عادتوں کا ’آڈٹ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں نے چائے تقریباً چھوڑ دی ہے۔ بس ایک پیالی گرم چائے شام کو دفتر سے واپس جا کر گھر میں پیتی ہوں، سکون سے ۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ بس یہی کہ چائے پینا ایک بے تُکی سی عادت بن گئی تھی، اتنی چائے پی رہی تھی کہ نہ تو اس کی میں قدر کرتی اور نہ ہی میری صحت کو اس سے کوئی خاص فائدہ ہو رہا تھا۔ جھٹکا تو مجھے پچھلے سال رمضان میں لگا۔ پہلا روزہ رکھا تو افطار سے پہلے چائے کی کمی نے برا حال کردیا، گویا کسی منشیات کے عادی کا۔ غصے پر قابو نہیں، سر بھاری اور عجیب سی بے چینی۔ بس چائے کی طلب تھی۔ میں نے سوچا کہ چائے کوئی ایسی بھی خاص چیز نہیں جس سے میں اپنا یہ حال بنا لوں۔ اور بس اسی وقت ارادہ کیا کہ کبھی زیادہ کبھی کم، لیکن اس عادت کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔ زندگی میں درجنوں عادتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ہم سوچنا ہی چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ ہم کر کیوں رہے ہیں اور ان سے ہمیں خوشی کتنی حاصل ہوتی ہے۔ چائے، کافی، تمباکو نوشی، غیبت کرنا، ضرورت سے زیادہ کھا لینا، بچوں کو ڈانٹنا ۔۔۔ یہ سب عادتیں بن جاتی ہیں۔ ان سب پر وقتاً فوقاً غور کرنا اور ان کا ’آڈٹ‘ ہمارے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ میں نے تو یہ پایا کہ چائے کی اس واحد پیالی کا ذائقہ، پہلے کی ان چھ آٹھ پیالیوں سے بہت ہی زیادہ ہے۔
علی عمران جونیئر، کراچی: جی جناب مسز ڈی سی تو عادت سے مجبور ہوں گی یا نیا نیا ناریل ان کے ہاتھ لگا ہوگا۔ ہم تو ایک اعلیٰ افسر کی ایسی بیوی کو بھی جانتے ہیں جنہیں جب ان کے شوہر کے ایکسیڈنٹ کی خبر فون پر دی گئی تو وہ ٹھیٹھ لہجے میں بولی اچھا ہوا کہ ہمارے گھر میں بھی کچھ انگریجی میں ہوا۔ اختر بلوچ، کینیڈا مہر افشاں ترمذی، سعودیہ ثناء خان، کراچی
میری زندگی کا ایک زمانہ وہ بھی تھا جس میں میں ایک سرکاری افسر کی بیوی رہی ( میں نے شوہر نہیں بدلا بلکہ شوہر نے اپنا پیشہ بدل لیا)۔ اس دوران مجھے یہ معلوم ہوا کہ سرکاری افسران کی بیگمات اپنے آپ کوبہت کچھ سمجھتی ہیں۔ ایک اردرلی اور ڈرائیور کیا مل گیا کہ بیگم صاحبہ کا بالکل دماغ ہی خراب۔ چھ ہزار کی تنخواہ لیکن بیگم صاحبہ کے امیروں والے نخرے۔ گھر ایسا ہو، صوفہ ویسا ہو، گھر میں کارپٹنگ کرائی جائے۔۔۔ سب سے مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ یہ خواتین اپنی شناخت میاں کے عہدے سے کرتی ہیں اور اس میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ بہت سال پہلے میرے میاں کے ضلع کے ایس ایس پی نے ہمیں اپنے بچے کی سالگرہ کی تقریب میں بلایا تو وہاں ایک نک چڑھی سی خاتون بھی بیٹھی تھیں۔ میزبان کی بیوی ثمینہ نے ان سے چائے کھانے کا پوچھا اور پھر یہ جاننا چاہا کہ ان کا تعارف کیا ہے۔ نک چڑھی نے مڑ کر ان سے کہا ’میں مِسز ڈی سی ہوں‘۔ اور پھر منہ موڑ لیا۔ ثمینہ خود اعلی افسر کی بیوی تھیں لیکن انہوں نے اپنا تعارف عہدے سے نہیں کیا تھا اور وہ اس خاتون کے رویے پر حیران رہ گئیں۔ انہیں سمجھ نہ آیا کہ وہ اس واقعہ پر ہنسیں یا پھر افسوس کریں کہ ہمارے افسر لوگ کتنے مغرور اور بدتمیز ہو سکتے ہیں۔
شاہدہ اکرم، ابو ظہبی ہو سکتا ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ ’خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے‘۔ ویسے بھی دنیا کا دستور ہی یہی ہے، شاید ہمیشہ سے، کہ سب چڑھتے سورج کی ہی پوجا کیا کرتے ہیں۔ اب افسوس کریں یا دکھ کریں کسی بھی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دیکھتے جائیں دنیا اور دنیا کے لوگوں کو۔۔۔ اشفاق احمد سومرو، لاڑکانہ خان پٹھان، ٹورانٹو عادل فاروق، فیصل آباد اسمارا حسن آغا، امریکہ عبدالوحید خان، برطانیہ نعمان احمد، راولپنڈی |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||