اللہ تعلی اکرم صاحب سمیت سب کو ہدایت دے صبر کا دامن قابو میں رکھنے کی توفیق دے۔

ڈاکٹر حسن، پیرس، فرانس
میں نے ایم ڈی کی ڈگری روس سے حاصل کی۔ ایک دفع جھیل کنارے باربی کیو کا پرورگام بنا۔ ہمارے ساتھ ایک ریٹائرڈ روسی ٹیچر بھی تھے۔ زندگی کی باتوں باتوں میں پوچھا کہ زندگی کیسی گزارنی چاہیے۔ ہر کسی کو اپنا اپنا رول ملتا ہے کوئی ڈاکٹر کوئی انجینئر، کوئی سیاستدان، یا کوئی ڈاکو۔ اس بابا جی نے ایک پرانی روسی کہاوت سنائی جس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ زندگی کو سادہ اور مصمم گزارنی چاہیے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
وسعتبہت یاد آئی
محمد خان جونیجو اور سونیا گاندھی : وسعت
عنبرخیری’سراسر دھوکا‘
بینک عنبر خیری کے پیسے کھا گیا
اسد علیایک نئی مشکل
سوچ کی طاقت، بے بسی پر اسد علی کی سوچ
بہتر گدھاسکوٹر اور گدھے
’ کون سا گدھا بہتر ہے؟‘ ضیا کا سوال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد