پیریار، آپ کہاں ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک حالیہ نمونہ بندی کے مطابق امریکی عوام دہریوں کو ہم جنس لوگوں، عربوں، نوآباد لوگوں، مسلمانوں، کالوں، یہودیوں، ڈاکوؤں غرض یہ کہ تمام دوسرے گروہوں سے بدتر سمجھتے ہیں۔ اگر ان کے بس میں ہو تو اپنے بچّوں کو دہریوں سے شادی کرنے کی اجازت کبھی نہ دیں۔ امریکہ ایک نہایت مذہبی ملک ہے۔ شاید پاکستانیوں کو یہ بات عجیب لگے۔ بھلا بڑے شیطان اور مذہب کا کیا تعلق؟ مگر نمونہ بندی کا نتیجہ بالکل حیران کن نہیں۔ امریکہ میں دیسی، عورتیں، مسلمان، ہم جنس افراد اور کتّے آپ کو عوامی سطح پر نظر آئیں گے مگر دہریے کبھی نہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی امریکہ کا صدر بننا چاہے تو اس کے حق میں کتّا ہونا دہریا ہونے سے بہتر ہے۔ اب پاکستانیوں کے دوسرے ملکی تعصب کی طرف چلتے ہیں۔ امریکہ تو لادین ملک ٹھہرا۔ اس کے الٹ کون سا ملک اوہام پرستی اور لاتعداد باطل عقائد میں الجھا ہوا ہے؟ ظاہر ہے، ہندوستان۔ لیکن کیا کوئی مانے گا کہ مندرجہ ذیل الفاظ ایک مقبول ہندوستانی کے ہیں؟ کوئی خدا نہیں ہے یہ الفاظ راماسامی نائیکر عرف پیریار کے ہیں۔ یونیسکو کے مطابق پیریار تھے ’نئے دور کے غیب دان، جنوب مشرقی ایشیا کے سقراط، سماجی اصلاح تحریک کے بانی، اور جہالت، اوہام پرستی، بےمعنی روایات اور گھٹیا تہزیب کے دشمن۔‘ پیریار عقلیت پسندی اور سائنس میں یقین رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک ذات پات اور خصوصاً براہمنوں کے طور طریقے انسانیت کے نام پر داغ تھے۔ وہ گاندھی جی کی طرح قومی رہنما تو نہ بن پائے، مگر ان کے خیالات اور شخصیت آج بھی جنوبی ہندوستان میں ہردلعزیز ہیں۔ تامل ناڈو کی دونوں مرکزی سیاسی جماعتیں ایک طرح سے ان کی وراثت ہیں۔ پیریار کی زندگی اور کارناموں کو اس محدود جگہ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ بس ایک خیال ذہن میں بار بار آتا ہے جس کا ذکر کرتا چلوں۔ آج کے دور میں امریکہ یا پاکستان میں ایسا شخص کامیاب زندگی کا تصوّر بھی نہیں کر سکتا۔ پیریار کا عقلیت پسندی اور جہالت کے خاتمے کا پیغام دونوں ممالک میں عوامی سطح پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ آخر ہمارا نئے دور کا غیب دان کب آئے گا؟ پیریار، آپ کہاں ہیں؟
گھبرائیے مت۔ گوگل بم عام بموں سے بالکل مختلف ہے۔ اس کو کراچی کے میریٹ ہوٹل سے کوئی خاص رغبت نہیں۔ گوگل بم ایک ایسا طریقہ ہے جس کے استعمال سے گوگل پر کسی بھی اصطلاح کی تلاش کا نتیجہ کسی خلافِ توقع صفحے کو بنایا جاسکتا ہے۔ (مزید تفصیلات انٹرنیٹ پر باآسانی دستیاب ہیں۔) مثال کے طور پر اگر آپ گوگل پر miserable failure (یعنی مکمل طور پر ناکام شخص) کو تلاش کریں، تو سب سے پہلا نتیجہ آپ کو ہم سب کے مَن پسند صدر یعنی جارج بش کی پاس لے جائے گا۔ اگر آپ انٹرنیٹ کے استعمال کا تھوڑا بہت بھی تجربہ رکھتے ہیں تو گوگل بموں کا وجود آپ کے لیے کوئی دھماکا خیز خبر نہیں ہوگی۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر ایک پاکستان سے منسلک گوگل بم بھی گھوم رہا ہے؟ پچھلے سال کی بات ہے۔ مختار مائی کے بعد ڈاکٹر شازیہ خالد کی دردناک داستان سامنے آئی تھی۔ ہمارے دوسرے مَن پسند صدر یعنی جنرل پرویز مشرّف نے بیان جاری کیا کہ آجکل خواتین کینیڈا جانے اور پیسے کمانے کے چکّر میں آبرو ریزی کی جعلی کہانیاں بنا رہی ہیں۔ اس بیان سے جھلّا کر کچھ دیسی اور غیر دیسی بلاگروں نے ایک گوگل بم کو جنم دیا۔ مقصد یہ تھا کہ جب کوئی insensitive jerk (یعنی بےحِس انسان) کو تلاش کرے تو اسے جنرل صاحب کے دروازے تک پہنچا دیا جائے۔ افسوس کہ مہم ناکام رہا۔ گوگل بم تو کیا گوگل پٹاخا تک نہ پھٹا۔ لیکن کبھی کبھار انسان بغیر کوشش کیے بھی کامیاب ہوجاتا ہے۔ آج اگر آپ بےحِس انسان کو یاہو پر تلاش کریں تو وہ آپ کو مل جائے گا۔
فرحاج علی، متحدہ عرب امارات: صدر مشرف نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔ وہ پہلے ہی انکار کر چکے ہیں۔ شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات: ثنا خان، پاکستان: |
بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||