BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 March, 2006, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضیا بلاگ: ’صدر بش اور حقِ انتخاب‘


’صدر بش اور حقِ انتخاب‘: انتیس مارچ

جنیوا سے ضیا احمد کا آداب۔

اپریل 2005 کی بات ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں ایک عظیم و شان جلسہ منعقد ہوا۔ ویسے تو جلسہ خواتین کے دیگر مسائل کے بارے میں تھا لیکن سب جانتے تھے کہ اس کا بنیادی منشور ہے خواتین کا حقِ انتخاب۔ صدر بش اور ان کی قدامت پسند رِپَبلِکن جماعت کے اس موضوع پر نظریات سے تو سب واقف ہیں۔ اسی لیے وہاں ایک صاحب کا پیغام پڑھ کر ہماری ہنسی چھوٹ گئی:

’شاید باربرا کو اسقاطِ حمل کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا!‘

اگر سوچنے ہی سے زندگی سنور جایا کرتی تو کاش میرے ہم نام جرنیل کی والدہ نے بھی ایسی نیک سوچ پر عمل کیا ہوتا!

آپ کیا کہتے ہیں

گل بیگ، عمر کوٹ:
آپ باتوں باتوں میں کڑوا سچ کہہ جاتے ہیں، میرا سلام آپ کے انداز کو۔

خلیل الرحمان چاچڑ، سکھر:
یہ تو اچھی بات نہیں کہ اچھے یا برے کام تو اولاد کرے اور گالیاں والدین کھائیں۔ اگر آپ یہ لکھیں گے تو پھر ہم بھی کہیں کہ جانے کس کس کی اماں کو سوچنا چاہئے تھا۔ اپنے بڑوں کی تضحیک سے اجتناب کریں۔

’ایبی کا کراچی‘: تئیس مارچ



جنیوا سے ضیا احمد کا آداب۔

جب بیگم پہلی مرتبہ کراچی گئیں تو ان کے اندر ایک فنکار قسم کا فوٹوگرافر بیدار ہوگیا۔

ہم تو اپنے پیارے شہر کی شو مارنے کے چکّر میں تھے۔ بیگم کو اپنے حساب سے اعلی ترین نظارے دکھانے کی کوشش کرتے رہے۔ یہ دیکھیے بیگم، شان سرکل پر کیا خوب انڈرپاس تعمیر ہورہا ہے! یہاں کیسا خوبصورت پل ہے۔ یہ چوڑی شاہراہ فیصل، آسمانوں سے باتیں کرتا ہو ایم سی بی ٹاور، یہ عالیشان ہوائی اڈّہ، یہ بَڑھیا اور مہنگے ریسٹورانٹ، یہ کلفٹن کے جدید مال جہاں امریکہ اور یورپ کا بہترین سامان دستیاب ہے۔ یعنی تمام ترقّی اور جدّت کی علامتیں۔

یہ سب باتیں کرتے ہوئے ہم اپنا آپ کو نرگس دَت جیسا محسوس کررہے تھے۔ نرگس جی کو ہندوستان پر بڑا ناز تھا۔ جب لوگ ہندوستان میں غربت اور دیگر مسائل کے بارے میں فلمیں بناتے تو مدر انڈیا کو بڑی کوفت ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں خوب ترقّی ہورہی ہے اور فلمسازوں کو اپنی فلموں میں ملک کا یہ چہرہ دکھانا چاہیے۔ جب ان سے کسی نے پوچھا کہ ایسی کیا ترقّی کی علامت ہے جسے فلم میں دکھایا جائے تو نرگس جی کچھ جھینپ گئیں۔ پھر ذور سے بولیں ’ڈیم!‘

کراچی میں ڈیم تو ہے نہیں اس لیے ہم کو سڑکوں، پلوں اور عمارتوں پر گزارا کرنا پڑا۔ مگر بیگم کا تو مزاج ہی مختلف تھا۔ ترقّی کی علامات کو رَد کرکے وہ عام زندگی کے نظاروں میں کھو گئیں۔ کہیں گدھا گاڑی پر دھوبھی صاحب جارہے ہیں تو ان کی تصویر کھینچ لی۔ تو کہیں مسافر بس کا انتظار کررہے ہیں تو فوراً کیمرے کی طرف لپکیں۔ عبداللہ شاہ غازی کا مزار دیکھا تو تڑپ اٹھیں کہ یہاں ضرور جاؤں گی۔

