ضیا بلاگ: ’وہسکی اور ویزا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے مہینے بوس صاحب کا فون آیا۔ کہنے لگے حیدرآباد میں کچھ کام ہے۔ آپ وہاں ہو آئیے۔ میں نے بےاختیار قہقہہ لگایا۔ پھر ان سے کہا: بڑے بھائی، آپ کو معلوم تو ہے کہ میں پاکستانی ہوں۔ بھلا ہندوستان کیسے جاسکتا ہوں؟ مگر ان کے کان پر جوں نہ رینگی۔ غرّا کر بولے: یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ کچھ بندوبست کیجیے۔ تو جناب میں بندوبست کرنے کے لیے گھر سے نکلا۔ جنیوا میں ہندوستانی قونصلیٹ میرے گھر سے نزدیک ہی ہے۔ وہاں سے ویزا فارم اور ہدایات لے کر آیا۔ دھیان سے فارم بھرا اور اگلے دن ہی لوٹا دیا۔ فارم لینے والے صاحب نے میرا پاسپورٹ دیکھا اور ایک خفیف سی مسکراہٹ اپنے لبوں پر لائے۔ پھر فرمایا: بھائی، آپ پاکستانی ہیں۔ آپ کے لیے تو علیحدہ فارم ہے۔ تین صفحوں کا۔ اس کی چار کاپیاں چار تصویروں اور دستاویزات کے ساتھ لے کر آئیے۔ چار صفحوں کے فارم کو دیکھ کر میں نے اپنے بوس کو خوب کوسا۔ کمبخت نے نہ جانے کس مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ بہرہال، چار فارم بھرے۔ دستاویزات کا بندوبست کیا۔ اپنی بھونڈی شکل کی چار نقلیں کروائیں۔ اور پھر ویزا افسر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ویزا افسر نے چاروں کاپیوں کا بغور معائنع کیا۔ اور پھر کہنے لگے: کچھ وقت لگے گا۔ آپ چند ہفتوں بعد فون کرلیں۔ میں بلا ناغہ ہر ہفتے ویزا افسر کو فون کرتا رہا۔ تیسرے ہفتے میں ان کا دل پگھلا۔ کہنے لگے ذرا ایک مرتبہ قونصلیٹ پھر تشریف لے آئیے۔ وہاں پہنچا تو پتا چلا کہ قونصل جنرل صاحب مجھ سے ملنے کے خواہش مند ہیں۔ ڈرتے ڈرتے ان کے دفتر میں داخل ہوا۔ سوچنے لگا: یہ اتنے معتبر شخص ہیں، نجانے مجھ سے کیا سوال جواب کریں گے؟ قونصل جنرل صاحب نہایت تپاک سے ملے۔ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ جنیوا کا موسم، آم کے بھاؤ، حیدرآباد میں چار مینار۔ میں سہما ہوا بیٹھا رہا کہ نجانے کب انٹرویو شروع ہو گا؟ پھر موصوف بولے: حیدرآباد میں میرے کئی رشتہ دار ہیں۔ اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو اپنے ساتھ ایک چھوٹا سا پیکج لے جائیں گے؟ ظاہر ہے میں نے حامی بھر لی۔ کسی سیانے نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ ویزا کے طالب کو ایک قونصل جنرل کو نا کہنا عقلمندی نہیں۔ تو اب میں قونصل جنرل صاحب کے سسر ابّا کے لیے ایک وہسکی کی بوتل حیدرآباد لے جا رہا ہوں۔ وہسکی اور پاکستانی مرد: نجانے اس ملاپ پر ہندوستانی کسٹم والے کیسا استقبال کریں گے؟ ’اگلا سال یروشلم میں‘۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے یہودیوں کا یہ من پسند فقرہ تھا۔ جتنا حق کسی غیر اسرئیلی یہودی کا اسرئیل پر ہے، اتنا ہی میرا حق ہندوستان پر ہے۔ تو اب میں بھی کہتا ہوں: ’اگلا ہفتہ ہندوستان میں‘۔
احمد دین، قطر تحریر لکھنے سے پہلے آپ نے سوچا نہیں، کہ میں کیا لکھ رہا ہوں۔۔۔؟ شاہدہ اکرم، ابو ظہبی جاوید اقبال ملک، چکوال مظہر، چین عبدالوحید خان، برطانیہ سجاد احمد، لاہور
