BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 April, 2006, 13:10 GMT 18:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینک ہمارے پیسے کھا گئے



دو مئی: ’بینک ہمارے پیسے کھا گئے‘

بینک میں پیسے رکھے تو انہیں محفوظ سمجھا، بس یہی تو غلطی کی۔

زیادہ پیسے تو تھے نہیں لیکن جب پاکستان میں بینکوں نے نئے نئے قواعد نافذ کرنے شروع کر دیے تو وہ رقم بھی گھٹ کر ختم ہو گئی۔

سرکاری بینکوں نے پانچ ہزار سے کم کے بیلینس پر پچاس روپے ماہانہ کاٹنے شروع کیے تو میرا وہ اکاؤنٹ بھی ختم ہو گیا جو میں نے اٹھارہ سال پہلے کھولا تھا اور جس میں اپنے مختلف فری لانس آرٹیکلز کے چیک جمع کرتی رہتی تھی۔

سرکاری بینک کبھی اکاؤنٹ کا بیلینس ڈاک کے ذریعے تو بھیجتے ہی نہیں تھے لیکن اس نئے قانون کے بارے میں انہیں ہمیں مطلع کرنا بھی مناصب نہ سمجھا حالانکہ پچاس روپے سے کم کا ہی ڈاک کا خرچہ ہوتا۔

اسی طرح میرے میاں کے دو اکاؤنٹ میں سے تین اور پونے پانچ ہزار روپے انہی ماہانہ چارجز اور زکواۃ کے کٹنے سے بالکل ختم ہو گئے۔ بغیر کسی اطلاع، بغیر کسی نوٹس کے۔ یعنی ہماری دس ہزار کے قریب کی رقم بینکوں کی ہو گئی۔ ٹھیک ہے شاید وہ پیسہ ہماری قسمت کا نہیں تھا لیکن ہم اس رقم کو کسی ہسپتال یا ضرورت مند شخص کو بھی دے سکتے، بینک کو کیوں دیتے؟

اور تو اور ایک امریکی بینک کے چارجز اور ’مِنیمم بیلنس’ کے بڑھانے سے تنگ آکر جب میں وہ اکاؤنٹ بند کرنے اور اپنے چار ہزار روپے نکالنے گئی تو بینک والوں نے مجھے بتایا کہ اکاؤنٹ بند کرنے کے بھی پیسے لگیں گے، پانچ سو روپے! میں دنیا کے کئی ممالک میں رہی ہوں اور کبھی تک کسی بینک نے اکاؤنٹ بند کرنے کے پیسے نہیں کاٹے تھے۔

میں نے بینک والوں کو کافی برا بھلا کہا لیکن انہیں کیا پروہ؟ بینک یا حکومت کوئی بھی نیا قانون بنا لیں ، لوگوں کو دھوکا دے اور ان کے پیسے کھا جائے، انہیں جوابدہ تو نہیں ہونا پڑتا۔ یقیناً مجھ جیسے اور سینکڑوں چھوٹے کھاتےدار ہونگے جن کے پیسے بینک ہضم کر گئے ہیں۔


’ آپ کیا کہتے ہیں‘

مرتضیٰ جاوید، کویت
عنبر جی اب آپ ہمیں ڈرائیں تو نہ۔ میں نے تو کبھی اپنے پیسے یہاں کویت میں نہیں رکھے، ہمیشہ پاکستان بھجوا دیتا ہوں۔

تلاوت بخاری، اسلام آباد، پاکستان
یہ بینک نہیں ڈاکو ہیں۔ یہ میرے بھی کم از کم ڈیڑھ ہزار روپے کھا گئے۔ حد تو یہ ہے کہ میری ایک معذور بچی کا ڈیپازٹ جو کہ اس کے نانا نے گِفٹ کیا تھا اس کے بارہ سو روپے ذکوۃ کے کاٹ لیے۔ خدا ان کا بیڑا غرق کرے۔ یہ سود خور لوگ انسانیت کے دشمن ہیں۔

عدنان محمد، لندن، برطانیہ
بڑا افسوس ہوا آپ کی کہانی سن کے۔ واقعی پاکستان کا کا نظام خراب ہوتا جا رہا ہے۔ اب دیکھیے آگے کیا ہوتا ہے۔ جناب اللہ ہی مالک ہے پاکستان کا۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی، متحدہ عرب امارات
عنبر جی، دکھ ہوا آپ کی روداد پڑھ کر، لیکن ایسا تو عام بات ہے ۔ ملک کے سب ہی شعبوں میں توجہ کی کمی ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے بچے کو ٹھیک سے اصلاح نہ ملے تو وہ بگڑ جاتا ہے۔ یہی حال معاشرے کا بھی ہے۔ ہمارا معاشرہ بھی تو ایسا بگڑا ہوا بچہ ہے جس کو سدھارنے کی بہت ضرورت ہے لیکن بات یہ بھی ہے یہ کرے گا کون؟ بینکنگ کا شعبہ ہو یا اںلاحِ معاشرہ یا تعلیم یا صحت سب جگہ اصلاح کی ضرورت ہے۔ لیکن کون کرے گا یہ سب؟

امجد علی، پاکستان
یہ پاکستانی بینک فراڈ ہیں۔

عبد الوحید خان، برمِنگھم، برطانیہ
یہ بہت زیادتی ہے کہ بینک جن کا کام لوگوں کی رقم کی حفاظت ہوتا ہے وہ لوگوں کی امانت کھا گئے ہیں۔ بینکوں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی رقمیں واپس کریں۔


بائیس اپریل: ’بلاگر میرا بھائی نکلا‘

انٹرنیٹ بھی کمال کی چیز ہے۔ حال میں اس کے ذریعے مجھے اپنے ایک رشتہ دار مل گئے، اور وہ بھی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے پڑوس میں۔

ہوا یہ کہ میرے کئی بلاگ چھپنے کے بعد اردو ڈاٹ کام کے بلاگر ضیاء احمد نے مجھ سے ای میل پر رابطہ کیا اور بتایا کہ ان کے دادا کا نام الطاف خیری تھا اور کیا یہ ممکن ہے کہ ہم میں کوئی رشتہ داری ہو؟

میں نے اپنے والد سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے الطاف خیری کی پوری تفصیل بتائی، کہ وہ نہایت شریف شخص تھے، ریاست جے پور میں وزیر رہے اور ان کی شادی میرے پردادا راشد الخیری کی چچازاد بہن کی بیٹی (اللہ رکھی) سے ہوئی تھی!

میں نے ضیاء کو یہ تفصیل لکھی اور پوچھا کہ کیا جے پور والے وزیر ہی ان کے دادا تھے۔ پتہ چلا کہ وہی تھے۔

ابا نے بتایا کہ الطاف خیری نے مختلف وجوہات کی بنا اپنی ساس کا خاندانی نام اختیار کیا تھا۔ اور ان کی ساس (یعنی ہمارے دادا کی پھوپی حامدہ) ان خیری برادران کی بہن تھیں جنہوں نے پہلی دفعہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کے قیام کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ عبد الستار خیری اور عبد الجبار خیری نے سنہ 1917 میں سٹاکہوم میں ہونے والے عالمی سوشلسٹ کانفرنس میں پیش کیا تھا۔

عبدالوہاب اور عبدالحبار خیری سمیت یہ تمام بھائی برطانوی راج کی مخالفت کرتے رہے اور مسلمانوں کی ثقافت اور تعلیم کے لیے سر گرم رہے۔ ستار خیری علیگڑھ یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے اور چونکہ ان کی بیوی جرمن تھیں، اس لیے جنگ کے دوران انگیزوں نے ان کو حراست میں رکھا۔ ان کے پوتے عرفان خیری نے پڑھت لکھت کا سلسلہ قائم رکھا ہے اور اور ٹی وی پر ان کے کئی ڈرامے آ چکے ہیں۔ وہاب خیری کے بیٹے حبیب وہاب الخیری راولپنڈی میں وکیل ہیں اور انہوں نے اپنے والد اور چچوں کا اصول پرستی اور ’ایکٹیوزم‘ کا جـذبہ قائم رکھا ہوا ہے۔

توای میل سے معلوم ہوا کہ ضیاء ہمارے رشتےدار ہیں اور ای میل سے ہی پتہ چلا کہ وہ اور ان کی بیوی کچھ روز بعد جنیوا سے کراچی آ رہے ہیں۔

ضیاء اور ان کی بیوی ایبی ہم سے کراچی میں ملنے آئے ۔ وہ دونوں انتہائی قابل نوجوان ہیں جو امریکہ کی یونیورسٹی ’ایم آئی ٹی‘ کے پڑھے ہوئے ہیں۔ ابا نے ضیاء کو ان کےدادا کے بارے میں اور ان کی دادی کے خاندان کی ساری تفصیل بتائی۔ میں نے ایبی کو بتایا کہ خیری برادران کی ایکٹیوِزم کا ذکر ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا ’اچھا‘ تو ضیاء کا یہ مرض خاندانی ہے‘۔

تو یہ ہے کہانی ان دو بلاگاروں کی جو رشتے دار نکلے۔


’آپ کیا کہتے ہیں‘

راشد علی، ڈایلس، امریکہ
میرا تعلق راولپنڈی سے ہے، میری پیدائش اور پرورش وہیں ہوئی اور میں مسٹر حبیب وہاب الخیری کو جانتا ہوں۔ان کی والدہ نے مجھے قران پڑھایا تھا اور وہ ایک عظیم خاتون تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہزاروں بچوں کو قران پڑھایا اور کسی سے ایک پیسے نہ لیا۔ وہ ایک اعلی اور ہمت والی اور خاتون تھیں، اللہ ان کی مغفرت کرے۔ مسٹر حبیب وہاب الخیری خود ایک بڑے ایماندار اور بہادر انسان ہیں اور آج شاید وہ وحد شخص ہیں جو راولپنڈی میں بدعنوان اور بے ایمان اہلکاروں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔

اظہر وِرک
یہ واقعی عجیب اتفاق ہوا۔ اور میرے لئیے یہ نئی خبر تھی کہ خیری برادران نے پہلی مرتبہ مسلمانوں کے لئیے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا تھا۔ اب تک میرا خیال تھا کہ یہ اقبال نے کیا تھا۔

ریاض خان، جدہ ، سعودی عرب
ایسا بلاگ لکھنے کی ضرورت کیا ہے؟ ہمیں خیری خاندان کی تاریخ سے کیا مطلب؟

عبد الوحید خان، برمنگھم، برطانیہ
سچ ہے کہ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے بدولت دنیا ’گلوبل ولیج‘ بن چکی ہے۔ آپ کو رشتےدار ملنے پر مبارک ہو اور پتہ لگانا چاہیے کہ باقی بلاگر بھی کہیں سارے رشتہدار تو نہیں؟ ویسے کہتے ہیں کہ عادت و اروار پر خون کا اثر ہوتا ہے۔

محمد عمران ، لندن، برطانیہ
چلو کوئی فائدہ تو ہوا بے تُکے بلاگ لکھنے کا۔

عامر بھٹی، اسلام آباد، پاکستان
واہ جناب، کرئیٹیو اور ایکٹیو خاندان۔

شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات
کہانی پوری فلمی ہے۔ یقین نہیں آرہا کہ جو کچھ فلموں میں ہوسکتا ہے وہ حقیقت میں بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال، مدتوں کے بچھرے بھائی سے ملاقات مبارک ہو۔ خیری خاندان کا نام تو ویسے بھی کس تعریف کا محتاج نہیں۔ بلاگ پر ہم اپنا حق تو نہیں جتا سکتے لیکن یہ رشتے دار ’بی بی سے کے سات‘ میں شامل ہیں ۔ ویسے تو بی بی سی غیر جانب داری کا دعوے دار ہے لیکن عام عوام کو موقع نہیں دیا جاتا بلاگ میں شمولیت کا۔ کیوں ، پتہ نہیں۔

کاشف اسلام، لاہور، پاکستان
ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ ابھی ساری بات پڑھنے اور اسے سمجھنے کی کوشش میں شدید ناکمی کے بعد ہم کہیں بھی تو کیا کہیں؟ اگر مصنفہ کا مقصد اپنے اجداد کی اعظمت بیان کرنا ہے تو بلا شبہ وہ اس میں کافی کامیاب رہی ہیں ورنہ تو اسلام نے یہ ضابطہ حیات عرصہ پہلے بیان کر دیا تھا کہ تمام مسلمان بہن بھائی ہیں۔

خالد حسین بطٹی، گجرانوالا، پاکستان
گُڈ ، ویری گُڈ۔

صابر خان، برنبی، کینیڈا
یہ سب رب کی مہربانی ہے۔ رب ہی سب بچھرے لوگوں کو ملائےآ جیسے آپ کو اور حضرت یاقوب اور حضرت یوسف سے ملایا ہے۔ ہم ہمیشے اس کے شکر گزار رہتے ہیں۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
میلاد کی تقریباتمیلاد کی تقریبات
’کیا یہ محرم کی تقریبات کا مقابلہ ہے؟‘
اسد علیاگلےدن بہت مزہ آیا
وہ میرا خواب سن کر خوش ہوئی: اسد علی
ضیاپیریار، کہاں ہے؟
’ہمارے نئے دور کا غیب دان کب آئے گا؟ ‘
پاکستان کا دلیپ کمار پاکستان کا دلیپ کمار
’علی اور زیبا کی فلم میں رنگیلے کا کیا کام‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد