وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
| | سات اپریل، دوپہر ایک بج کر تینتیس منٹ |  |
اسوقت میں شاہراہ قراقرم سے سیدھے ہاتھ پڑنے والی وادیِ الائی میں سطح سمندر سے پانچ ساڑھے پانچ ہزار فٹ بلند تیس ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں کھلے آسمان تلے بلامقصد بیٹھا ہوں۔ جسم تھکاوٹ سے ٹوٹ رھا ہے۔کام کرنے کا بالکل من نہیں ہے۔ لیکن وقت تو کاٹنا ہے کیونکہ گاڑی انوار الحسن لے کر گئے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں موبائیل فون بھی کام نہیں کرتا اس لئے کسی سے بات بھی نہیں ہوسکتی۔ اس سے بھی نہیں۔ایک نظم سنئے اس سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ میں کس کیفیت سے گذر رہا ہوں۔ نظم کا عنوان ہے وارنش کل میرے شوق کا طوطا انتظار کی سبز مرچ کھا گیا رقابت کی غلیل بھی آخر نیم کی لکڑی سے ہی بنتی ہے مگرمچھ نے اچانک درخت پر چڑھ کر خودکشی کرلی مچھلی پانی پیتے ہی مرگئی پادری عیسائی ہوگیا خانقاہوں کی منڈیروں پربیٹھنے والے کبوتر کب کے انسانی غذا ترک کرچکے یہ راز زیادہ لوگ نہیں جانتے کہ تمہارا بظاہر سپاٹ چہرہ باتھ روم کے لوٹے کی طرح ہر راز سے واقف ہے لیکن یہ سب جاننا بھی اب لاحاصل ہے کیونکہ محبت کی روٹی تو جل چکی اب ہم ہنی مون کے نوالے کس طرح توڑیں گے چلو جھینگر کی ناؤ پر بیٹھ کر وہاں چلتے ہیں جہاں دھوپ مینڈکوں پر وارنش کررہی ہے (دوپہر ایک بج کر تینتیس منٹ۔ بنہ، وادی الائی) | | آپ کی رائے |  |
| | اکتیس مارچ: ’اچھا لگتا ہے‘ |  |
اس ملک میں وہ علاقے بھی ہیں جہاں اگر عورت ریڈیو پر نہ صرف کسی مرد گلوکار کا گیت سن لے بلکہ گیت سنتے سنتے مسکرا بھی دے تو اسکا شوہر یا باپ یا بھائی اسے قتل بھی کر سکتا ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں ریپ ہونے کے بعد عورت مرد سے پہلے زنا کے الزام میں جیل جا سکتی ہے۔وہ اپنے بزرگوں کی مرضی کے بغیر شادی نہیں کرسکتی اور شادی نہ کرے تو سماج میں تنہا رہ نہیں سکتی۔کسی محرم یا سرپرست کے بغیر اکیلے سفر کرنا، ریسٹورنٹ میں اکیلے بیٹھ کر کھانا یا ہوٹل کے کمرے میں اکیلے چیک ان ہونا اسے مشکوک بنانے کے لئے کافی ہے۔ وہ جتنا زیادہ پڑھتی چلی جائے گی اسکے گھر والے اسکے رشتے کے لئے اتنے ہی پریشان ہوتے چلے جائیں گے۔اگر وہ کسی دفتر یا فیکٹری میں کام کرے تو اسے ہر قسم کی ہراسگی کا سامنا کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا پڑتا ہے اور اگر وہ نوکری کے بعد ایک گھنٹہ دیر سے بھی گھر پہنچے تو والدین کو بخار چڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہاں زیادہ تر وہی عورتیں اہم شعبہ ہائے زندگی میں کامیاب اور سرکردہ نظر آتی ہیں جن کا سیاسی، سماجی یا معاشی پس منظر انکا تحفظ کرتا ہو۔ ایسے میں جب کوئی مختاراں مائی دھم سے سامنے آتی ہے یا کوئی لڑکی ایرفورس کی فائٹر پائلٹ بنتی ہے تو اچھا لگتا ہے۔ | | ’آپ کیا کہتے ہیں‘ |  |
