| | علی زیب، فلمی دنیا کی مقبول جوڑی |
سندھ کا دل حیدرآباد، حیدرآباد کا دل گاڑی کھاتہ اور گاڑی کھاتے کا دل محمد علی تھا۔ یہ بھورے خان نام کا لڑکا گاڑی کھاتے کی’ سویٹ ہارٹ‘ تھا۔ حیدرآباد کے گاڑی کھاتہ میں فردوس سینما کے سامنے والی گلی میں، جسے اب بندو گلی یا ’چچا اشتی والی گلی‘ بھی کہا جاتا ہے، اپنے دوست مرزا فیاض بیگ اور دوسرے دوستوں کے ساتھ تھڑوں کی (جسے حیدرآباد سندھ کی زبان میں ’باکڑا‘ یا صندل کہتے ہیں) اسٹیج بنا کر ڈرامے کیا کرتا۔ کسے خبر تھی کہ یہ ’بھورے میاں‘ پاکستان کا دلیپ کمار بن جائے گا۔ ابھی میں کل شب اس کی گلی میں رہنے والے اپنے ایک دوست سے بات کررہا تھا تو اس نے ’بھورے میاں‘ کے بچپن کے اس عشق کا قصہ بھی بتایا جس میں کامیابی ’علی بھائی‘ کو اس لیے نہیں ہوسکی کہ محمد علی کا تعلق لڑکی والے خاندان سے مالی طور پر بہت کمزور خاندان سے تھا۔ وہ خاتون کئی برسوں سے شمالی امریکہ میں ہے اور محمد علی کی گلی کے نوجوان آج بھی بتاتے ہیں کہ ’نانی کی لڑکی‘ اس ’شہنشاہِ جذبات‘ کو نہیں ملی۔ حیدرآباد کے بہت سے لوگوں کو محمد علی کی ذوالفقار علی بھٹو کے حق میں وہ زبردست تقریریں یاد ہیں جو اس نے انیس سو ستتر میں بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی تحریک کے دوران وہاں آکر جلسوں میں کی تھیں۔ بھٹو سے محمد علی کے تعلقات کی وجہ سے جنرل ضیاء الحق نے اقتدار میں آتے ہی کچھ دن محمد علی کو بھی اپنے عتاب کا نشانہ بنایا لیکن پھر کچھ عرصے کے بعد کہتے ہیں انکی محمد علی کے ساتھ رسم راہ بھی رہی۔ حیدرآباد میں آپ کو ان کے ایسے مداح نمایاں کردار بھی ملیں گے جو ان کی فلموں کے ڈائیلاگ بولتے ہوئے اپنی ذاتی زندگی میں بھی محمد علی سے مشابہت رکھتے ھیں یعنی انکی ’ہو بہو کاپی جن پر کچھ لمحے اصل محمد علی کا گمان ھونے لگے‘ اور اس کے لیے حیدرآباد والوں نے ایک کھاوت بھی گھڑ لی ’محمد علی اور زیبا کی فلموں میں رنگیلے کا کیا کام۔۔۔‘ مجھے یقین ہے کہ حیدرآباد سندھ والے آج محمد علی کو ایسے یاد کررہے ہونگے جیسے میکسیکو کے لوگ انتھونی کِوئن کو یاد کرتے ہیں۔ کوئی عجب نہیں کہ گاڑی کھاتے میں بہت سے گھروں میں کل چولہا نہ جلا ہو!
| | آپ کیا کہتے ہیں |  |
عاطف خان، نیتھرلینڈ: محمد علی صاحب ضرور ایک بہت نفیس اور باکردار انسان رہیں ہونگے لیکن مجھے ان کی ایکٹنگ میں ہمیشہ یکسانیت ہی نظر آئی۔ دلیپ کمار اور امیتابھ بچن کا کم از کم میری نظر محمد علی سے کوئی مقابلہ نہیں۔ عاصف عطا اللہ، سعودی عرب: محمد علی صاحب جیسے نفیس، پر کشش، پر خلوص اور محترم انسان بہت کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہم سب ان کے لیے دعا گو ہیں۔ فحر عباس، اسلام آباد ممحمد علی ایک درسگاہ تھی جو اب ختم ہو گئی۔ ان کی شخصیت ایسی تھی کہ وہ 72 سال کی عمر میں بھی ہیرو لگتے تھے۔ وہ کمال کے ایکٹر تھے۔ ان کی ایکٹنگ میں ایکچیز جو خاص تھی وہ ان کی گرجدار آواز تھی۔ ایک چیز تو ہمیں ماننی پڑے گی کہ محمد علی کو پاکستان کا دلیپ کمار نہیں کہا جا سکتا کیونکہ محمد علی کا ’گیٹ اپ‘ بالکل ہیرو والا تھا جو شاید دلیپ کمار جیسا بالکل نہیں ہو سکتا۔ طاہر احمد میمن، پاکستان مجھے جب معلوم ہوا بھورے میاں فوت ہو گئے ہیں میں سکتے میں آگیا۔ ایسے لیگینڈ صدیوں میں آتے ہیں اور پاکستان میں اداکار ویسے ہی نہیں پیدا ہو رہے ہیں۔ جو بچے ہوئے ہیں وہ بھی اللہ کو پیارے ہو رہے ہیں۔ فیصل شکیل، کینیڈا حسن صاحب، بےشق محمد علی صاحب ایک عظیم فن کار تھے اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ رنجش یہ ہے کہ ہمارا تعلق ایک ایسی احسان فراموش قوم اور ملک سے ہے کہ جس نے کبھی کسی کی قدر نہیں کی، چاہے وہ کوئی اداکار ہو، سائنس دان ہو یا ہم جیسے تارکین وطن جو ملک کے لیے بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن مجبور ہو کر کینیڈا میں مزدوریاں کرتے پھر رہے ہیں۔ امجد شیخ، ملتان یہ فلم شائقین اور فلم سازوں کے لیے ایک بہت ہی افسوس کا لمحہ ہے۔ محمد علی اپنے آپ میں ایک انسٹیٹیوشن تھے۔ وہ یقیناً ایک بہترین اداکار اور نہایت ہی اچھے انسان تھے۔ آج کل کے اداکاروں میں کوئی ایسا نہیں۔ سید جاوید، نیو یارک نہ جانے کتنے مر گئے جو چلتی پھرتی اکیڈمی تھے مگر ہم نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا۔۔۔لو ایک اور گیا۔ زاہدہ بیگم، سویڈن آپ لوگوں سے ایک شکایت یہ ہے کہ جب کوئی اداکار بیمار ہوجاتا ہے تو اس کی خبر آنی چاہئے، انتقال سے پہلے بعد میں نہیں تاکہ لوگوں کو پتہ ہو۔ بہت افسوس ہوا محمد علی کے جانے کا۔ پوری دنیا میں جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو پہلے ہی خبر آجاتی ہے اور ان کی سوانح عمری تیار ہوجاتی ہے۔ انوار حسین صدیقی، دوبئی وہ بہت اچھے اداکار تھے اور ان کا ’انصاف اور قانون‘ کا کردار یادگار رہے گا۔ وقاص، مردان وہ بہترین اداکار تھے، خدا انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ حیات، ناروے میری رائے یہ ہے کہ محمد علی کو دلیپ کمار نہ کہا جائے۔ انہیں ہندو نام دینا مناسب نہیں۔ اکرم حفیظ، جنیوا وہ ایک عظیم آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی نیک انسان بھی تھے۔ خاور رشید، آئرلینڈ اس سے زیادہ میں کیا کہوں کہ ان کے ڈائیلاگ کو استعمال کرکے میں نے زندگی میں ایک سپیشل انسان کو جیت لیا جو اب میری بیوی ہے اور اب میں ایک خوش و خرم زندگی گزار رہا ہوں۔ علی میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں۔ رضا، ابوظہبی پاکستان کے دلیپ کمار؟ قبلہ مقدر کی بات ہے حق تو یہ ہے کہ اگر آپ کے’بھورے میاں‘ ہندوستان میں رہ جاتے اور وہیں کے کسی زیڈ اے بخاری، جوش یا صوفی تبسم کو استاد مان کر لب و لہجہ درست کر لیتے تو آپ کے امیتابھ بچن اور دلیپکمنار سے بڑے سٹار ہوتے۔ اس کی وجہ ان کی مردانہ وجاہت ہے۔ باقی ٹیلنٹ دلیپ میں اور آواز امیتابھ کی بھی ہے لیکن ایسی وجاہت ان میں کہاں؟ عبدالخالق خان، سنگاپور حسن بھائی بڑے دن بعد آپ نے کوئی ایسا بلاگ لکھا جس میں کوئی’کونٹرورشل ٹاپک‘ نہیں ہے۔ محمد علی جیسے فنکار تو لیجنڈ ہوتے ہیں۔ ایک دور تھا جب پاکستانی شوبز میں ٹیلنٹڈ فنکاروں کا دور دورہ تھا جو اب نہ رہا۔ اب تو بس فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا۔ اے کیو، لندن محمد علی صاحب ایک نفیس انسان اور عمدہ اداکار تھے۔ ان کا بنیادی وصف اداکاری کو وقار بخشنا تھا۔ انہوں نے ایک صاف ستھری اور باوقار زندگی گزاری اور فلمی دنیا میں جو بھی وقت گزارا وہ باعثِ تقلید ہے۔ اب پاکستان فلم انڈسٹری کے پاس کوئی ایسا اداکار نہیں رہا جو بالی وڈ کے مقابلے میں پیش کیا جا سکے۔ |