کنجوس کا گدھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیگم اور میں دونوں ہی نہایت کنجوس ہیں۔ ضرورت سے زیادہ ایک پیسا ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ جب جنیوا آئے تو یہاں کے بَس اور ٹرین کے نظام اور اپنی کنجوسی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ گاڑی نہ خریدنے کا فیصلہ کیا۔ میری مصروفیات کچھ ایسی ہیں کہ دن کا وقت گھر پر ہی گزرتا ہے اس لیے گاڑی کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ (سوچتا ہوں کہ ہمسایوں کے کتّوں کی دیکھ بھال کرکے کچھ پیسے ہی کما لوں۔) لیکن بیگم کا دفتر بیس پچیس منٹ پیدل کا راستہ ہے۔ بَس کا کرایہ ہے تین فرینک یعنی ایک سو اڑتیس پاکستانی روپے! ایسے حالات میں ایک کنجوس کرے تو کیا کرے؟ تو جناب اپنی آسانی کے لیے ہم نے امریکہ سے کنجوسوں کی دو سواریاں منگوائیں۔ یعنی اسکوٹر۔ مگر یہ میرے ابّو کی سن پچھتّر کی ویسپا نہیں۔ یہ تو بچّوں کے کھیلنے کی ریزر اسکوٹریں ہیں۔ نہایت ہلکی پھلکی۔ جب ضرورت نہ ہو تو چھوٹی سی جگہ میں سِمٹ جاتی ہیں۔ ہمارا گھر ایک معمولی سی پہاڑی پر واقع ہے۔ ڈھلان پر اسکوٹر ایسی بھاگتی ہے جیسے شوماکر کی فراری ہو! بیگم کا دفتر کا سفر اب صرف دس پندرہ منٹ میں طے ہوجاتا ہے۔ واپسی کا سفر اتنا آسان نہیں لیکن خاگِینہ بنانے کے لیے انڈے تو توڑنے پڑتے ہیں۔ میں دوپہر کے وقت اکثر بیگم کے ساتھ کھانا کھانے یا پھر سودا سلف خریدنے نکل جاتا ہوں۔ شروع شروع میں تو اسکوٹر سواری پر کچھ شرم آئی۔ ایک نوجوان کو بچّوں کے کھلونے پر سوار دیکھ کر لوگ کیا سوچیں گے؟ لوگوں کو دیکھ کر اسکوٹر سے فوراً اتر جاتا۔ اور اسکوٹر کو اپنے ساتھ دھکیلنے لگتا۔ لیکن پھر مجھے ملا نصرالدّین کی وہ کہانی یاد آئی جس میں ملا اپنے بیٹے اور گدھے کے ساتھ بازار جاتے ہیں۔ خواہ گدھے پر کوئی بیٹھے یا نہ بیٹھے، دیکھنے والے خوب باتیں بناتے ہیں۔ تو یوں سمجھیے کہ اسکوٹر میرا گدھا ہے۔ لوگوں کی کیا پروہ کرنی؟ میرا گدھا مجھے نہایت پھرتی سے بازار لےجاتا ہے۔ اِس گدھے کی بدولت اب میری کئی چھوٹے چھوٹے بچّوں سے بھی دوستی ہوگئی ہے۔
جاوید اقبال ملک، چکوال: ضیاء بھائی آپ نے یقیناً سن رکھا ہوگا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ آپ نے تو کچھ بھی غلط نہیں۔ پلیز کیری آن! عبدالوحید خان، برمنگھم: ثناء خان، کراچی: آغا علی عباس، انڈیا:
21 مارچ کو نسلی امتیاز کے خاتمے کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائے کمشنر کے دفتر سے ایک پوسٹر جاری ہوا۔ پوسٹر کچھ فنکارانہ قسم کا ہے۔ اس میں ایک نامکمل جِگ سا پَزل اور ایک لیگو کی اینٹ دکھائی گئی ہے۔ مطلب شاید یہ ہے کہ جِگ سا پزل کے ٹکڑوں کے معاشرے میں لیگو کی اینٹ کے ساتھ نسلی امتیاز برتا جارہا ہے۔ ایک بات اور ہے جس کا ذکر پوسٹر میں نہیں۔ لیگو کمپنی کا تعلق ڈینمارک سے ہے۔ جی ہاں، وہی ڈینمارک جہاں سے ان بدنام کارٹونوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ڈینمارک اور لیگو کمپنی دونوں ہی نے پوسٹر کا الٹا مطلب لیا۔ یعنی کہ لیگو کی اینٹ ڈینمارک ہے جو کہ جِگ سا پزل کے ٹکڑوں، یعنی مسلمانوں، کے خلاف تعصّب کررہا ہے۔ ڈینمارک کے دفترِ خارجہ اور لیگو کمپنی نے ذوردار احتجاج کیا کہ اس پوسٹر کے ذریعے ڈینمارک کے خلاف ایک ڈھکا چھپا پیغام عوام کو بھیجا جارہا ہے۔ نتیجتاً پوسٹر اقوامِ متحدہ کی دیگر ویب سائیٹوں سے ہٹا لیا گیا۔ اتفاق سے میری بیگم انسانی حقوق کے ہائے کمشنر کے دفتر ہی میں کام کرتی ہیں۔ پوسٹر کے مصوّر ان کے ساتھی ہیں۔ نہایت شریف امریکی صاحب ہیں۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پوسٹر میں دیکھنے والے کوئی منفی معنی نکالیں گے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تمام فریقین اتنے حساس ہوگئے ہیں کہ انہیں ہر بات میں اپنی ہتک محسوس ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ ایک معصوم سی تنظیم ہے جس کو برا بھلا کہ کر لوگ اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ ویسے یہ ڈینمارک کے آزادیِ خیال و بیان کے اصول کو کیا ہوا؟ کارٹون تنازعے کے وقت تو یہ اصول خوب پھول رہا تھا۔ اب ذرا سے پوسٹر پر کیوں مرجھا گیا ہے؟ اصول کے مطابق تو نہ کارٹونوں پر کوئی قانونی قید ہونی چاہیے اور نہ ہی اس پوسٹر پر۔ اس سے پہلے کے کچھ پڑھنے والے آگ بگولہ ہوکر میرے خون کے پیاسے ہونے لگیں، غور کیجیے کہ میں نے قانونی قید کا ذکر کیا ہے، اخلاقی فرض کا نہیں۔ ویسے یہی غنیمت ہے کہ ڈینمارک نے صرف زبانی احتجاج کیا ہے۔ اگر میرے پاکستانی بھائیوں کی نظر میں کوئی نازیبا پوسٹر جاری ہوتا تو اقوامِ متحدہ کے ایک دو دفتر تو اب تک ضرور نذرِ آتش آچکے ہوتے۔
جاوید اقبال ملک، چکوال ضیا صاحب پہلے تو آپ سے درخواست ہے کہ آپ کو ’کارٹونز‘ کی جگہ ’توہین آمیز خاکے‘ لکھنا چاہیے تھا۔ مگر جہاں تک آپ آزادی اظہار کی بات کر رہے ہیں تو ان کے اپنے ہی رولز ہیں۔ یہ خود ہی قانون بناتے ہیں اور خود ہی توڑ دیتے ہیں۔ ان کی بات نہ کریں۔ ریاض احمد، لاہور منظر سہیل، میلبورن علی محمد، پاکستان فیصل بھگت، پاکستان ایم قاسم، پاکستان شاہدہ اکرم، ابو ظہبی |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||