بینک ہمارے پیسے کھا گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینک میں پیسے رکھے تو انہیں محفوظ سمجھا، بس یہی تو غلطی کی۔ زیادہ پیسے تو تھے نہیں لیکن جب پاکستان میں بینکوں نے نئے نئے قواعد نافذ کرنے شروع کر دیے تو وہ رقم بھی گھٹ کر ختم ہو گئی۔ سرکاری بینکوں نے پانچ ہزار سے کم کے بیلینس پر پچاس روپے ماہانہ کاٹنے شروع کیے تو میرا وہ اکاؤنٹ بھی ختم ہو گیا جو میں نے اٹھارہ سال پہلے کھولا تھا اور جس میں اپنے مختلف فری لانس آرٹیکلز کے چیک جمع کرتی رہتی تھی۔ سرکاری بینک کبھی اکاؤنٹ کا بیلینس ڈاک کے ذریعے تو بھیجتے ہی نہیں تھے لیکن اس نئے قانون کے بارے میں انہیں ہمیں مطلع کرنا بھی مناصب نہ سمجھا حالانکہ پچاس روپے سے کم کا ہی ڈاک کا خرچہ ہوتا۔ اسی طرح میرے میاں کے دو اکاؤنٹ میں سے تین اور پونے پانچ ہزار روپے انہی ماہانہ چارجز اور زکواۃ کے کٹنے سے بالکل ختم ہو گئے۔ بغیر کسی اطلاع، بغیر کسی نوٹس کے۔ یعنی ہماری دس ہزار کے قریب کی رقم بینکوں کی ہو گئی۔ ٹھیک ہے شاید وہ پیسہ ہماری قسمت کا نہیں تھا لیکن ہم اس رقم کو کسی ہسپتال یا ضرورت مند شخص کو بھی دے سکتے، بینک کو کیوں دیتے؟ اور تو اور ایک امریکی بینک کے چارجز اور ’مِنیمم بیلنس’ کے بڑھانے سے تنگ آکر جب میں وہ اکاؤنٹ بند کرنے اور اپنے چار ہزار روپے نکالنے گئی تو بینک والوں نے مجھے بتایا کہ اکاؤنٹ بند کرنے کے بھی پیسے لگیں گے، پانچ سو روپے! میں دنیا کے کئی ممالک میں رہی ہوں اور کبھی تک کسی بینک نے اکاؤنٹ بند کرنے کے پیسے نہیں کاٹے تھے۔ میں نے بینک والوں کو کافی برا بھلا کہا لیکن انہیں کیا پروہ؟ بینک یا حکومت کوئی بھی نیا قانون بنا لیں ، لوگوں کو دھوکا دے اور ان کے پیسے کھا جائے، انہیں جوابدہ تو نہیں ہونا پڑتا۔ یقیناً مجھ جیسے اور سینکڑوں چھوٹے کھاتےدار ہونگے جن کے پیسے بینک ہضم کر گئے ہیں۔
مرتضیٰ جاوید، کویت عنبر جی اب آپ ہمیں ڈرائیں تو نہ۔ میں نے تو کبھی اپنے پیسے یہاں کویت میں نہیں رکھے، ہمیشہ پاکستان بھجوا دیتا ہوں۔ تلاوت بخاری، اسلام آباد، پاکستان عدنان محمد، لندن، برطانیہ شاہدہ اکرم، ابو ظہبی، متحدہ عرب امارات امجد علی، پاکستان عبد الوحید خان، برمِنگھم، برطانیہ
انٹرنیٹ بھی کمال کی چیز ہے۔ حال میں اس کے ذریعے مجھے اپنے ایک رشتہ دار مل گئے، اور وہ بھی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے پڑوس میں۔ ہوا یہ کہ میرے کئی بلاگ چھپنے کے بعد اردو ڈاٹ کام کے بلاگر ضیاء احمد نے مجھ سے ای میل پر رابطہ کیا اور بتایا کہ ان کے دادا کا نام الطاف خیری تھا اور کیا یہ ممکن ہے کہ ہم میں کوئی رشتہ داری ہو؟ میں نے اپنے والد سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے الطاف خیری کی پوری تفصیل بتائی، کہ وہ نہایت شریف شخص تھے، ریاست جے پور میں وزیر رہے اور ان کی شادی میرے پردادا راشد الخیری کی چچازاد بہن کی بیٹی (اللہ رکھی) سے ہوئی تھی! میں نے ضیاء کو یہ تفصیل لکھی اور پوچھا کہ کیا جے پور والے وزیر ہی ان کے دادا تھے۔ پتہ چلا کہ وہی تھے۔ ابا نے بتایا کہ الطاف خیری نے مختلف وجوہات کی بنا اپنی ساس کا خاندانی نام اختیار کیا تھا۔ اور ان کی ساس (یعنی ہمارے دادا کی پھوپی حامدہ) ان خیری برادران کی بہن تھیں جنہوں نے پہلی دفعہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کے قیام کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ عبد الستار خیری اور عبد الجبار خیری نے سنہ 1917 میں سٹاکہوم میں ہونے والے عالمی سوشلسٹ کانفرنس میں پیش کیا تھا۔ عبدالوہاب اور عبدالحبار خیری سمیت یہ تمام بھائی برطانوی راج کی مخالفت کرتے رہے اور مسلمانوں کی ثقافت اور تعلیم کے لیے سر گرم رہے۔ ستار خیری علیگڑھ یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے اور چونکہ ان کی بیوی جرمن تھیں، اس لیے جنگ کے دوران انگیزوں نے ان کو حراست میں رکھا۔ ان کے پوتے عرفان خیری نے پڑھت لکھت کا سلسلہ قائم رکھا ہے اور اور ٹی وی پر ان کے کئی ڈرامے آ چکے ہیں۔ وہاب خیری کے بیٹے حبیب وہاب الخیری راولپنڈی میں وکیل ہیں اور انہوں نے اپنے والد اور چچوں کا اصول پرستی اور ’ایکٹیوزم‘ کا جـذبہ قائم رکھا ہوا ہے۔ توای میل سے معلوم ہوا کہ ضیاء ہمارے رشتےدار ہیں اور ای میل سے ہی پتہ چلا کہ وہ اور ان کی بیوی کچھ روز بعد جنیوا سے کراچی آ رہے ہیں۔ ضیاء اور ان کی بیوی ایبی ہم سے کراچی میں ملنے آئے ۔ وہ دونوں انتہائی قابل نوجوان ہیں جو امریکہ کی یونیورسٹی ’ایم آئی ٹی‘ کے پڑھے ہوئے ہیں۔ ابا نے ضیاء کو ان کےدادا کے بارے میں اور ان کی دادی کے خاندان کی ساری تفصیل بتائی۔ میں نے ایبی کو بتایا کہ خیری برادران کی ایکٹیوِزم کا ذکر ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا ’اچھا‘ تو ضیاء کا یہ مرض خاندانی ہے‘۔ تو یہ ہے کہانی ان دو بلاگاروں کی جو رشتے دار نکلے۔
راشد علی، ڈایلس، امریکہ اظہر وِرک ریاض خان، جدہ ، سعودی عرب عبد الوحید خان، برمنگھم، برطانیہ محمد عمران ، لندن، برطانیہ عامر بھٹی، اسلام آباد، پاکستان شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات کاشف اسلام، لاہور، پاکستان خالد حسین بطٹی، گجرانوالا، پاکستان صابر خان، برنبی، کینیڈا |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||