صدیقی عادل، کراما، دبئی مجھے لگتا ہے کہ اچھا نہیں بلکہ ایک اچھا قدم ہے۔ عورتوں کا بھی حق بنتا ہے کہ ہر جگہ پر مردوں کے ساتھ رہے۔ اگر خاموشی سے عورت گھر میں بیٹھی رہے تو عورتوں کی زندگی بھی کیا زندگی ہو گی یہ ان کا حق ہے۔ محمد یوسف اقبال، دبئی آپ کی حالت پر ہنسنے کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے۔ بس ایک پتھر پر بیٹھ کر گنگنائیے، جب تک آپ کی گھڑی وآپس نہیں آجاتی۔ عدیل خان، دبئی بتائیں نہیں اب وقت آیا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو بھی تعلیم اور عمل میں اگے لائیں۔ ممتاز علی قریشی، نبوں، پاکستان بی بی سی اردو پوری دنیا میں اردو بولنے اور پڑھنے والوں اور خاص کر پاکستانی عوام کے لیے ایک تحفہ ہے۔ بی بی سی کی اردو کی پوری ٹیم کو سلام پیش کرتا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی توجہ پاکستان میں بھتہ مزدوروں کی زندگی کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ جاوید گوندل، بارسلونا، سپین وسعت بھائی آپ اچھے بھلے تھے یہ بیٹھے بیٹھے آپ کو اس قسم کا دورہ کیوں پڑ گیا۔ آپ کس سے فون پر بات نہیں کرسکتے؟ یہ کوئی بات بھی ہوئی کہ آپ مگرمچھوں اور مینڈکوں پہ ہم کو ٹال رہے ہیں۔ عبدالوحید خان، برمنگھم دھوپ مینڈکوں پر وارنش کر رہی ہے تو خیال رکھناچاہیے کہ کہیں مینڈکوں کو زکام ہی نہ ہو جائے کیونکہ ویسے بھی آج کل برڈ فلو کا زمانہ ہے اس لیے احتیاط ضروری ہے۔ پرویز سومرو، پاکستان آپ اپنا کام بہت اچھی طرح سے کر رہے ہیں۔ میں ایک طالب علم ہوں اور آپ کی سوچ سے متاثر ہوں اور آپ کے لیے دعا گو ہوں۔ آفتاب وقاص، پاکستان وسعت صاحب آپ کی باتوں پر رائے کس چیز پر دیں؟ وادی الائی پر، آپ کی تھکاوٹ پر، اس پر جس سے آپ بات نہیں کرسکے۔ موبائل فون کی سروس پر یا پھر عنوان سے نہ ملنے والی نظم پر ذرا بیان تو کریں۔۔۔ ریحان ظہور، پاکستان انتہائی فضول ہے اور بی بی سی کو اس قسم کی چیزیں چھاپنی نہیں چاہیں۔ مونا، کینیڈا عورتوں کی آزادی سے آپ کا کیا مطلب ہے؟ کیا ڈاکٹر اور پائلٹ ہونے سے عورت آزاد ہو سکتی ہے اور کیا عورت کو اپنی چیز منتخب کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ طارق برمانی، پاکستان دوستوں کو بھول جاؤ گے تو ایسا ہو گا حال۔۔۔ سید شازیہ حسین، کینیڈا یہ ہے ہماری عورت اس پر اعتماد تو کر کے دکھائیں! خلیل چاچٹر، پاکستان خیالات کمال ہیں۔ بلاشک لیکن اس پر نظم ہونے کی تہمت مت لگائیں بلاشبہ آپ تخلیقی ذہن کے نائس گنجے ہیں۔ ہمیں آپ پر فخر ہے۔ محمد عمران، لندن میرا خیال ہے کہ مولانہ فضلالرحمان صاحب سے پوچھ لیتے ہیں۔ آزاد سرائکی، بہاولپور کیا ان نئے پائلٹز میں کوئی سرائکی، سندھی یا بلوچ لڑکی ہے؟ سرائکی اور سندھی لڑکیوں میں سے صرف مختاراں مائی اور ڈاکٹر شازیہ ہی کیوں پیدا ہوتی ہیں جبکہ پنجابی اور محاجر لڑکیاں پائلٹ بن رہی ہیں۔ ایم اعظم، امریکہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ پاکستان میں خواتین نے دنیا کو یہ دکھانا شروع کر دیا ہے کہ وہ مردوں سے کم نہیں۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ ایسا ہوتا رہے گا۔ اشتیاق، نامعلوم مجھے امید ہے کہ ان لڑۂیوں کی وجہ سے پاکستانی لڑکیوں کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا۔ ثنا خان، پاکستان اچھا نہیں، بہت اچھا لگتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے کچھ حاصل کر لیا۔ عورتیں صرف روتی دھوتی نہیں ہیں بلکہ کیرئر بھی ساتھ ساتھ بناتی ہیں۔ ’ہیٹس آف ٹو دم‘۔ جہانگیر حسن، پاکستان اچھا لگتا ہے لیکن دل میں حسرت سی رہتی ہے کہ میں کیوں نہیں بنا فائٹر پائلیٹ۔ یہ لڑکیاں نہایت ہی خوش نصیب ہیں۔ محمد اکمل، برطانیہ میں بس یہ کہوں گا کہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے کہ اب بھی ہمارے ملک میں عورتوں کے ساتھ منصفانہ سلوک نہیں ہوتا اور انہیں ہر جگہ ہراساں ہونا پڑتا ہے۔ اس قوم کو اللہ رکھے۔ فاضلی خان، اسلام آباد میرے خیال میں یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کہ اب عورتیں ہر شعبہ میں حصہ لے رہی ہیں۔ ہمیں لڑکیوں کی طرف اپنے رویے کو بدلنا ہوگا اور انہیں اعلی تعلیم دینی ہوگی۔ یہ سچ ہے کہ کچھ کام نہایت ہی مشکل ہیں مگر عورتوں جیسا عظم اور حوصلہ مردوں میں نہیں ہوتا۔ اور جہاں تک عورتوں کی حفاظت کا سوال ہے تو اگر ہم تمام عورتوں کی سچے دل سے عزت کریں تو یہ مسئلہ خود ہی ختم ہو جائے گا۔ آفتاب چانڈیو، نواب شاہ وسعت صاحب، آپ نے ٹھیک کہا۔ بہت اچھا لگتا ہے جو ہمارے جیسے تنگ نظر معاشرے میں مختاراں مائی اور عورت پائلیٹ دھم سے سامنے آ جاتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ہم اس معاشرے میں ایسی عورتوں کو برداشت بھی نہیں کر سکتے اور اپنی جھوٹی انا کی خاطر ایسی عورتوں کو کاری قرار دیتے ہیں۔ پتہ نہیں ہم مسلمانوں کا کیا ہوگا۔ عدنان محمد، لندن صحیح کہا۔۔۔آپ کی باتیں میرے دماغ کو ہلا دیتی ہیں۔ سچ میں پتہ نہیں ہمارا پاکستان کب اس جانب سوچے گا۔ فیاض مسعود، لاہور وسعت نے پاکستانی عورت کی زندگی کو بہت خوب صورتی سے بیان کیا ہے۔ فواد خان، آسٹریلیا عورتوں کو پاکستان ائر فورس میں فائٹر پائلٹز دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔ اس سے دنیا میں پاکستان کی امیج بہتر ہوگی۔ میں وسعت اللہ خان صاحب سے اتفاق کرتا ہوں۔ |