پتلی تماشہ: وسعت اللہ خان کا بلاگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تئیس مارچ کو ورلڈ پپٹ ڈے یعنی پتلیاں نچانے کا عالمی دن باقی ملکوں کی طرح پاکستان کے ثقافتی دل لاہور میں بھی سرکاری سرپرستی میں نہایت جوش و جذبے سے منایا گیا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو پتلی تماشے سے محظوظ کرنے کے لئے صوبائی حکومت نے دن رات ایک کردیے۔صوبے کے گوشے گوشے سے تماشائیوں کو لانے کے لئے ہزاروں بسوں اور ویگنوں کو ذخیرہ کیا گیا۔ سرکاری ملازمین بالخصوص لاہور اور اسکے گردونواح کے تمام استادوں اور استانیوں کو پابند کیا گیا کہ وہ ہر صورت میں پتلی تماشہ دیکھیں تاکہ بعد میں طلبا و طالبات کو اسکی قومی اہمیت اور فنی پہلوؤں سے آگاہ کرسکیں۔ اس تماشے کے لئے مینارِ پاکستان کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں ایک لاکھ سے زائد تماشائیوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا۔ تئیس مارچ انیس سو چالیس کے دن آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ جلسے کا اسٹیج بھی یہیں بنا تھا۔اس اسٹیج پر قائد اعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان، چوہدری خلیق الزماں، مولوی اے کے فضل الحق، قاضی عیسی، عبداللہ ہارون، سردار نشترِ، فاطمہ جناح اور جہاں آرا شاہنواز جیسی بہت سی شخصیات موجود تھیں۔ ٹھیک چھیا سٹھ برس بعد عین اس مقام پر پاٹے خان کی منڈلی نے اپنا دلچسپ شو پیش کرکے تماشائیوں کے دل موہ لیے۔ لاہور کے اس منٹو پارک المعروف اقبال پارک میں تئیس مارچ انیس سو چالیس کو منظور ہونے والی قرارداد کی روشنی میں جو ملک بنا اسکا کوئی فیض کسی کو پہنچا یا نہیں لیکن پاٹے خان کی منڈلی کو یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اسے اپنی پرفارمنس دکھانے کے لئے ایک کھلا میدان میسر آ گیا۔
اجمل مندھرانی، کراچی: مہرافشاں ترمذی،سعودی عرب: ملک ممتاز، مڈل سیکس، انگلینڈ: آفتاب احمد، لینسنگ، امریکہ: نوید اعوان، گوجرانوالہ: جاوید گوندل، بارسلونا، سپین: اے رضا، ابوظہبی: فہیم رضا، ہانگ کانگ: نظام، دبئی: نواز بھٹہ، لاہور: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||