ہم عاجز آگئے۔ بیگم ذرا سنیے، ہم نے کہا۔ ایک آدھ تصویر کسی جدید چیز کی بھی کھینچ لیجیے۔ دوست احباب کہیں یہ نہ پوچھیں کہ کراچی میں گدھے گاڑیوں اور مزاروں کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ مگر وہ ٹَس سے مَس نہ ہوئیں۔ الٹا ہم پر بگڑ گئیں۔ کہنے لگیں: اجی یہ اپنی ترقّی کی علامتیں اپنے پاس رکھیے۔ ہمیں تو عام زندگی کے نظارے ہی دلچسپ معلوم ہوتے ہیں۔

وہ تمام بسیں، ٹرک، سڑک چلتے لوگ، سمندر کی لہریں، مساجد، پان کی دوکانیں، رکشے، ٹھیلے اور دیگر ترقّی کی علامات ایک فلم کی صورت میں پیش ہیں۔ ملاحظہ کیجیے ’ایبی کا کراچی‘۔

’آپ کیا کہتے ہیں‘

جہانگیر مغل، باغ، آزاد کشمیر
ڈئیر ضیاء صاحب آپ کو گدھے پر ترس آیا اچھی بات مگر آپ ان کو مارکیٹ اور جوڑیا بازار کا وزٹ کروا دیتے تو شاید ان انہیں انسانوں پر بھی ترس آتا۔

مہر افشین، کے ایس اے
ہم لوگ انگریزوں کے غلام، برسوں بیت گئے مگر غلامی کی خو نہ گئی۔ ضیاء صاحب کی رننگ کمنٹری میں کوئی خاص بات تھی اور نہ ہی ان سلائڈ شو میں۔ پاکستانی گدھا تو نظر نہیں آیا مگر اس کی آواز نے کافی بیزار کیا۔ پتہ نہیں بی بی سی والوں کو یہ صاحب اتنے پسند کیوں آگئے ہیں۔ مسٹر لبرل نے بیگم کو تو دکھا دیا لیکن اماں کو چھپا گئے شاید اب بھی کچھ سو کالڈ مشرقیت باقی ہے اس لیے۔

رضا سید، یو اے ای
ویڈیو اچھی لگی۔لیکن آخری جملہ میرے دل پر نشتر چلا گیا کہ’ گدھا پکا پکا کراچی کا ہونا چاہیے‘، صرف اتنا کہوں گا کہ تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟۔


’کال ایل کی واپسی‘: پندرہ مارچ



میرا پسندیدہ کَومِک بک ہیرو ظالم نہ تو اڑ سکتا ہے اور نہ اپنے ہاتھوں سے اسٹیل موڑ سکتا ہے۔

سچ پوچھیے تو ایسے روایتی سپر ہیرو جو اڑتے بھی ہیں اور گولی سے بھی زیادہ تیز ہیں، مَن کو کچھ بھاتے نہیں۔ ہیرو تو وہ ہے جو کسی غیرفِطری طاقت کے بغیر کٹھن ترین حالات کا مقابلہ کرے اور صرف اپنی انسانی صلاحیتوں کے بل بوتے پر تمام روایتی سپر ہیروؤں کو پیچھے چھوڑ دے۔

پھر بھی، مجھے آنے والی فلم ’سوپرمین رٹرنز‘ کا بیچینی سے انتظار ہے۔ فلم کا ایک چھوٹا سا ٹریلیر دکھایا گیا ہے جس میں صرف مارلن برانڈو کی آواز سنائی دیتی ہے۔ سپرمین ون اور ٹو دیکھنے والوں کو یاد ہوگا کہ برانڈو نے سپرمین کے بدنصیب والد جور ایل کا کردار ادا کیا تھا۔ برینڈو تو خدا کو پیارے ہوگئے، لیکن جدید ٹیکنولوجی اور پرانے غیر استعمال شدہ مکالموں کو نئی فلم میں اس ہنر سے استعمال کیا گیا ہے کہ جورایل کی شکل میں ناظرین برانڈو کو جیتا جاگتا پائیں گے۔ لیکن تمام تر بیچینی اور سپرہیرو جنون کے باوجود مجھے یقین ہے کہ فلم مایوس کن ثابت ہوگی اور اس کے بہترین حصّے ہم ٹریلر میں دیکھ چکے ہیں۔ ذرا ٹریلر دیکھ کر ان مکالمات پر غور کیجیے:

