’ کب کا ترک اسلام کیا۔۔۔‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میری ایک جاپانی پڑوسن اپنا آبائی مذہب بدھ مت چھوڑ کر عیسائی ہوگئی ہے اور میرے ایک اور رومن کیتھولک عسیائی فرقے کے ماننے والے پڑوسی لی کا ایک بیٹا اور بہو بدھ بن گئے ہیں اور ان کی شادی بھی بدھ طریقے سے ہوئی۔ ان کے ترک مذہب پر نہ تو کسی نے کوئی ہڑتال کی اور نہ ہی پادریوں نے ان پر ’کفر‘ کے فتوے لگائے اور نہ ہی ان کو موت کی دھمکیاں ملیں۔ ایسے بھی امریکی ہیں جو پہلے عیسائی تھے اب مسلمان ھوگئے ہیں۔ ایسے بہت سے ناموں میں ایک بڑا نام باکسر محمد علی کا ہی لے لیجیے۔ ان کی تبدیلی مذہب پر نہ تو کسی گرجا نے انہیں مرتد کہا اور نہ ہی ان پر سنگ باری ہوئی۔ یعنی کہ میرے مذہب اور لامذہب ہونے کا معاملہ ایک ذاتی مسئلہ ٹہرا اور وہ، بقول شخصے، آدمی کے جوتے میں پھٹے موزے کی طرح ھے کہ صرف اسی کو معلوم ہے کہ اس کا موزہ پھٹا ہوا ہے۔ لیکن ایک اپنے بھائی عبدالرحمان تھے کہ انکی تبدیليِ مذہب پر ایک ایسا شور اور تعزیریں اٹھیں کہ وہ اپنی گردن کٹوانے سے بال بال بچ گئے، وہ بھی بھلا ہو عالمی احتجاج کا کہ جس پر کرزئی حکومت عبدالرحمان کی گلو خلاصی کروانے پر مجبور ہوئی۔ اب وہ اٹلی میں گا تا ھوگا ’میرا نام عبدلرحمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘ مسلمان بڑے خوش ہوتے ہیں اگر کوئی رضاکارانہ یا زبردستی ’دائرہ اسلام‘ میں داخل ہو، اگر نکل جائے تو تلواریں ننگی کرلیتے ہییں۔ ’ان کی عورتیں تمھاری کھیتی ہیں، انہیں تم جس طرح چاہو بو سکتے ھو‘ میرے محلے والی مسجد کا مولوی بڑے شوق سے یہ آیت پڑھتا- ’انکی عورتیں‘ سے اس کی مراد ہندو عورتیں ہوتیں۔
میرے لیے بلاگ لکھنا وہ جو کہتے ہیں نہ کہ کسی کنویں ميں گر پڑی لنگڑی چیونٹی کے آسمان ناپنے کے مترادف ہے اور جب کہانیوں کا کنواں ھی خشک ہوجائے تو پھر اسے بھرنے کیلیے ایک لمبی آوارہ گردی کی ضرورت ہوتی ہے جو میں کبھی کیا کرتا تھا۔ واپسی پر میرا تھیلا کہانیوں سے بھرا ہوتا۔ عجیب و غریب اور غریب و عجیب کہانیاں۔ راستے جب زرد پھولوں سے اٹے ھوتے تھے تو فیض کی وہ سطر اٹھ کر آتی تھی ’زرد پتوں کا بن جو مِرا دیس ہے، درد کی انجمن جو میرا دیس ہے۔‘ اور لوگ ہیں کہ ان ’درد کی انجمنوں‘ سے سرپٹ بھاگتے آتے جارہے ہیں۔ ’ھم نے سرحدیں کراس نہیں کی سرحدوں نے ہمیں کراس کیا‘ ، کل لاس اینجلس میں ہزاروں تارکینِ وطن کی نکلی ہوئی ریلی کا ایک بینر تھا۔ ایسے تارکینِ وطن میں بائوجی بھی ہے جسے میں ’سیالکوٹ کا حکیم الامت‘ کہتا ہوں۔ باؤ جی نے اس وقت سیالکوٹ چھوڑا جب ان کے بچے بہت چھوٹے تھے۔ باؤ جی کو اپنے بچوں اور بچوں کو باؤ جی کے چہرے بس دھندلے سے یاد ھیں۔ ’بس یہ ہوا کہ بچوں کو مکان اپنا بنوادیا ہے اور میرے بچے سیالکوٹ سے لاہور منتقل ہوگئے ہیں‘، باؤ جی نے کہا۔ باؤ جی آج بھی پابندی سے اپنے بیوی بچوں کو لاہور اور والدین کو سیالکوٹ فون کرتے ہیں اور بڑے باخبر رہتے ہیں۔ بہت دن ہوئے کہ باؤ جی نے سیالکوٹ سے ترک وطن کرکے باہر کے ملکوں میں جانے والوں اور پھر وہاں سے ڈی پورٹ یا اپنے آپ لوٹنے والوں کی مثال یوں دی تھی ’ابًا جی بتا رہے تھے کہ پہلے یہ تھا کہ میرے محلے کے چوک میں جو قصائی بیٹھا ہوتا تھا اسکا سارا گوشت سویرے سویرے بِک جاتا تھا کیونکہ خریدنے والوں کے رشتے دار باہر گئے ہوئے تھے۔ اب وہ صبح سے عصر کے وقت تک گوشت پر سے مکھیاں اڑاتا رھتا ھے کیونکہ اب میرے محلے کے بہت سے لوگ باہر کے ملکوں سے واپس سیالکوٹ بھیج دیئے گئے ہیں۔‘
بہت دن ہوئے کہ مینار یادگار پاکستان سے میرا قصدن گذر ھوا تھا۔ وہ دن تئيس مارچ کا تھا اور میں وہاں وہ تحریر پڑھنے گیا تھا جو ایک وعدہ تھا جو کبھی جو وفا نہ ھوا۔ مینار پاکستان پر اور اس سے تھوڑا پرے ایک خلق تماشائی تھی۔ ’اپنی عزت اپنی شان جاگ رہا ہے پاکستان‘ کہیں ’شباب ملی‘ کے نغمے بج رہے تھے تو کہیں نان چھولے بک رہے تھے، کہیں پولیس والے پارک کے کونوں میں بیٹھے جوڑوں سے نکاح نامے مانگ رہے تھے تو کہیں بندریا کا ناچ ہورہا تھا۔ وے طوطیا! توپ چلا، مداری اپنی بندریا سے کہہ رہا تھا۔ جو تماشائیوں کو ایسا سلوٹ ماررہی تھی جو پاکستان میں فائیو اسٹار جنرل بھی منتخب وزیر اعظموں کو نہیں مارتے۔ سندھی میں کہتے ھیں ’لاٹھیاں جھیلے بندریا کمائی کھائے فقیر‘۔ پھر وہ مجمے والی جگہ تھیٹر میں سیٹ کی طرح تبدیل ہوگئی۔ آگے چل کر کیا دیکھا کہ پروفیسر گلقام نام کا جادوگر یا شعبدہ گر اپنے ہیٹ سے کبوتر اور خرگوش نکال رہا تھا جو ایک ایک کرکے علامہ اقبال کے مزار کی جانب چلتے اور اڑتے جارہے تھے۔ تالیاں۔ نظر کا دھوکہ کسی نے کہا۔ ’جادو بر حق ہے لیکن کرنے والا کافر ہے‘ خود جادوگر پروفیسر کا کہنا تھا جسکے بقول وہ جادو نہیں بلکہ قرآنی علم کررہا ہے۔ میں ایک اور مجمے میں گم ہوگیا جہاں جڑی بوٹیاں اور سلاجیت بیچتا ہوا ’حکیم‘ چابی کے کھلونے چلانے سے پہلے مجمے سے بچوں کو ’شرافت سے‘ نکل جانے کو کہہ رہا تھا- اس نے کھلونوں میں چابیاں بھرتے اور اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا ’تو میرے بھائيو! تم نے انگريز کا دماغ تو دیکھ لیا، اب تم سوچـو گے کہ یہ تو ہوا انگریز کا دماغ لیکن لالے کا دماغ کیا ہے۔ لالے کا دماغ یہ جڑی بوٹی ہے، سلاجیت ہے جو تم بھائیوں کو کھلائےگا۔ دوائی لو نہ لو لیکن انگریز کے دماغ کا کمال ضرور دیکھیےگا۔ مجمع دوائی نہ لینے والوں کو لالے کی دوائی نہ لینے پر اس کی بغیر تجنیس کے فرق کی گالیوں کی دھوم میں چھٹنے لگا لیکن انگریز کا دماغ والا وہ کھلونا کبھی نہیں آیا۔ میں نے سوچا یہی حال پاکستان بننے کی بھیڑ پر تھا جس میں آج تک
عبدالوحید خان، برمنگھم: حسن صاحب آپ ٹھیک کہتے ہیں ہمارے لیڈر تو مداری والے کھیل تماشے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مداری کا تماشہ تو تھوڑی دیر کا ہوتا ہے لیکن وطن عزیز میں بس تماشہ ہی تماشہ ہو رہا ہے۔ جب تک ڈگڈگی بجتی رہے گی ریچھ اور بندر تو اپنا کام کرتے رہیں گے لیکن جب ڈگڈگی بجنا بند ہوگی تو سب اوقات پر آ جائیں گے۔ جاوید گوندل: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||