BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 April, 2006, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کیا یہ محرم کی تقریبات کا مقابلہ ہے؟‘


بارہ اپریل: ’یہ شروع کب ہوا؟‘


کیا یہ محرم کی تقریبات کا مقابلہ ہے؟ کراچی میں عید ملاد کے موقع پر ہونے والی تقریب پر بم حملے کے بعد شہر سنسان پڑا ہے۔ صوبائی حکومت نے تعلیمی ادارے تین دن تک بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور ٹرانسپورٹ اور دکانیں بھی بند ہیں۔

اس افسوس ناک واقع سے پہلے ہی میں اس بات پر غور کر رہی تھی کہ ہمارے بچپن میں بارہ ربیع الاول تو انتے شور و دھوم سے نہیں منایا جاتا تھا۔ ہاں لوگ گھروں میں میلاد شریف کا سلسلہ ضرور شروع کرتے لیکن اتنے بڑے جلوس نہیں نکلتے اور نہ ہی گیارہ روز پہلے سے پورے شہر میں لائٹیں لگائی جاتیں۔

اب تو دس روز پہلے سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور جگہ جگہ مقامی علماء سڑکیں بند کر کے تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ ہر جگہ روشنیاں لگائی جاتی ہیں اور اکثر تو چوری کی بجلی سے یعنی پول سے کنیکشن لے کر۔

کیا ہم نے اس موقع پر جلوس اور تقریبات محرم کی تقریبات کے مقابلے میں شروع کیے ہیں؟ یہ موقع ماضی میں اتنے بڑے پیمانے پر کیوں نہیں منایا جاتا تھا؟ میں نے اپنے والدین اور کئی بزرگوں سے بھی اس بارے میں پوچھا ہے اور انہیں بھی یاد نہیں کہ اس کا احترام ہم اس طرح کرتے تھے۔


’آپ کیا کہتے ہیں‘


چھ اپریل: ’ آج، کل، ہم، تم، سندھی، شہری ۔۔۔ ‘


کراچی آکر میں ایک چیز سے تھوڑی پریشان ہوں اور وہ ہے ٹی وی۔

میرے والدین کے گھر پر کیبل ہے جس پر پچاس سے بھی زیادہ چینل آتے ہیں۔ پی ٹی وی اور اے آر وائی کی کئی قِسمیں ہیں، آج، کل، ہم، تم، سندھی، شہری ۔۔۔ طرح طرح کے چینل ہیں اور اتنے کہ اس بات کا بھی پتہ رکھنا انتہائی مشکل ہے کہ کونسا پروگرام کب اور کس چینل پر آتا ہے۔

اب میری عمر اتنی ہو چکی ہے اور میں یہ کہنے کی جرات کر سکتی ہوں کہ اس سے تو اچھا پہلے والا زمانہ تھا۔ جنرل ضیاء کی آمریت میں بس ایک پی ٹی وی ہی تھا لیکن کم سے کم یہ بالکل واضح رہتا تھا کہ سرکاری موقف کہاں سے نشر ہوتا ہے۔ اب تو یہی واضح نہیں کہ پردے کے پیچھے کون ہے؟ سب سے خطرناک تو یہ ہے کہ کوئی چینل اپنے کو پہلے ’غیر جانبدار‘ ثابت کر لے اور پھر اسے حکومت ہائی جیک کرلے۔

اب تو کچھ امریکہ والا حال ہو گیا ہے۔ بے شمار ٹی وی چینل ہیں اور ہر شخص اپنے ’عقیدے‘ کا چینل دیکھتا ہے۔ جیسے پاکستان میں انگریزی صحافت پر تنقید کرنے والے کہا کرتے تھے: آپ تو صرف اپنے ہم خیالوں تک ہی پہنچتے ہیں یا ’یو آر پریچنِگ ٹو دی کنورٹِڈ‘ ۔

پہلے ہمارے پاس وہی پی ٹی وی تھا واحد، وہی سرکاری خبرنامہ، لیکن جو اس پر نشر ہوتا اس سے ہمیں حکومتی سوچ کا بھی پتہ چلتا تھا اور خدشات کا بھی۔ اب تو ایک میلہ لگ گیا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ سیاسی بحث و گفتگو کے پروگراموں میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ پروگرام اتنے ہیں اور اتنے زیادہ مختلف چینلوں پر ہیں کہ سب کو دیکھنا مشکل ہے۔

ڈراموں کا معیار انتہائی گر گیا ہے۔ شاید اب بھی چند اچھے ڈرامے بن رہے ہیں لیکن لوگ ان سے اس طرح بندھے نہیں جتنے وہ پی ٹی وی ڈراموں سے بندھتے تھے۔ ماضی کے سلسلےوار ڈراموں کو قومی سطح پر دیکھا جاتا تھا۔ ہمارے ان عزیز سے پوچھیے جنہوں نے اپنے بیٹے کے ولیمہ کی تقریب اسی شام منعقد کی تھی جس شام حسینہ معین کے سیریل کی آخری قسط نشر ہو رہی تھی۔ سارے مہمانوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہم تو آخری قسط دیکھ کر ہی آئیں گے۔ دو گھنٹے تک ہال خالی رہا، کوئی مہمان ساڑھے نو بجے سے پہلے نہ پہنچا۔

شاید یہ سب وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوجائے، ہر ادارے کا پتہ چل جائے۔ لیکن انگنت چینل پہلے ہی ہیں اور پچھلے ہفتے ہی حکام نے بتایا ہے کہ نئے چینل کھولنے کے لیے ان کے پاس چوبیس اور دخواستیں آئی ہیں۔

معلوم نہیں کہ اس پورے عمل سے ہمیں فائدہ زیادہ ہے یا نقصان۔


’آپ کیا کہتے ہیں‘

نثار، پاکستان:
ہر ملک کی اپنی ثقافتی پہچان ہوتی ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے ہم نے اپنی پہچان کو محفوظ رکھا ہے یا پھر کیا ہم کسی دوسری ثقافت سے متاثر ہو کر اپنی پہچان کھو رہے ہیں؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس طرح ہم اپنا مقصد کھو رہے ہیں؟

عبد الوحید خان، برطانیہ:
یقیناً اس سے فائدہ ہی ہوگا کیونکہ میڈیا کی آزادی اور ترقی سے معاشرے پر مثبت اثر پڑے گا جس کا فائدہ عوامی سطح پر ہو گا۔ جہاں مقابلہ ہو گا تو سچ کو چھپانا اور جھوٹ کو پھیلانا مشکل ہو جائے گا۔

مرزا ریاض بیگ، حیدرآباد:
سرکاری موقف کو چھوڑو اب تو ہم نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ ٹی وی کے ذریعے کالے علم، بندش اور جادو ٹونے کا توڑ کر رہے ہیں۔ شرک وبدت کو عام کر رہے ہیں۔ مذہب کے معاملے پر یہ قوم تو پہلے ہی گمراہ تھی اب تو اور بھٹک رہی ہے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
ضیاپیریار، کہاں ہے؟
’ہمارے نئے دور کا غیب دان کب آئے گا؟ ‘
پاکستان کا دلیپ کمار پاکستان کا دلیپ کمار
’علی اور زیبا کی فلم میں رنگیلے کا کیا کام‘
’تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے‘وسعت کا قصیدۂِ گنج
’تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے‘
عنبر خیری کی حیرتعادتوں کا آڈٹ
عنبرخیری اور چائے کا نشہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد