حسن مجتبی لندن |  |
| پچیس اپریل: لندن کا ’ہرا پیر‘ |
یہ جو لندن کی پبوں، شراب خانوں اور کلبوں میں ویک اینڈ ہوتا ہے وہ اک ’ساوے سوموار‘ کی طرح ہے۔ ساوا سوموار یا ’ہرا پیر‘ سندھ میں پیروں کی مزاروں پر ہر پیر کے روز ایک ’منی میلے‘ کی طرح ہوتا ہے جہاں عورتیں اور مرد بڑے بن سنور کر جوق در جوق اپنے من کی مرادیں پانے آتے ہیں۔ میں نے انہی ’ساوے سومواروں‘ کو ہی پیروں کی مزاروں پر یہ کلام بھی سنا ’میں پیر مناون چلی آں، میں یار مناون چلی آں۔‘ مجھے نہیں معلوم کہ پیارے پاکستان میں کٹھ ملائیت زور پکڑ جانے پر یہ ’ساوے سوموار‘ اب بھی ہوتے ہیں کہ نہیں۔ تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ ایک ایسے ویک اینڈ پر جمعے کی شام میں نے، جاوید سومرو اور قادر جتوئی نے نیم شب تک ساتھ گزاری۔ یہ ایک سینٹرل لنڈن میں ’بیل اینڈ کمپاس‘ یا ’گھنٹی اور قطب نما‘ نامی پب تھا۔ اس سے پہلے ہم چائنا ٹاؤن میں گھومتے رہے جہاں چاندنی اتری ہوئی تھی۔ بس ہم بھی وہیں موجود تھے ’شب بھر رہا چرچا تیرا‘ والی بات تھی۔ چائنا ٹاؤن کے ایک ریستوران میں چین کے معتوب فرقے ’فالن گانگ‘ کا اخبار ’ایپک ٹائيمز‘ بھی رکھا تھا۔ ’فالن گانگ‘ والے بھی چین میں ایسے ستائے ہوئے ہیں جیسے وطن عزیز میں احمدی، عیسائی، ہندو اور ہر وہ فرقہ، فرد، خیال و خواب ستایا ہوا ہے جو تھوڑائی میں ہے۔ قادر جتوئی یورپ میں ایک پرانا سیاسی جلاوطن ہے۔ جامشورو، دمشق، افغانستان، سوئیڈن اور اب لندن ۔ ’کل وہ مجھ کو چتا پر چڑھانے چلے، مینہ برسنے لگا تھا بس شمشان پر‘۔ قادر کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔ قادر ضیاءالحق کے دنوں میں پھانسی گھاٹ میں بند تھا۔ وہ کہتا ہے اس نے ایک فوجی میجر کے ہاتھوں میڈیکل طالبہ شیریں سومرو کے ساتھ جنسی زیادتی پر طلبہ کے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ وہ انیس سو اٹھتر تھا اور یہ کل کا سال دو ہزار پانچ، اور اب بھی وہی فوج ہے۔ بس ڈاکٹر شیریں سومرو کی جگہ ڈاکٹر شازیہ ہے۔
|