ضیا بلاگ: ’صدر بش اور حقِ انتخاب‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنیوا سے ضیا احمد کا آداب۔ اپریل 2005 کی بات ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں ایک عظیم و شان جلسہ منعقد ہوا۔ ویسے تو جلسہ خواتین کے دیگر مسائل کے بارے میں تھا لیکن سب جانتے تھے کہ اس کا بنیادی منشور ہے خواتین کا حقِ انتخاب۔ صدر بش اور ان کی قدامت پسند رِپَبلِکن جماعت کے اس موضوع پر نظریات سے تو سب واقف ہیں۔ اسی لیے وہاں ایک صاحب کا پیغام پڑھ کر ہماری ہنسی چھوٹ گئی: ’شاید باربرا کو اسقاطِ حمل کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا!‘ اگر سوچنے ہی سے زندگی سنور جایا کرتی تو کاش میرے ہم نام جرنیل کی والدہ نے بھی ایسی نیک سوچ پر عمل کیا ہوتا!
گل بیگ، عمر کوٹ: آپ باتوں باتوں میں کڑوا سچ کہہ جاتے ہیں، میرا سلام آپ کے انداز کو۔ خلیل الرحمان چاچڑ، سکھر:
جنیوا سے ضیا احمد کا آداب۔ جب بیگم پہلی مرتبہ کراچی گئیں تو ان کے اندر ایک فنکار قسم کا فوٹوگرافر بیدار ہوگیا۔ ہم تو اپنے پیارے شہر کی شو مارنے کے چکّر میں تھے۔ بیگم کو اپنے حساب سے اعلی ترین نظارے دکھانے کی کوشش کرتے رہے۔ یہ دیکھیے بیگم، شان سرکل پر کیا خوب انڈرپاس تعمیر ہورہا ہے! یہاں کیسا خوبصورت پل ہے۔ یہ چوڑی شاہراہ فیصل، آسمانوں سے باتیں کرتا ہو ایم سی بی ٹاور، یہ عالیشان ہوائی اڈّہ، یہ بَڑھیا اور مہنگے ریسٹورانٹ، یہ کلفٹن کے جدید مال جہاں امریکہ اور یورپ کا بہترین سامان دستیاب ہے۔ یعنی تمام ترقّی اور جدّت کی علامتیں۔ یہ سب باتیں کرتے ہوئے ہم اپنا آپ کو نرگس دَت جیسا محسوس کررہے تھے۔ نرگس جی کو ہندوستان پر بڑا ناز تھا۔ جب لوگ ہندوستان میں غربت اور دیگر مسائل کے بارے میں فلمیں بناتے تو مدر انڈیا کو بڑی کوفت ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں خوب ترقّی ہورہی ہے اور فلمسازوں کو اپنی فلموں میں ملک کا یہ چہرہ دکھانا چاہیے۔ جب ان سے کسی نے پوچھا کہ ایسی کیا ترقّی کی علامت ہے جسے فلم میں دکھایا جائے تو نرگس جی کچھ جھینپ گئیں۔ پھر ذور سے بولیں ’ڈیم!‘ کراچی میں ڈیم تو ہے نہیں اس لیے ہم کو سڑکوں، پلوں اور عمارتوں پر گزارا کرنا پڑا۔ مگر بیگم کا تو مزاج ہی مختلف تھا۔ ترقّی کی علامات کو رَد کرکے وہ عام زندگی کے نظاروں میں کھو گئیں۔ کہیں گدھا گاڑی پر دھوبھی صاحب جارہے ہیں تو ان کی تصویر کھینچ لی۔ تو کہیں مسافر بس کا انتظار کررہے ہیں تو فوراً کیمرے کی طرف لپکیں۔ عبداللہ شاہ غازی کا مزار دیکھا تو تڑپ اٹھیں کہ یہاں ضرور جاؤں گی۔ ہم عاجز آگئے۔ بیگم ذرا سنیے، ہم نے کہا۔ ایک آدھ تصویر کسی جدید چیز کی بھی کھینچ لیجیے۔ دوست احباب کہیں یہ نہ پوچھیں کہ کراچی میں گدھے گاڑیوں اور مزاروں کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ مگر وہ ٹَس سے مَس نہ ہوئیں۔ الٹا ہم پر بگڑ گئیں۔ کہنے لگیں: اجی یہ اپنی ترقّی کی علامتیں اپنے پاس رکھیے۔ ہمیں تو عام زندگی کے نظارے ہی دلچسپ معلوم ہوتے ہیں۔ وہ تمام بسیں، ٹرک، سڑک چلتے لوگ، سمندر کی لہریں، مساجد، پان کی دوکانیں، رکشے، ٹھیلے اور دیگر ترقّی کی علامات ایک فلم کی صورت میں پیش ہیں۔ ملاحظہ کیجیے ’ایبی کا کراچی‘۔
