بحث اصل پٹھان کی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دفتری کام میں کے سلسلے میں لیڈز میں ایک دن گزار کر آج واپسی ہوئی۔ مجھے برطانیہ کے سارے شہر تقریباً ایک سے لگتے ہیں۔ ایک سی عمارتیں، ایک سی صفائی، ایک سی گندگی اور ایک سے اور ایک ہی نام کے سُپر سٹورز۔ بس کئی جگہ لوگ اپنی مشترکہ کوششوں سے ان شہروں کو مختلف بنا دیتے ہیں۔ زبان کے ڈائلیکٹس سے یا اپنے رہن سہن سے۔ لیڈز کے تھامس ڈمبی کالج میں کئی پاکستانیوں اور پاکستانی نژاد برطانوی باشندوں سے ملا۔ گفتگو کا محور سب کا گھوم پھر کر پاکستان ہی تھی۔ ’اگر میں پاکستان سے نہیں آیا تو میرے ماں باپ پاکستان سے آئے اور اگر میں اردو پڑھ نہیں سکتا / سکتی تو وہ ضرور پڑھ سکتے ہیں۔ پر میں سمجھ ضرور لیتا/لیتی ہوں، گھر میں ماں باپ بولتے جو ہیں‘۔ وہاں کے لوگوں سے کچھ اس طرح کی ہی باتیں ہوئیں۔ ایک دلچسپ خان صاحب سے بھی ملاقات ہوئی جو پیشے سے سائکولوجسٹ تھے۔ انہوں نے کئی مزیدار باتیں کیں۔ دو قابلِ ذکر ہیں۔ ایک تو انہوں نے بی بی سی ایشیا نیٹ ورک سے گلہ کیا کہ وہ پشتو میں پروگرام پیش کیوں نہیں کرتے۔ اور دوسرا انہوں نے دو پٹھانوں کی گفتگوں سنائی۔ گفتگوں کچھ اس طرح سے ہے۔ ’ایک پٹھان دوسرے پٹھان سے کرار کر رہا ہوتا ہے کہ تم اصل پٹھان نہیں ہو۔ کئی جغرافیائی اور لسانی مثالوں کے علاوہ وہ دلیل دیتا ہے کہ اگر تم اصل خان ہوتے تو خود کو پٹھان نہیں بلکہ پختون کہتے‘۔ پٹھان یا پختون آگے بڑھیں اور اصل بات بتائیں۔
بلاگ پر آنے والے خطوط پر نہ جانے کیوں مجھے ہندی فلم ’کبھی خوشی کبھی غم‘ یاد آ گئی ہے۔ کسی نے یہ بھی لکھا کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر وسیم راجہ کے ساتھ ویب کاسٹ کرنے والے ہنستے کھیلتے عارف شمیم میں اور بلاگ لکھتے ہوئے دکھ میں سوتے جاگتے عارف شمیم دو مختلف انسان کیوں محسوس ہو رہے ہیں۔ میں اس وقت سے اس سوچ میں ڈوبا ہوں کہ میرے اندر کتنے عارف شمیم ہیں۔ کیا ایک سوتا ہے تو دوسرا جاگ جاتا ہے۔ کہ یہ سب ایک ہیں۔ ایک چہرے پہ کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ۔ کیا میں بھی اسی بھیڑ کا حصہ ہوں۔ ویسے میں تو بھیڑ سے بہت ڈرتا ہوں۔ بیوی مجھ سے اس بات پر بھی ناراض رہتی ہے کہ پانچ سال ہو گئے میں دسمبر کی سیل کے پہلے دن کبھی اسے لے کر نہیں گیا۔ ہمیشہ سوچتا ہوں کہ اگلے سال جاؤں گا پر بھیڑ سے بہت ڈر لگتا ہے۔ دیکھا پھر نیا چہرہ لگا لیا۔ ویسے یہ سب تصویریں میری ہی ہیں۔
سال کا تہترواں دن یعنی چودھا مارچ بڑا مصروف رہا۔ کئی کام کیے جن میں گھر والوں کی طرف سے کھانا کھانے باہر جانا بھی شامل تھا۔ میرے اصرار کے باوجود پیسے انہوں نے ہی دیے۔ میری سالگرہ جو تھی۔ دو بہتر چیزیں بھی ہوئیں۔ ڈاکٹروں اور سائنسدانوں نے دل کی نئی دوا کی نوید کا تحفہ دیا جس سے ساری بیماری ’ریورس‘ ہو سکتی ہے اور بچوں اور ان کے دوستوں نے اپنے ہاتھوں سے بنا کر کارڈ دیے۔ میرے بیٹے نے کارڈ پر انگریزی میں ’موٹے بابا‘ لکھا اور اس کے دیکھا دیکھی اس کے دوستوں نے بھی ’موٹے انکل‘ کسی طرح ’پیارے انکل‘ میں لکھ کر گھسایا۔ بڑا اچھا لگا۔ میرے ساتھی ساجد اقبال نے صحت کے لیے دعا بھی دی اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیشہ خوش رہنے والی ’دوا‘ بھی پلائی۔ رات کو سب گھر والے مل کر ایک گاڑی میں ٹھنسے اور بچوں کے اصرار پر ’پیتزا ہٹ‘ مقام ٹھہرا۔ میں نے زیادہ کھایا کیونکہ باقی صرف ’پیتزا ہٹ‘ گئے تھے۔ لیکن میرا کل کا دن وہاں کی ایک ویٹرس نے مکمل کیا۔ ہمیں کھانے کی اشیاء دیتے ہوئے جب اسے میرے بیٹے سے پتہ چلا کہ آج میرا جنم دن ہے تو اس نے مسکرا کر کہا ’بیک ٹو ٹونٹی ون‘ یعنی اکیس کی طرف واپس۔ بعد میں نیند آرام سے آئی۔
شاہدہ اکرم، ابو ظہبی: ہیپی برتھڈے ٹو یو عارف شمیم بھائی۔ چلیں نیند اور جاگنے کے دوران کی کیفیت تو ٹوٹی۔ بی بی سی کے ذریعے یہ تو بتا دیا ہوتا کہ عمر عزیز کی کونست بہار ہے؟ اندازہ تو لگا سکتے ہیں لیکن اندازے غلط بھی ہوا کرتے ہیں۔ بڑی پیاری باتیں لگیں بچوں کی، دوستوں کی۔ یہی باتیں دل لگاتی بھی ہیں۔۔۔دل کے درد کی دوا کو سائنس دانوں نے بتائی ہے وہ کب بتائیں گے؟ منتظر رہیں گے سب دل کے مریض۔۔۔ نظام، دبئی: سمیع بھٹی، پاکستان: نامعلوم: مہر افشان، سعودی عرب: قمر مسعود، سویڈن: |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||