BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 March, 2006, 14:52 GMT 19:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عادتوں کا ’آڈٹ‘

میں نے چائے تقریباً چھوڑ دی ہے۔

بس ایک پیالی گرم چائے شام کو دفتر سے واپس جا کر گھر میں پیتی ہوں، سکون سے ۔

اس کی وجہ کیا ہے؟ بس یہی کہ چائے پینا ایک بے تُکی سی عادت بن گئی تھی، اتنی چائے پی رہی تھی کہ نہ تو اس کی میں قدر کرتی اور نہ ہی میری صحت کو اس سے کوئی خاص فائدہ ہو رہا تھا۔

جھٹکا تو مجھے پچھلے سال رمضان میں لگا۔ پہلا روزہ رکھا تو افطار سے پہلے چائے کی کمی نے برا حال کردیا، گویا کسی منشیات کے عادی کا۔ غصے پر قابو نہیں، سر بھاری اور عجیب سی بے چینی۔ بس چائے کی طلب تھی۔

میں نے سوچا کہ چائے کوئی ایسی بھی خاص چیز نہیں جس سے میں اپنا یہ حال بنا لوں۔ اور بس اسی وقت ارادہ کیا کہ کبھی زیادہ کبھی کم، لیکن اس عادت کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔

زندگی میں درجنوں عادتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ہم سوچنا ہی چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ ہم کر کیوں رہے ہیں اور ان سے ہمیں خوشی کتنی حاصل ہوتی ہے۔ چائے، کافی، تمباکو نوشی، غیبت کرنا، ضرورت سے زیادہ کھا لینا، بچوں کو ڈانٹنا ۔۔۔ یہ سب عادتیں بن جاتی ہیں۔

ان سب پر وقتاً فوقاً غور کرنا اور ان کا ’آڈٹ‘ ہمارے لئے مفید ہو سکتا ہے۔

میں نے تو یہ پایا کہ چائے کی اس واحد پیالی کا ذائقہ، پہلے کی ان چھ آٹھ پیالیوں سے بہت ہی زیادہ ہے۔

آپ کیا کہتے ہیں

علی عمران جونیئر، کراچی:
جی جناب مسز ڈی سی تو عادت سے مجبور ہوں گی یا نیا نیا ناریل ان کے ہاتھ لگا ہوگا۔ ہم تو ایک اعلیٰ افسر کی ایسی بیوی کو بھی جانتے ہیں جنہیں جب ان کے شوہر کے ایکسیڈنٹ کی خبر فون پر دی گئی تو وہ ٹھیٹھ لہجے میں بولی اچھا ہوا کہ ہمارے گھر میں بھی کچھ انگریجی میں ہوا۔

اختر بلوچ، کینیڈا
میں جناب خان پلٹھان صاحب کی بات کے جواب میں کہنا چاہوں گا کہ کسی سٹیل مل کے بڑے افسر کے ٹیکسی چلانے میں کیا برائی ہے۔ کم از کم یہ جسم فروشی سے تو بہتر ہی ہے۔

مہر افشاں ترمذی، سعودیہ
اچھا تو آپ کی روزہ کشائی پچھلے سال ہی ہوئی ہے۔ ویسے کچھ دیر نہیں کردی آپ نے روزہ کشائی میں؟

ثناء خان، کراچی
چائے چھوڑنا اچھی بات نہیں ہے۔ دن میں چھ کپ بھی کم ہی ہیں۔ یہ تو کسی بھی وقت اچھی ہی لگتی ہے۔ افطاری کے بعد چائے پینے سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی نے جان ڈال دی ہو۔

’مسز ڈی سی‘: سترہ مارچ، شام پانچ بجے



میری زندگی کا ایک زمانہ وہ بھی تھا جس میں میں ایک سرکاری افسر کی بیوی رہی ( میں نے شوہر نہیں بدلا بلکہ شوہر نے اپنا پیشہ بدل لیا)۔

اس دوران مجھے یہ معلوم ہوا کہ سرکاری افسران کی بیگمات اپنے آپ کوبہت کچھ سمجھتی ہیں۔ ایک اردرلی اور ڈرائیور کیا مل گیا کہ بیگم صاحبہ کا بالکل دماغ ہی خراب۔

چھ ہزار کی تنخواہ لیکن بیگم صاحبہ کے امیروں والے نخرے۔ گھر ایسا ہو، صوفہ ویسا ہو، گھر میں کارپٹنگ کرائی جائے۔۔۔

سب سے مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ یہ خواتین اپنی شناخت میاں کے عہدے سے کرتی ہیں اور اس میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ بہت سال پہلے میرے میاں کے ضلع کے ایس ایس پی نے ہمیں اپنے بچے کی سالگرہ کی تقریب میں بلایا تو وہاں ایک نک چڑھی سی خاتون بھی بیٹھی تھیں۔ میزبان کی بیوی ثمینہ نے ان سے چائے کھانے کا پوچھا اور پھر یہ جاننا چاہا کہ ان کا تعارف کیا ہے۔ نک چڑھی نے مڑ کر ان سے کہا ’میں مِسز ڈی سی ہوں‘۔

اور پھر منہ موڑ لیا۔

ثمینہ خود اعلی افسر کی بیوی تھیں لیکن انہوں نے اپنا تعارف عہدے سے نہیں کیا تھا اور وہ اس خاتون کے رویے پر حیران رہ گئیں۔ انہیں سمجھ نہ آیا کہ وہ اس واقعہ پر ہنسیں یا پھر افسوس کریں کہ ہمارے افسر لوگ کتنے مغرور اور بدتمیز ہو سکتے ہیں۔

’آپ کیا کہتے ہیں‘

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی
ہو سکتا ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ ’خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے‘۔ ویسے بھی دنیا کا دستور ہی یہی ہے، شاید ہمیشہ سے، کہ سب چڑھتے سورج کی ہی پوجا کیا کرتے ہیں۔ اب افسوس کریں یا دکھ کریں کسی بھی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دیکھتے جائیں دنیا اور دنیا کے لوگوں کو۔۔۔

اشفاق احمد سومرو، لاڑکانہ
دنیا بدل رہی ہے اور اس کے ساتھ افسروں کے سوچنے کا طریقہ بھی بدل رہا ہے۔ ان کے پاس اب اور کوئی راستہ بھی تو نہیں ہے۔ آج کل بس ایک اعلی سروس رہ گئی ہے اور وہ ہے فوج۔

خان پٹھان، ٹورانٹو
وقت تو ہر ایک کو سیدھا کر دیتا ہے۔ ایک صاحب جو سٹیل ملز پاکستان میں سب سے بڑے عہدے پر تھے آج کل ٹورانٹو میں ٹیکسی چلاتے ہیں۔ وہ بیگم صاحبہ جو پہلے بات کرنا پسند نہیں کرتی تھیں آج کل محبت کا پیکر بنی ہوئی ہیں۔ غرور ہر حال میں برا ہی ہوتا ہے۔

عادل فاروق، فیصل آباد
ان بیگمات کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جو بھی ہو پیسہ تو یہ عوام کا ہی استعمال کرتی ہیں۔ ان کے شوہر حکومت کے نہیں بلکہ ہر شخص کے ملازم ہیں۔ خود کو ایک ملازم کی بیوی سمجھیں نہ کہ افسر کی۔

اسمارا حسن آغا، امریکہ
میں یہ کہنا چاہوں گی کہ سب بیگمات ایسی نہیں ہوتیں لیکن زیادہ تر ایسی ہی ہوتی ہیں۔ اس سے ان میں تعلیم کی کمی کی عکاسی ہوتی ہے۔

عبدالوحید خان، برطانیہ
اب تو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری والی بات ہے کیونکہ ڈی سی کا عہدہ ہی ختم ہو گیا ہے تو مسز ڈی سی کیا تعارف کروائے گی۔

نعمان احمد، راولپنڈی
میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ اپنے آپ کو افسر اس لیئے نہیں کہتا کیونکہ اگر کچھ لوگ میرے ماتحت ہیں تو کچھ افسر پھی ہیں۔ کسی کو ڈانٹتے ہیں تو کسی کی ڈانٹ سنتے ہیں۔ اگر افسروں کی بیگمات کو یہ پتہ چل جائے کہ ان کے شوہرں کی اپنے افسران ِ بالا کے سامنے کیا حالت ہوتی ہے تو کیسا غرور اور کہاں کی ناک۔

اپنا اقتباس ہمیں بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
’بحث اصل پٹھان کی’بحث اصل پٹھان کی
لیڈز میں ایک مصروف دن: عارف شمیم کا بلاگ
’تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے‘وسعت کا قصیدۂِ گنج
’تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے‘
ضیا بلاگکال ایل کی واپسی
ایس کا نشان ضیا کی نسل کیوں پہچانتی ہے؟
کالا پانی جیل، جزائر انڈمانحسن مجتٰبی کا بلاگ
برصغیر کی آزادی اور کالا پانی کے100 سال
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد