ان پڑھ شہنشاہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکبر نے ایک عبادت خانہ بھی بنوایا جس میں ہندو، مسلم، عیسائی بلکہ دہریوں کو بھی بحث کرنے کی کھلی اجازت تھی۔ اکبر بہت نڈر تھا، کوئی بھی رسک لینے سے نہیں ڈرتا تھا لیکن نافرمانوں کو مارنے کے علاوہ کبھی کبھی معاف کر دینے کا بھی قائل تھا۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ اکبر واحد شہنشاہ تھا جو کہ ان پڑھ تھا۔ شاید اسی لیے اکبر کو ایک دانا اور صاحبِ فراست بادشاہ کہا جاتا ہے۔ اکبر ادب و ثقافت کا رسیا تھا اور اس کے دربار میں سکالرز، شاعر اور فلاسفر بلند آواز اسے فلسفے، مذاہب، تاریخ اور سیاست کی کتابیں پڑھ کر سناتے تھے۔ اسی کے دور میں فیضی نے سنسکرت کے مضامین کا فارسی میں ترجمہ کیا اور ابو الفضل نے اکبرنامہ لکھا۔ کہتے ہیں کہ اکبر نے ایک مشنری جیروم زیویر سے نیو ٹیسٹامونٹ کے گوسپلز بھی فارسی میں ترجمہ کروائے تھے۔ جلال الدین محمد اکبر نے سن 1605 میں وفات پائی۔ اصولاً تو ہمیں اکبر کی چار سو ویں برسی منانی چاہیئے۔ لیکن سنا ہے کہ انڈیا میں ہندوؤں کی ایک بڑی لابی اس شنہشاہ کی خدمات ماننے کے لیے تیار نہیں اور مسلمان تو پہلے ہی اسے ’مرتد‘ قرار دے چکے ہیں۔ شاید اسی لیے اکبر آرام سے اپنے مزار میں پڑا ہے۔ اس ساری بحث کا نتیجہ شاید یہ ہے کہ اکبر نے تاریخ پڑھی نہیں تھی اس نے صرف سنی تھی اور سنی سنائی باتیں تو ہمیشہ ۔۔۔۔
کیا تاریخ سے کوئی کچھ سیکھتا ہے یا سیکھ سکتا ہے۔ اس سوال کا جواب خود تاریخ ہی میں موجود ہے۔ کوئی بھی تاریخی کتاب اٹھائیں تو یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑے بہت رد و بدل کے بعد انسان وہی کچھ کرتا رہا ہے جو اس سے پہلے آنے والے کرتے رہے ہیں۔ مثالیں بہت ہیں۔ لیکن آج بات صرف ایک کی کرتے ہیں۔ میں نے کسی سے پوچھا کہ جلال الدین محمد اکبر سے کیا چیز فوراً ذہن میں آتی ہے تو اس کا جواب تھا: آئینِ اکبری اور دینِ الٰہی۔ شاید یہ دونوں باتیں صحیح بھی ہیں۔ لیکن کیا اکبر کی تاریخ یہ دونوں چیزیں تھیں یا وہ ان سے بھی اکبر تھا۔ اکبر نے برِصغیر پر تقریباً پچاس برس حکومت کی اور شاید ہی کسی اور بادشاہ نے اس خطے کو اتنا دیا ہو جتنا اکبر نے۔ اکثر نے یہاں آ کر کچھ چھینا ہی۔ اکبر نے بہت کچھ دیا۔ اس کے نورتنوں کے علاوہ اس کا جزیہ لینے کا نظام بھی کافی متاثرکن تھا۔ اسی شہنشاہ کے دور میں زمین کا درست سروے کیا گیا تاکہ لوگوں سے ٹیکس زیادہ نہ لیا جائے۔ اور یہ ہی وہ شہنشاہ تھا جس نے اپنی ہندو مسلم دونوں طرح کی رعایا کے دل جیتے۔ اس کے چاہنے والوں میں نہ صرف مسلمان، ہندو بلکہ عیسائی بھی شامل تھے۔ اس دور میں تو عام بادشاہوں میں بھی ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا رواج تھا اور اکبر تو شہنشاہ تھا، اس لیے اس نے بھی اس ’فیلڈ‘ میں کافی کمال دکھایا۔ لیکن اس کی ہندو لڑکیوں سے شادیاں اس کی دور اندیشی اور سیکیولرزم کا منہ بولتا ثبوت لگتی ہیں۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ شراب اور شباب کا رسیا تھا۔ کہتے ہیں کہ اکبر کو گوشت پسند نہیں تھا لیکن پھل شوق سے کھاتا تھا۔ بھلا یہ کیا شہنشاہ ہوا کہ وہ گوشت نہیں کھاتا۔ میرے ذہن میں اس وقت گوشت سما گیا ہے میں اکبر سے تھوڑی دیر کے لیے منکر ہو گیا ہوں۔ دوبارہ آؤں گا۔
ثناء خان، کراچی عمران علی رضا، نوٹنگھم، برطانیہ اے رضا، ابو ظہبی صادق علی جدون، پاکستان اکبر کی انہی حرکتوں کی وجہ سے پاکستان کا کوئی بھی میزائل ’اکبر‘ نہیں بنا۔ شاہدہ اکرام، ابو ظہبی |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||