اردو زبان کا ایک پہلو ایسا ہے جو لکھنے والوں کے لیے اکثر باعثِ تشویش بنتا ہے۔ ہر ضمیر کی رسمی اور غیر رسمی شکلیں ہیں جیسے ’آپ‘ یا ’تم‘۔ لکھنے والا کسی ایک شکل کا انتخاب کرکے اپنے تعصّب کا اظہار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کے صدر کی پیدائش کا ذکر کرنے کے دو طریقے ہیں۔ (1) ’جارج بش نیو ہیون میں پیدا ہوئے‘، یا (2) ’جارج بش نیو ہیون میں پیدا ہوا۔‘ میرے جملے کے انتخاب سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ میں صدر بش کا کتنا احترام کرتا ہوں۔ بی بی سی جیسے معتبر ادارے سے غیر جانبداری کی توقع کی جاتی ہے۔ تو جناب سوال یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی نامور کردار ’ہے‘ یا ’ہیں‘؟ صدر بش؟ اسامہ بن لادن؟ جناح؟ چنگیز خان؟ ابلیس؟ ایک انسان جسے محترم مانے، دوسرا اسی کو نیچ سمجھ سکتا ہے۔ ایک انسان جسے حریت پسند مانے، دوسرا اسی کو دہشت گرد سمجھ سکتا ہے۔ چلیے ’حریت پسند‘ اور ’دہشت گرد‘ تو اسم ہیں، تو ان کے استعمال سے پرہیز کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر دہشت گرد کے لیے ’آپ‘ استعمال کیا جائے، تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ لکھنے والے کی ہمدردی اپنے موضوع کے ساتھ ہے۔ بی بی سی کی مثال دی ہے تو اسی کی بات کرتا ہوں۔ ’بیسواں ہائی جیکر‘ زکریا موساوی بی بی سی کے مطابق احترام کے قابل ہے۔ وہ ’فرانس میں پیدا ہوئے‘ اور ’انہوں نے لندن سے [...] ڈگری حاصل کی‘۔ اس کے برعکس مصنّف سلمان رشدی کو یہ درجہ حاصل نہیں۔ رشدی ’ایک قیدی کی زندگی گزار رہا تھا‘، وہ ’برطانیہ کا شہری بن چُکا تھا‘ وغیرہ وغیرہ۔ رشدی صاحب کے بارے میں کچھ بھی کہا جائے، امّید کی جاسکتی ہے کہ وہ ہائی جیکر بننے کا خواب نہیں دیکھ رہے ہیں اور نہ ہی معصوم انسانوں کا خون کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اہلِ زبان جو ایک اعلی تہذیب کے دعوی دار ہیں، کیا ان کو اتنا احترام بھی نہیں دے سکتے جو ایک دہشت گرد کے حصّے میں آتا ہے؟ جہاں تک میرا مشاہدہ ہے، بی بی سی کی پالیسی کے مطابق ہٹلر اور چرچل، بن لادن اور بش، موسی اور فرعون سب کے سب ہی ’آپ‘ کے درجے میں آتے ہیں۔ رشدی صاحب سے یہ درجہ بی بی سی کے ادارے نے نہیں بلکہ ایک انفرادی لکھنے والے نے چھینا ہے۔ شاید مدیروں نے اس کی تلافی بھی کرنے کی کوشش کی ہے لیکن صرف جزوی کامیابی حاصل کر پائے ہیں۔ مندرجہ ذیل جملے کو دیکھ کر میری پانچویں جماعت کی اردو کی استانی کو ضرور دل کا دورہ پڑتا۔ ’رُشدی کا آبائی وطن بھارت تھا لیکن وہ برطانیہ کے شہری بن چُکا تھے۔‘
ایچ حسن بیگ، لندن ضیا صاحب کاش اگریزی میں ایسے آپشن ہوتے تو میں آپ کو ’تم‘ یا ’تو‘ کہتا۔ آپ کو کوئی اندازہ ہی نہیں کہ رشدی نے کیا کیا ہے۔ بہت افسوس کی بات ہے۔ سہیل احمد، برطانیہ ذولفقار رند، امریکہ ثنا خان، پاکستان راشد محمد، قطر جاوید گوندل، بارسلونا: محمد اجمل بنگش، اسلام آباد: عامر تاج، ابوظہبی: افتخار احمد کشمیری: شاہدہ اکرام، یو اے ای: جاوید اقبال ملک: عمران عزیز، برطانیہ: سہیل غوری، ٹورنٹو: عاصم سعید:
جنیوا سے ضیا احمد کا آداب۔ ایک دن میں اقوامِ متحدہ کے دفتر سے نکل رہا تھا تو ایک جانی پہچانی شکل نظر آئی۔ جنیوا میں شلوار قمیض کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں اس لیے جانی پہچانی شکل اور بھی مانوس معلوم ہورہی تھی۔ کچھ دیر سوچتا رہا۔ پھر باآواز بول پڑا: ارے، یہ تو اسماء جہانگیر ہیں! وہ بھی ایک پاکستانی چہرا دیکھ کر دور سے مسکرائیں۔ میں ہمّت پکڑ کر ان سے بات کرنے کے لیے بڑھا۔ اچانک ایک گھمبیر مسئلے نے میرے قدم روکے۔ اسماء جہانگیر سے میری کوئی واقفیت نہیں۔ کوئی پوشیدہ رشتہ داری بھی نہیں کہ میں ان کو عنبر کی طرح پھپّو یا بہن بنا لیتا۔ ایسی صورت میں ان کو کیسے مخاطب کرتا؟ یہی کمبخت مسئلہ ہے اردو زبان اور پاکستانی تہذیب کا۔ مغرب کی دنیا میں تو میں انہیں باآسانی ’مِز جہانگیر‘ کہہ کر پکار سکتا تھا۔ بلکہ بےتکلّف ہو کر ’اسما‘ سے بھی کام چلا لیتا۔ جنیوا تو مغرب میں ہے لیکن انسان اپنی دنیا ساتھ لیے لیے گھومتا ہے۔ اور میری دنیا میں منجھلی عمر کی انجان خواتین ’آنٹی‘ کہلاتی ہیں۔ ’آنٹی‘ کے ساتھ بڑے مسائل ہیں۔ اوّل تو یہ حد درجے کا پینڈو لفظ ہے۔ تہذیب یافتہ گھرانوں میں اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ (اور اگر نہیں دیکھا جاتا تو دیکھا جانا چاہیے!) دوئم یہ کہ میری عمر ایسی نہیں رہی کہ خواتین کو بلا جھجک آنٹی کہتا پھروں۔ اس بات کا اندازہ مجھے کچھ عرصہ پہلے ایک شادی کے کھانے کی ’قطار‘ میں ہوا جب ایک چھوٹی سے بچّی نے مجھ سے کہا: ’انکل ذرا سائیڈ پر ہوں، مجھے بریانی لینی ہے۔‘ ایک اور راہ نظر آئی اور وہ تھی مشرقی ’خالہ‘ کی۔ لفظ غیرمعقول نہیں۔ حالات کے مطابق اسے ’خالہ جان‘ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ مگر پھر وہی مسئلہ۔ ’آنٹی‘ کی طرح ’خالہ‘ بھی ذرا پینڈو ٹہرا۔ اس کے علاوہ کیا ممکن تھا؟ بہن، باجی، بی بی، خاتون، محترمہ، بیگم صاحبہ؟ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی نقص! بالآخر میری سوئی آکر ’میڈم‘ پر رکی۔ اس میں احترام بھی تھا اور وقار بھی۔ لفظ انگریزی کا تھا مگر مجبوری تھی۔ اسماء جہانگیر کو میڈم کہ کر میں اپنے آپ کو چھٹی جماعت کے ایسے بچّے کی طرح محسوس کرنے لگا جو اسکول کی خرّانٹ پرنسپل کو ڈرتے ڈرتے مخاطب کر رہا ہو۔ خوش قسمتی سے اسماء جہانگیر بالکل خرّانٹ نہ تھیں۔ نہایت شائستہ انداز میں مجھ سے گفتگو کرتی رہیں۔ خدا انہیں لمبی عمر دے۔ انہی جیسے چند لوگوں کی وجہ سے پاکستان پر فخر ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ اپنی جگہ جوں کا توں ہے۔ اگر کسی اجنبی خاتون کو نام لے کر نہیں پکارا جاسکتا تو انسان کون سا لفظ استعمال کرے؟ جس طرف دیکھتا ہوں، معاشرہ ’آنٹی‘ کی وبا میں مبتلا ہے۔
تھرچند بالانی، پاکستان: عبدالرحمان بلیدی، جیکب آباد: مجاہد رانا، بحرین: جاوید اقبال ملک، چکوال: گل بیگ گرگیج، عمرکوٹ: علی محمد، کینیڈا: شاہدہ اکرام، یو اے ای: عبدالوحید خان، برمنگھم: ریحان اعوان، سرے، کینڈا: |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||