’کیا یہ محرم کی تقریبات کا مقابلہ ہے؟‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا یہ محرم کی تقریبات کا مقابلہ ہے؟ کراچی میں عید ملاد کے موقع پر ہونے والی تقریب پر بم حملے کے بعد شہر سنسان پڑا ہے۔ صوبائی حکومت نے تعلیمی ادارے تین دن تک بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور ٹرانسپورٹ اور دکانیں بھی بند ہیں۔ اس افسوس ناک واقع سے پہلے ہی میں اس بات پر غور کر رہی تھی کہ ہمارے بچپن میں بارہ ربیع الاول تو انتے شور و دھوم سے نہیں منایا جاتا تھا۔ ہاں لوگ گھروں میں میلاد شریف کا سلسلہ ضرور شروع کرتے لیکن اتنے بڑے جلوس نہیں نکلتے اور نہ ہی گیارہ روز پہلے سے پورے شہر میں لائٹیں لگائی جاتیں۔ اب تو دس روز پہلے سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور جگہ جگہ مقامی علماء سڑکیں بند کر کے تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ ہر جگہ روشنیاں لگائی جاتی ہیں اور اکثر تو چوری کی بجلی سے یعنی پول سے کنیکشن لے کر۔ کیا ہم نے اس موقع پر جلوس اور تقریبات محرم کی تقریبات کے مقابلے میں شروع کیے ہیں؟ یہ موقع ماضی میں اتنے بڑے پیمانے پر کیوں نہیں منایا جاتا تھا؟ میں نے اپنے والدین اور کئی بزرگوں سے بھی اس بارے میں پوچھا ہے اور انہیں بھی یاد نہیں کہ اس کا احترام ہم اس طرح کرتے تھے۔
کراچی آکر میں ایک چیز سے تھوڑی پریشان ہوں اور وہ ہے ٹی وی۔ میرے والدین کے گھر پر کیبل ہے جس پر پچاس سے بھی زیادہ چینل آتے ہیں۔ پی ٹی وی اور اے آر وائی کی کئی قِسمیں ہیں، آج، کل، ہم، تم، سندھی، شہری ۔۔۔ طرح طرح کے چینل ہیں اور اتنے کہ اس بات کا بھی پتہ رکھنا انتہائی مشکل ہے کہ کونسا پروگرام کب اور کس چینل پر آتا ہے۔ اب میری عمر اتنی ہو چکی ہے اور میں یہ کہنے کی جرات کر سکتی ہوں کہ اس سے تو اچھا پہلے والا زمانہ تھا۔ جنرل ضیاء کی آمریت میں بس ایک پی ٹی وی ہی تھا لیکن کم سے کم یہ بالکل واضح رہتا تھا کہ سرکاری موقف کہاں سے نشر ہوتا ہے۔ اب تو یہی واضح نہیں کہ پردے کے پیچھے کون ہے؟ سب سے خطرناک تو یہ ہے کہ کوئی چینل اپنے کو پہلے ’غیر جانبدار‘ ثابت کر لے اور پھر اسے حکومت ہائی جیک کرلے۔ اب تو کچھ امریکہ والا حال ہو گیا ہے۔ بے شمار ٹی وی چینل ہیں اور ہر شخص اپنے ’عقیدے‘ کا چینل دیکھتا ہے۔ جیسے پاکستان میں انگریزی صحافت پر تنقید کرنے والے کہا کرتے تھے: آپ تو صرف اپنے ہم خیالوں تک ہی پہنچتے ہیں یا ’یو آر پریچنِگ ٹو دی کنورٹِڈ‘ ۔ پہلے ہمارے پاس وہی پی ٹی وی تھا واحد، وہی سرکاری خبرنامہ، لیکن جو اس پر نشر ہوتا اس سے ہمیں حکومتی سوچ کا بھی پتہ چلتا تھا اور خدشات کا بھی۔ اب تو ایک میلہ لگ گیا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ سیاسی بحث و گفتگو کے پروگراموں میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ پروگرام اتنے ہیں اور اتنے زیادہ مختلف چینلوں پر ہیں کہ سب کو دیکھنا مشکل ہے۔ ڈراموں کا معیار انتہائی گر گیا ہے۔ شاید اب بھی چند اچھے ڈرامے بن رہے ہیں لیکن لوگ ان سے اس طرح بندھے نہیں جتنے وہ پی ٹی وی ڈراموں سے بندھتے تھے۔ ماضی کے سلسلےوار ڈراموں کو قومی سطح پر دیکھا جاتا تھا۔ ہمارے ان عزیز سے پوچھیے جنہوں نے اپنے بیٹے کے ولیمہ کی تقریب اسی شام منعقد کی تھی جس شام حسینہ معین کے سیریل کی آخری قسط نشر ہو رہی تھی۔ سارے مہمانوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہم تو آخری قسط دیکھ کر ہی آئیں گے۔ دو گھنٹے تک ہال خالی رہا، کوئی مہمان ساڑھے نو بجے سے پہلے نہ پہنچا۔ شاید یہ سب وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوجائے، ہر ادارے کا پتہ چل جائے۔ لیکن انگنت چینل پہلے ہی ہیں اور پچھلے ہفتے ہی حکام نے بتایا ہے کہ نئے چینل کھولنے کے لیے ان کے پاس چوبیس اور دخواستیں آئی ہیں۔ معلوم نہیں کہ اس پورے عمل سے ہمیں فائدہ زیادہ ہے یا نقصان۔
نثار، پاکستان: ہر ملک کی اپنی ثقافتی پہچان ہوتی ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے ہم نے اپنی پہچان کو محفوظ رکھا ہے یا پھر کیا ہم کسی دوسری ثقافت سے متاثر ہو کر اپنی پہچان کھو رہے ہیں؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس طرح ہم اپنا مقصد کھو رہے ہیں؟ عبد الوحید خان، برطانیہ: مرزا ریاض بیگ، حیدرآباد: |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||