جہانگیر مغل، باغ، آزاد کشمیر مہر افشین، کے ایس اے رضا سید، یو اے ای
میرا پسندیدہ کَومِک بک ہیرو ظالم نہ تو اڑ سکتا ہے اور نہ اپنے ہاتھوں سے اسٹیل موڑ سکتا ہے۔ سچ پوچھیے تو ایسے روایتی سپر ہیرو جو اڑتے بھی ہیں اور گولی سے بھی زیادہ تیز ہیں، مَن کو کچھ بھاتے نہیں۔ ہیرو تو وہ ہے جو کسی غیرفِطری طاقت کے بغیر کٹھن ترین حالات کا مقابلہ کرے اور صرف اپنی انسانی صلاحیتوں کے بل بوتے پر تمام روایتی سپر ہیروؤں کو پیچھے چھوڑ دے۔ پھر بھی، مجھے آنے والی فلم ’سوپرمین رٹرنز‘ کا بیچینی سے انتظار ہے۔ فلم کا ایک چھوٹا سا ٹریلیر دکھایا گیا ہے جس میں صرف مارلن برانڈو کی آواز سنائی دیتی ہے۔ سپرمین ون اور ٹو دیکھنے والوں کو یاد ہوگا کہ برانڈو نے سپرمین کے بدنصیب والد جور ایل کا کردار ادا کیا تھا۔ برینڈو تو خدا کو پیارے ہوگئے، لیکن جدید ٹیکنولوجی اور پرانے غیر استعمال شدہ مکالموں کو نئی فلم میں اس ہنر سے استعمال کیا گیا ہے کہ جورایل کی شکل میں ناظرین برانڈو کو جیتا جاگتا پائیں گے۔ لیکن تمام تر بیچینی اور سپرہیرو جنون کے باوجود مجھے یقین ہے کہ فلم مایوس کن ثابت ہوگی اور اس کے بہترین حصّے ہم ٹریلر میں دیکھ چکے ہیں۔ ذرا ٹریلر دیکھ کر ان مکالمات پر غور کیجیے: ’گو کہ تمہاری پرورش ایک انسان کی طرح ہوئی ہے، تم ان میں سے نہیں ہو۔‘ ’وہ ایک عظیم لوگ ہو سکتے ہیں، کال ایل، وہ ہونا چاہتے ہیں۔‘ ’بس ایک شمع کی کمی ہے جو انہیں راستہ دکھا سکے۔‘ ’ان کی اچھائی کی استعداد: سب سے بڑھ کر یہی وجہ ہے کہ میں نے ان کے پاس تمہیں بھیجا ہے، اپنے اکلوتے بیٹے کو۔‘ کیسے پراثر الفاظ ہیں، بھلا ڈیڑھ دو گھنٹے کی فلم میں ایسی بات کہاں ہوسکتی ہے؟ سب سے اعلٰی تصویر تو وہ ہے جو انسان اپنے ذہن میں خود بنائے۔ ایسی تصویر کو حقیقی رنگ دیا جائے تو نتیجہ کبھی تسلّی بخش نہیں ہوتا۔ سپرمین کا کردار اتنا مقبول ہے کہ چند تصویروں سے ہی دیکھنے والا مضمون بھانپ لیتا ہے۔ غور کریں کہ ٹریلر میں کہیں بھی ’سوپر مین‘ نہیں کہا گیا۔ ٹریلر کی تصاویر حیرت انگیز حد تک جانی پہچانی ہیں۔ کَینساس کے مکئی کے کھیت اور ڈاک ڈبّے پر ’کینٹ‘ کا نام، ڈیلی پلَینِٹ اخبار کا دفتر، میٹروپلس کی اونچی چھت پر اپنے محبوب کا انتظار کرتی ہوئی لوئس اور سب سے بڑھ کر سوپرمین کے سینے پر پیوست لال اور پیلا ’ایس‘ کا نشان۔ میری نسل کا شاید ہی کوئی نمائندہ ایسا ہو جو اِس ’ایس‘ کو نہ پہچانے۔ بھلا کوئی فلم ان تصاویر سے بہتر کیسے ہو سکتی ہے؟ خیر چھوڑیئے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں ایک معمولی ہالی ووڈ فلم پر اتنا جذباتی ہوگیا لیکن میرا جنون فلم نہیں، سپرمین کی علامت ہے جو کسی بھی فلم سے بالاتر ہے۔ بقول شاعر: میں صرف ایک انسان ہوں
حسن بلوچ، اسلام آباد: خلیل الرحمان، پاکستان: حبیب بلوچ، پاکستان: ثنا خان، پاکستان: محسن چوہدری، ساہیوال: مہر افشاں ترمذی، سعودی عرب: |
بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||