عارف شمیم بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن |  |
| دواپریل، دن بارہ بجے: اینٹی بائیوٹک لانا نہ بھولنا |
انٹرنیٹ پر سرفنگ کرتے کرتے ایک ویب سائٹ پر پہنچا تو پتا چلا کہ سفر ’لکھا‘ ہے۔ پاؤں میں کھجلی بھی محسوس کی اور دفتر والوں نے سبب بھی بنا دیا۔ یار دوستوں نے (ایک نے نہیں کئی ایک نے) پیسے بھی پکڑا دیئے کہ ’یہ‘ ’وہاں‘ دے دینا۔ تیاری مکمل ہی سمجھی۔ راجہ صاحب نے نہیں کہا کہ میرے سگریٹ لیتے آنا کیوں کہ انہیں پتا ہے کہ اگر لے کر نہ آئے تو امیگریشن والے پکڑ لیں گے۔ راجہ صاحب کی پہنچ بہت ’اوپر‘ تک ہے۔ لیکن دو ایک نے جو مطالبہ کیا وہ قابلِ ذکر ہے۔ ’اور کچھ لاؤ نہ لاؤ آگومینٹن یا کوئی اور اینٹی بائیوٹک ضرور لیتے آنا۔ بہت ساری‘۔ ہم ملک سے باہر رہتے ہوئے پاکستانیوں کو اینٹی بائیوٹک سے بہت پیار ہے۔ نہ ہم اس کے بغیر ٹھیک محسوس کرتے ہیں اور نہ ہمارے بچے۔ گزشتہ دنوں جب لندن میں ہمارے گھر سمیت کئی بچوں والے گھر بیمار تھے تو اس بیچاری کی بہت یاد آئی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ادھر ڈاکٹر اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ یہ جادو کی دوائی نہ دیں۔ اکثر ڈاکٹروں کو ہم اس بنا پر فیل کر چکے ہیں۔ آخر یہاں ڈاکٹر اینٹی بائیوٹک کیوں نہیں دیتے۔ یہ ہے کیا بلا۔ پاکستان میں تو ہر بیماری کا یہ ہی علاج ہے۔
| دواپریل، شام پانچ بجے: جادو کی دوا |
اینٹی بائیوٹک ایک ایسی دوا ہے جو انفیکشن روکتی ہے۔ لیکن بقول ڈاکٹروں کے اس کا غلط استعمال جسم کے لیئے بہت برا ہے اور بیکٹیریا کو اس کا عادی بنا دیتا ہے جس سے ایک وقت ایسا آتا ہے انہیں اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اسی لیئے شاید پاکستان میں ہم ماشااللہ ہر دو ہفتے بعد ڈاکٹر کے پاس ضرور جاتے تھے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بیکٹیریا اور وائرس سے لگنے والی بیماریوں میں فرق ہوتا ہے۔ وائرس والی بیماری اپنا پورا وقت لیتی ہے اور اکثر خود بخود ٹھیک ہوتی ہے۔ اس کے برعکس بیکٹیریا کو اینٹی بائیوٹک مارتی ہے۔ اس لیئے اگر ایک اینٹی بائیوٹک کام نہ کرے تو ڈاکٹر اسے بدل کر کوئی اور دے دیتے ہیں۔ چند معلومات جو پتہ چل جائیں تو کوئی مذائقہ نہیں۔ نزلہ اور زکام کبھی اینٹی بائیوٹک سے ٹھیک نہیں ہوتا۔ کھانسی اور برونکائٹس یعنی سانس کی نالی میں سوزش کی بیماری شروع تو وائرس سے ہوتی ہے لیکن اگر یہ لمبی ہو جائے اور پھیپڑوں پر اثر کرے تو سمجھیں کہ بیکٹیریا اپنا کام کر رہا ہے۔ علاج پھر اینٹی بائیوٹک ہی ہے۔ سور تھروٹ یعنی گلے میں کانٹا۔ یہ بھی وائرس سے ہوتا ہے لیکن کبھی کبھار بیکٹریا بھی وجہ ہے۔ کان میں انفیکشن۔ اکثر اینٹی بائیوٹک ہی کام آتی ہے لیکن ڈاکٹر کی باتوں پر کان دھریں اور اس سے پوچھے بغیر نہ لیں۔ کان کا معاملہ کافی نازک ہے۔ یہ میں کیا انفیکشیس باتیں کرنا شروع ہو گیا۔ اچھا ڈائری میں لکھتا ہوں تاکہ نہ بھولوں۔ پاکستان میں بھی تو بہت کام ہیں۔
محمد رمضان، سیالکوٹ میرے خیال میں اینٹی بائیوٹک ادویات بہت ضروری ہیں۔ یہ کئی بیماریوں کا واحد حل ہیں۔ نعیم مشتاق، فیصل آباد اگر پاکستان کے ڈاکٹری علاج میں سے اینٹی بائیوٹک دیں تو بہت سے ڈاکٹر بے روزگار ہو جائیں گے۔ کیونکہ بہت سے ڈاکٹر صرف اس سے علاج کرتے ہیں۔ ایاز حسین، کینیڈا لیگل ایشوز بھی اینٹی بائیوٹک نہ دینے کی ایک وجہ ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ یہاں آپ کا پرانا ڈاکٹر یا فیملی ڈاکٹر آپ پر بھروسہ کرتے ہوئے جلدی اینٹی بائیوٹک دے گا مگر والک ان کلینک کبھی نہیں دے گا۔ فرخندہ جبیں، آسٹریا یہ ہمارے جیسے لوگ جو ملک سے باہر رہتے ہی یہ ان کے لیئے بہت ہی حساس اور دلچسپ مسئلہ ہے۔ جب ہمیں کوئی انفیکشن یا وائرس کا حملہ ہوتا ہے تو ہم فوراً ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور وہ ہمیں اینٹی بائیوٹک کے بغیر دوا دے دیتے ہیں۔ اگر ہم ٹھیک نہ ہوں تو ہم دوبارہ ڈاکٹر سے اینٹی بائیوٹک مانگتے ہیں جو وہ نہیں دیتے اور آخر ہمارے بڑے اصرار پر کبھی کبھار مل بھی جاتی ہے اور ہم ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح پاکستانی ڈاکٹروں کی طرف سے بغیر کسی سائیڈ ایفیکٹ کی فکر کے اینٹی بائیوٹک ملنے سے ٹھیک ہوتے ہیں۔ آصف رضا، بیلجیئم اینٹی بائیوٹک کے جہاں نقصانات ہیں وہاں فوائد بھی ہیں جیسے انفیکشن کا فوری حل کرنا ورنہ اٹھایئے تکلیف۔ بہرحال ہر چیز کی زیادتی اچھی چیز نہیں ہے۔ بڑے بھی کہہ گئے ہیں کہ دوا دارو سے بچو۔ شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات عارف بھائی آپ کا آج کا بلاگ بھی ’سیو، کر لیا ہے معلومات کی خاطر۔ جیسے اس سے پہلے ’جتنا اچھا اتنا برا‘ سیو کیا تھا۔ بیکٹیریا اور وائرس کے نتیجے میں ہونے ہونے والی بیماریاں اور ان سے بچاؤ کے متعلق اچھا معلوماتی بلاگ تھا۔ آدھے ڈاکٹر تو آپ بھی ہو ہی گئے ہیں۔ باقی معلومات اور ’انفیکشن‘ کی باتیں پاکستان سے واپسی پر سنائیے گا یا ڈائری ملتی رہے گی۔ احسان شاہ، ڈیرہ اسماعیل شاہ پاکستان میں یہ تو عام ہے مگر ظلم یہ ہے کہ بیماری میں سارے جہان کی اینٹی بائیوٹک دے دیتے ہیں۔ میری تین سال کی بھتیجی کو ایک عام سے بخار میں ڈاکٹر نے چار مرتبہ اینٹی بائیوٹک دی۔ ایک چھوٹی سی بچی کو۔ اب ہم لوگوں کا بھی یہ حال ہے کہ جو نہ دے اسے غلط کہتے ہیں۔ جب میں نے اینٹی بائیوٹک نہ دینے کی گھر میں بات کی تو سب نے کہا کہ تم تو ہومیو پیتھ اس لیئے کہہ رہے ہو۔ ویسے میں ہومیو کا طالب علم بھی ہوں۔ انور علی اونٹاریو، کینیڈا ہاں، کبھی کبھار ہمیں اینٹی بائیوٹک کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ بھی اس وقت جب ہمیں اپنے بچے ڈاکٹروں کے پاس لے کر جانے پڑتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ کینیڈا میں اگر آپ دس دن کے اندر ٹھیک نہیں ہوتے تو اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ ڈاکٹر یہاں مسئلے کھڑے کر دیتے ہیں۔ آپ انہیں سمجھا نہیں سکتے کہ آپ یا آپ کے بچے دس دن تک گھر میں پڑے اپنے خود بخود ٹھیک ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے۔ آپ کی ذمہ داریاں ہیں اور آپ نے کوئی کام بھی کرنا ہے۔ اس کے باوجود وہ اینٹی بائیوٹک نہیں دیتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ ہاں ہمیں ایک دم یہ نہیں لینا چاہیئے۔ سلیم رضا، گلاسگو، برطانیہ کسی کوالیفائڈ ڈاکٹر کی پرچی کے بغیر اینٹی بائیوٹک لینے سے جسم کی بیماری کے خلاف مدافعت کم ہو جاتی ہے اور ساتھ ساتھ صحت کے لیئے ضروری جراثیم بھی مر جاتے ہیں۔ اس لیئے اینٹی بائیوٹک کھانے سے پہلے سوچ لینا چاہیئے۔ محمد عمران، لندن میں نے لندن میں آ کر ایک بات محسوس کی ہے کہ یہاں پر بڑی عمر کے افراد بہت زیادہ تعداد میں ہیں۔ کیونکہ یہاں پر لوگ اپنی صحت کا خیال رکھتے ہیں اور اینٹی بائیوٹک کم کھاتے ہیں۔ جاوید اقبال ملک، چکوال ارے عارف بھائی یہ پاکستانی بھائی تو باہر سے بہت کچھ لانے کا کہتے ہیں، فحش میگزین، ’خاص‘ ادویات اور مدہوش کرنے والی چیزیں۔ رشید سید، لاہور ہمارے ملک میں ہر ڈاکٹر اپنے کیرئر کا آغاز ہی اینٹی بائیوٹک دینے سے کرتا ہے لیکن انہیں نہیں پتہ کہ یہ دوائیں انسانی جسم کو کتنا نقصان پہنچاتی ہیں۔ ڈی جے ہسو، سیالکوٹ ہمیں اب جادو کی دنیا کی عادت پڑ چکی ہے۔ اب اینٹی بائیوٹک بھی نہیں چاہئیں۔ عطاء اللہ، ہنگو آپ ٹھیک کہتے ہیں پاکستان میں اینٹی بائیوٹک بہت استعمال ہوتی ہے۔ |