’گو کہ تمہاری پرورش ایک انسان کی طرح ہوئی ہے، تم ان میں سے نہیں ہو۔‘

’وہ ایک عظیم لوگ ہو سکتے ہیں، کال ایل، وہ ہونا چاہتے ہیں۔‘

’بس ایک شمع کی کمی ہے جو انہیں راستہ دکھا سکے۔‘

’ان کی اچھائی کی استعداد: سب سے بڑھ کر یہی وجہ ہے کہ میں نے ان کے پاس تمہیں بھیجا ہے، اپنے اکلوتے بیٹے کو۔‘

کیسے پراثر الفاظ ہیں، بھلا ڈیڑھ دو گھنٹے کی فلم میں ایسی بات کہاں ہوسکتی ہے؟ سب سے اعلٰی تصویر تو وہ ہے جو انسان اپنے ذہن میں خود بنائے۔ ایسی تصویر کو حقیقی رنگ دیا جائے تو نتیجہ کبھی تسلّی بخش نہیں ہوتا۔ سپرمین کا کردار اتنا مقبول ہے کہ چند تصویروں سے ہی دیکھنے والا مضمون بھانپ لیتا ہے۔ غور کریں کہ ٹریلر میں کہیں بھی ’سوپر مین‘ نہیں کہا گیا۔

ٹریلر کی تصاویر حیرت انگیز حد تک جانی پہچانی ہیں۔ کَینساس کے مکئی کے کھیت اور ڈاک ڈبّے پر ’کینٹ‘ کا نام، ڈیلی پلَینِٹ اخبار کا دفتر، میٹروپلس کی اونچی چھت پر اپنے محبوب کا انتظار کرتی ہوئی لوئس اور سب سے بڑھ کر سوپرمین کے سینے پر پیوست لال اور پیلا ’ایس‘ کا نشان۔ میری نسل کا شاید ہی کوئی نمائندہ ایسا ہو جو اِس ’ایس‘ کو نہ پہچانے۔ بھلا کوئی فلم ان تصاویر سے بہتر کیسے ہو سکتی ہے؟

خیر چھوڑیئے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں ایک معمولی ہالی ووڈ فلم پر اتنا جذباتی ہوگیا لیکن میرا جنون فلم نہیں، سپرمین کی علامت ہے جو کسی بھی فلم سے بالاتر ہے۔

بقول شاعر:

میں صرف ایک انسان ہوں
ایک احمقانہ لال چادر میں
میں صرف ایک انسان ہوں
ایک خواب کی تلاش میں۔

آپ کی رائے

حسن بلوچ، اسلام آباد:
ضیاء صاحب، آپ نیو ورلڈ آرڈر کی روشنی میں دوبارہ ان مکالمات پر غور کریں، آپ کو سب سمجھ آجائے گی۔

خلیل الرحمان، پاکستان:
پتہ نہیں کیوں ضیاء صاحب کبھی مثل مکتب لگتے ہیں تو کبھی ان کا نشانہ ٹھکانے پر لگتا ہے۔ اب پتہ نہیں ان کو سپرمین دیکھ کر کیا یاد آ رہا ہے۔ یہ ناکام آرزو سپر مین بننے کی تو نہیں ہے۔

حبیب بلوچ، پاکستان:
یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ مسٹر ضیا کیا چاہتے ہیں یا پھر اس بلاگ کے ذریعے کیا بات ہم تک پہنچاناچاہتے ہیں اور بڑی تعجب کی بات ہے کہ بی بی سی کی سائٹ پر کس قسم کے بلاگ نظر آتے ہیں۔ برائے مہربانی اپنا بلاگ ضرور دیکھیں۔

ثنا خان، پاکستان:
فلم کا ٹیلر دیکھ کر اس کے بارے میں اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ بکواس ہے کہ نہیں لیکن سپر مین ریٹرنز دیکھنے والوں کے لیے اچھا تجربہ ہوگا۔

محسن چوہدری، ساہیوال:
ارے بھائی یہ بھی ایک طریقہ ہے پیسے کمانے کا کہ پرانی چیز کو پالش کرکے نئی کردو۔

مہر افشاں ترمذی، سعودی عرب:
کوشش تو بہت کی مگر بات کہہ نہ پائے۔

اپنا اقتباس ہمیں بھیجیں

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
ضیا احمد کا بلاگضیا احمد کا بلاگ
’ مصنف تو کاہل اور مدیر چست‘
ضیا احمد کا بلاگضیا احمد کا بلاگ
’کیا پیرس میں کینگرو ہوتے ہیں؟‘
کالا پانی جیل، جزائر انڈمانحسن مجتٰبی کا بلاگ
برصغیر کی آزادی اور کالا پانی کے100 سال
وسعت بلاگوسعت بلاگ
’پتھر تلے کراہنے والے مرد کا عالمی یوم کب؟‘
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد