وہ میرا خواب سن کر خوش ہوئی تھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگلے دن بہت مزہ آیا۔ لیکن اس مزے سے پہلے بدمزگی سے گزرنا پڑا۔ صبح آنکھ کھلی تو نو بج کر تین منٹ ہو چکے تھے۔ میں سر پر ہاتھ مار کر واپس بستر پر گر گیا۔ نو پچیس والی ٹرین پکڑنے کے لیے ضروری تھا کہ میں دس منٹ میں گھر سے نکل جاؤں اور ایسا صرف نہائے دھوئے اور ناشتہ کیے بغیر نکلنے کی صورت میں ہی ممکن تھا۔ بستر سے اٹھا، تیزی سے کپڑے بدلے، سٹور سے کالا کوٹ نکال کر پہنا، آنکھوں میں انگلی گھمائی۔ سب صاف نظر آنے لگا۔ بیزاری طاری تھی۔ باتھ روم میں جا کر تیزی سے کُلی کی۔ شیشے پر نظر پڑی تو الجھے ہوئے بال دیکھ کر خود کو کوسا کہ چھٹی والے دن بال کٹوا لینے چاہیں تھے۔ کھونٹی سے چابی اتار کر دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے باورچی خانے میں بھرے ہوئے کوڑا دان پر نظر پڑی تو بیزاری میں اضافہ ہو گیا۔ لمحے بھر کی غیر یقینی صورتحال کے بعد فیصلہ کیا کہ شام کو واپس آ کر خالی کر دوں گا۔ لیکن جیسے ہی دروازہ سے باہر آیا تو کیفیت ہی بدل گئی۔ موسم بہار کے ایک انتہائی خوشگوار دن نے میرا استقبال کیا۔ ایک تو پچھلے چند ہفتوں کے بر عکس ہوا یخ بستہ نہیں تھی، درجہ حرارت کچھ زیادہ تھا اس پر ہلکی سی دھوپ بھی تھی۔ سارے ماحول میں رنگ بھرنے کے لیے سڑک کے کنارے کنارے ڈیفوڈل سر نکالے کھڑے تھے۔ میرا دھیان اس موسم میں پہلی بار گلی میں پیازی رنگ کے پھولوں سے لدے چیری کے درختوں کی طرف گیا۔ چیری نے ایسا تاثر چھوڑا کہ ایک روز میں نے اپنی یونیورسٹی کی ایک طالبہ کو خواب میں شلوار قمیض پہنے ہوئے دیکھا جس پر چیری کے پھول بنے ہوئے تھے۔ وہ یہ خواب سن کر بہت خوش ہوئی تھی۔
نادیہ ناز، ساہیوال ثنا خان، کراچی آصف شہزاد، ٹورانٹو،کینیڈا عدنان خان، کراچی محمد امان اللہ خان، پاکستان الیاس دانش، نیو ملتان ابو الحسن علی، لاہور
ہر اتوار کی طرح اس بار بھی میں نے کل لاہور امی سے فون پر بات کی۔ انہوں نے پہلے میری امتحانات کی تیاری کے بارے میں پوچھا اور پھر میرے ایک ماموں زاد بھائی کے بارے میں بتایا کہ اس کے بی اے کے پرچے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے سب پرچے اچھے ہوئے ہیں اور اب صرف ایک یا دو پرچے باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے خوشی کا اظہار کیا کیونکہ میرے اس کزن نے کافی سال پہلے ایف اے کرنے کے بعد امتحانات کو خیرباد کہہ دیا تھا اور میرا ہمیشہ خیال رہا ہے کہ وہ ایک ذہین اور اچھا انسان ہے جس کو مزید پڑھنا چاہیے تھا۔ امی نے بتایا کہ خوشی کی بات ہے لیکن بےاے پاس ہونے میں اس کو ابھی وقت لگے گا کیونکہ وہ انگریزی زبان کا پرچہ اگلے سال دے گا۔ میں حیران نہیں ہوا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ ایف اے میں بھی اسے انگریزی میں فیل ہونے کی وجہ سے ایک سے زیادہ بار امتحان دینا پڑا تھا۔ میرا اس وقت بھی یہی خیال تھا کہ فیل وہ نہیں ہوا نظام ہوا ہے اور پیچھے وہ نہیں رہا معاشرہ رہا ہے۔ میرے اندازہ ہے کہ ہر سال ہزاروں طالب علم زبان، خاص طور پر انگریزی زبان، کی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے بھاگ جاتے ہیں۔ انگریزی زبان میں فیل ہونے میں ان کا قصور نہیں ہوتا لیکن بہرحال فیل تو وہ ہوتے ہیں اس لیے گھر اور باہر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور پھر مختلف رد عمل دیکھنے میں آتے ہیں جن میں تعلیم چھوڑ دینا بھی ایک ہے۔ میری شکایت ہرگز یہ نہیں کہ انگریزی کیوں پڑھائی جاتی ہے بلکہ یہ ہے کہ سب کو کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟ میں اس طرح کا جواب سننے کو تیار نہیں کہ لوگوں کو انگریزی پڑھنے سے کس نے روکا ہے وغیرہ وغیرہ کیونکہ اچھی انگریزی تعلیم کے لیے ایک حد سے زیادہ مالی وسائل چاہیئں جو پاکستان میں شاید آٹے میں نمک کے برابر لوگوں کے پاس ہی ہیں۔ بہت سی جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں انگریزی سیکھنے کی سہولت ہی نہیں۔ پاکستان میں جب تک آپ انگریزی زبان میں بات سمجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے کوئی جاننا ہی نہیں چاہتا کہ آپ کو کتنا آتا ہے اور انگریزی سیکھنے کے لیے پھر وہی بات کہ وسائل کتنے لوگوں کے پاس ہیں۔ ہر شعبے میں ان گنے چنے لوگوں کے درمیان ہی مقابلہ ہوتا ہے اور کیا قیادت سامنے آتی ہے، نتیجہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
عدنان محمد، لندن عبدالوحید خان، برمنگھم
۔۔۔۔میں لندن میں لوگوں کے کمر سے بہت نیچے پتلون باندھنے کی عادت سے تنگ آ گیا ہوں۔ صبح گھر سے نکلتے ہوئے اپنے ہمسائے پر نظر پڑی جو زمین پر بیٹھ کر اپنی گاڑی ٹھیک کر رہے تھے۔ بلکہ یوں کہیے کہ نا چاہتے ہوئے بھی میری نظر ان کی آدھی ننگی پیٹھ پر پڑی۔ دو تین روز قبل واشنگ مشین ٹھیک کرنے کے لیے کمپنی کے ایک انجنیر صبح صبح آئے اور ان کے کچن کے فرش پر بیٹھنے کی دیر تھی کہ ان کی پتلون بھی سرک گئی۔ ہفتہ بھر پہلے دو لوگ صوفہ گھر پہنچانے آئے۔ انہوں نے انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے جھک کر صوفہ قالین پر رکھا لیکن بدصورتی کی جھلک دکھا کر میری صبح خراب کر گئے۔ اس طرح کی جھلکیاں لندن میں بسوں میں اترتے چڑھتے بھی نظر آتی ہیں۔ بہت سے لوگ شاید یہ پڑھ کر مغربی تہذیب پر اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کریں لیکن یہ شکایت مجھے لندن میں پاکستان سے آئے اپنے ایک ساتھی سے بھی رہی گو کہ مجھے اس کے اظہار کی کبھی جرات نہیں ہوئی۔
حسیب خان، کراچی: زاہد اقبال، پیرس: اے رضا، ابوظہبی مہر افشاں ترمذی، سعودیہ محمد شکیل احمد ملک حسن اعوان، سیالکوٹ جاوید احمد، پاکستان جاوید اقبال ملک، چکوال محمد یوسف، کینیڈا عمر فاروق، برمنگھم عدنان محمد، لندن جابر خان، سویڈن محمد عمران، لندن | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||