| | بیس اپریل:’ آنٹی دا پہلوان پتّر‘ |  |
آنٹی نے لندن آنے سے پہلے ہی نہ صرف حرام، حلال کی تمیز کرنا سیکھ لیا تھا بلکہ مغرب میں دودھ سے ٹوتھ پیسٹ تک کی تمام چیزوں کے بارے میں یہ واقفیت حاصل کرلی تھی کہ اپنے دیس کے مقابلے میں یہاں بیشتر چیزیں ملاوٹ کے بغیر ملتی ہیں۔ اپنے دیس سے اور دیس کے حکمرانوں سےآنٹی کو اگر شکایت تھی تو بس یہی کہ وہ ملاوٹی اشیا کی تجارت کو روک نہیں سکے اب تو دیس کی سیاست بھی ملاوٹی ہوگئی ہے۔ لندن پہنچنے کے پہلے دن آنٹی نے جب ’مِلک مین‘ کو دروازے کے باہر پیور ملک یعنی خالص دودھ کی بوتلوں کو رکھتے دیکھا تو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پائی۔ دیس کے گوالے رحیما کی شامت آئی اور آنٹی اسے زور زور سے کوسنے لگیں کہ اس نے ہمیشہ ملاوٹی دودھ پلایا۔ ’مِلک مین‘ کی باتیں آنٹی کو اچھی لگنے لگیں۔ آنٹی اپنے لاڈلے اور پیارے بیٹے کو خالص دودھ اور دوسری اشیاء کھلا کھلا کر خوشی سے پھولے نہیں سماتی۔’ ہم تو پوری زندگی خالص دودھ کی شکل کو ترسے ۔اللہ نے تمہارے لیئے ہی ہمیں مغرب میں بھیجا اور ’مِلک مین‘ کو پیدا کیا‘۔ آنٹی ہر محفل میں مغربی اشیا کی تعریف کرتیں، مغربی گائیوں کے گن گاتیں اور ان چراگاہوں کے جن پر یہ گائیں زندہ رہتی ہیں۔ آنٹی مغرب کی تعریف میں ایسے کھوگئیں کہ بیٹے کے وزن، شکل اور ہیت کا خیال ہی نہیں رہا۔ اس کا اکلوتا اور لاڈلا بیٹا برطانیہ کے ان تیس فیصد بچوں میں شامل ہوگیا جو ’اوبیسٹی‘ یا موٹاپے کا شکار ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ بلڈ پریشر، دل اور دوسرے امراض میں بھی مبتلا ہو جائے۔ ڈاکٹر کی باتوں پر آنٹی کو یقین نہیں آیا۔ آنٹی اب رحیما کو کوسنے کی بجائے دعائیں دے رہی ہیں۔ دیس کے حکمرانوں سے اشیائے خوردنی سے لے کر ملاوٹی سیاست چلانے کی کوئی شکایت نہیں۔ برطانیہ کی گائیں اچھی نہیں اور نہ ہی چراگاہیں سرسبز و شاداب نظر آتی ہیں۔ بیٹے کے موٹاپے سے اتنی خوفزدہ کہ ہر وقت اپنے بیٹے کے ساتھ پارک یا جم میں موجود رہتیں ہیں۔ ’مِلک مین‘ کے سفید دودھ اور باتوں کی طرح ہر شے انہیں بےمعنی لگتی ہے۔ ہر اس شخص کو کوستی ہیں جو ان کے پّتر کو پہلوان کہتا ہے۔ | | ’آپ کیا کہتے ہیں‘ |  |
محمد اعظم، کینیڈا اب آنٹی کو ملاوٹ والی’گراسری‘ بھی اپنے ملک سے درآمد کرنا شروع کر دینی چاہیئے۔ اسی طرح ان کا بیٹا اپنے اصل سائز میں واپس آئے گا۔ گل بیگ، پاکستان آنٹی کو کسی ایک بات پر تو راضی رہنا چاہیئے۔ محمد وقاص، آسٹریلیا آپ نے اچھا لکھا۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ کچھ کچھ عطاءالحق قاسمی یا بریگیڈیر صدیق سالک کا ہلکلا پھلکا مزاح نظر آیا۔ ایک شگفتہ تحریر ہے۔ طارق کیانی، کینیڈا جی نعیمہ جی، یہ چائلڈ اوبیسٹی کینیڈا اور امریکہ میں بھی ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ میرے خیال میں سکولوں میں بچوں سے لازمی جسمانی ورزش کروانی چاہیئے۔ ایک اہم مسئلہ چھیڑنے کا شکریہ۔ عنایت،پاکستان ہمارے ملک کے لوگ جتنا باہر جانے کے لیئے بےتاب ہوتے ہیں اتنا ہی باہر جا کر انہیں خرابیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ کوئی روایت غلط نہیں ہوتی بلکہ انسان کا ذہن اسے اپنے مطابق ڈھال لیتا ہے اور دراصل’ ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے‘۔ شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات کیا خوفناک نقشہ کھینچا ہے اور اس میں آنٹی اور ان کے بیٹے کا دکھ بھی شامل ہو گیا ہے۔ ویسے میری بہن نے کتنی اچھی دلیل دی ہے اپنے ملک کی ملاوٹی اشیاء کے حق میں۔ اظفر خان، کینیڈا نعیمہ جی، کچھ عرصہ پہلے آپ نے مشرق اور مغرب پر ایک کالم لکھا تھا۔ آپ کے دونوں بلاگ اس کالم کی ضد لگتے ہیں۔ مغرب میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ جو جیسا رہنا چاہے اسے ڈسٹرب نہیں کیا جاتا۔ ویسے ہمیں اپنے دیس سے رابطہ مضبوط رکھنا چاہیے کیونکہ نہ سب وہاں اچھا ہے اور نہ یہاں۔ عبدالوحید خان، برطانیہ موٹاپا بلاشبہ ایک بیماری ہے تو ملاوٹ ایک برائی جو کسی صورت جائز قرار نہیں دی جا سکتی۔ اپنے وطن میں تو ملاوٹی سیاست کا کیا ہی کہنا۔ جاوید اقبال ملک، چکوال،پاکستان نعیمہ آپ نے خوب لکھا مگر اپنے وطن کی کیا ہی بات ہے۔’بھولی مج تو کی جانے اناکلی دیاں شاناں‘۔ اپنا وطن تو اپنا ہی ہے۔ سمیرا خان، پاکستان اچھا ہے کہ آنٹی پاکستان سے چلی گئیں۔ کیا آنٹی کی نظر کمزور تھی کہ انہیں اپنے بیٹے میں ہوا بھرتی نظر نہیں آئی۔ ہم لوگ کسی حال میں خوش نہیں رہ سکتے۔ ماجد جاوید، پشاور ہاں نعیمہ بہن آپ نے کافی اچھے موضوع پر بات شروع کی لیکن انسان تو کسی حال میں خوش نہیں رہ سکتا۔ | | آٹھ اپریل: کاش پوچھو ’بات کیا ہے‘ |  |
یہ غم مجھے اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے کہ امیر ملک میں رہنے سے کہیں میں بھی ڈِیپریشن کی بیماری میں مبتلا نہ ہوں۔ جس طرح غریب ملک میں رہ کر میں چٹر چٹر کرتی رہتی تھی وہ زبان ہی اب گونگی ہونےلگی ہے۔ امیر ملکوں میں جس تیزی سے قلم سے لکھنے کا رواج ختم ہورہا ہے، اسی رفتار سے ایک دوسرے سے بات کرنے کی رسم بھی دم توڑ رہی ہے۔ تیز رفتار زندگی اور جدید ٹیکنالوجی اس رسم کو بے موت مار رہی ہے۔ اس کا احساس گرچہ مجھے بہت پہلے ہوا تھا مگر جب سے میں ٹرین میں سفر کرنے لگی ہوں یہ احساس اب شدید ہوتا جارہا ہے۔ میں بوریت محسوس کرنے لگی ہوں۔ میرے ڈاکٹر نے مجھے ڈِیپریشن کا مریض قرار دیا ہے اور کونسلنگ کے لیے ریفر بھی کردیا ہے۔ کیا امیری ایک بد دعا ہے؟ میں خود سے سوال کرنے لگتی ہوں۔۔۔ المیہ یہ ہے کہ جس کے پاس دولت وہ بھی ناخوش، جس کے پاس نہیں وہ بھی نالاں۔ روزانہ کی طرح آج بھی ٹرین میں موت کا سماں لگ رہا ہے۔ کوئی کسی سے بات ہی نہیں کرتا۔ جیسے ڈاکٹر نے سختی سے سب کو بات کرنے سے منع کردیا ہے۔ شاپنگ انٹرنیٹ کے ذریعے، بات چیت ٹیکسٹ یا ای میل کے ذریعے، یعنی ووکل کارڈز پر کوئی دباو نہیں۔ بس میں ہوں، ٹرین میں ہوں، یا پارک میں۔ ہاتھوں میں ہمیشہ اخبار لیے یا موبائل اٹھائے پھر رہے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ ان سے کہہ دوں کہ چار باتیں کرنے سے کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔ دل کا بوجھ ہلکا ہوگا۔ اخبار کی سرخی پر ہی بات کریں، ہیلو ہی کہہ دیں ورنہ زبان گنگ ہوجائے گی۔ مجال ہے کہ کسی سے ذرا بھی ٹچ ہوجائے، فوراً کرنٹ لگتا ہے اور مشکوک ہوجاتے ہیں۔ آج میں گھر سےقصد کرکے نکلی کہ میں ساتھ والی گوری لڑکی سے پوچھوں ’ کیا میاں کے ساتھ تعلقات بہتر ہیں‘ کیونکہ اس کی آنکھیں کچھ سوجی سوجی لگتی ہیں۔ میں جانتی ہوں وہ اسے اپنی ذاتی زندگی میں مداخلت تصور کرے گی۔ عراق میں اپنی فوج بھیجنے کو کبھی مداخلت نہیں مانی گی۔ یہ جو لمبی ناک والا سوٹ پہنے ہوئے اخبار پڑھ رہا ہے کیا اس سے پوچھ لوں ننگی تصویر کو دیکھنے کی بجاے قریب کھڑی عورت سے بات کرکے اس کا بوجھ ہلکا نہیں کرسکتے؟ میری ہمت نہیں ہوتی۔ سامنے والی سیٹ پر بندہ اپنے ہی دیس کا لگتا ہے اس نے دیسی پوشاک تو پہن لی ہے اور ہاتھ میں دیسی اخبار بھی ہے۔ اسے دیکھ کر بڑی کوفت ہو رہی ہے۔ وہ بھی امیروں کے رنگ میں ڈھلنے کی کوشش میں ہے۔ اس کے چہرے پر جہاں ڈیپریشن کی لکیریں ہیں وہیں فکر مندی کی جھلک بھی ۔ شاید سوچ رہا ہے کہ بیٹی ٹائم پر گہر نہیں لوٹتی، بیگم ہر شام پارک کی سیر کرنے لگی ہے، یا بیٹا گرل فرینڈ کے ساتھ الگ رہنے لگا ہے۔ وہ ضرور کسی سے اپنے دل کی بات کہنا چاہتاہے۔ مگر کس سے۔ کوئی سننے والا بھی ہو۔ میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ بات چیت کرنے سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ٹرین میں بیٹھے ان لوگوں کو بھی اپنے بزرگوں کی یہ بات ذہن نشین کرنا چاہتی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ اگر انہوں نے مجھے خاموشی توڑنے کے جرم میں پولیس کے حوالے کردیا تو پرائے دیس میں بچانے کوئی ائے گا؟ اسی لیے میں اب ڈیپریشن میں ہوں اور بات کرنے کی بجائے اینٹی ڈیپریشن لینےلگی ہوں۔ | | ’آپ کیا کہتے ہیں‘ |  |
گل بیگ، پاکستان دنیا کا ہر بڑا شہر ایسا ہو گیا ہے اور اب تو گاؤں میں بھی ایسا ہوتا جا رہا ہے کیا کر سکتے ہیں۔ ہاں البتہ دکھی لوگوں کی خدمت کو اپنی فطرت ثانیہ بنا لیں۔ صابر خان، پاکستان خاموشی عبادت ہے۔ خاموش رہنا بلا مقصد بولنے سے بہتر ہے۔ غلام محمد، پاکستان میرا خیال ہے کہ آج کی اس برقی دور میں ہر بندہ وقت کمی کی وجہ سے پریشان ہے، ویسے نعیمہ احمد آپ نے واقعی ایک حساس مسئلہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ہم سب کو اس بارے میں سوچنا چاہیے۔ محمد علی، کراچی، پاکستان جس جس طرح وقت گزرتا جارہا ہے اس اس طرح لوگوں میں آپس میں مل بیٹنے کی خواہش دم توڑتی جا رہی ہے۔ پہلے خاندان کے بزرگ بچوں کے ساتپ بیٹھتے تھے اور انہیں مسئلے سمجھاتے تھے۔ مگر اب نہ نئی نسل کے پاس وقت وقت ہے اپنے مسائل بزرگوں سے ڈسکس کرنے کا۔ انظار اقبال، پاکستان میں آپ کے اس موضوع پر آپ کو داد دیتا ہوں۔اور اس میں ہمیں اپنا آپ نظر آتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں باتونی شخص سے خاموش آدمی بہتر ہے۔ حسن نائیک، کراچی، پاکستان آپ نے بالکل صحیح لکھا ہے اور میں آپ کو دل سے دعائیں دیتا ہوں کہ آپ ہمیشہ ایسی چیزوں کے بارے میں لکھا کریں۔ نوید عاصم، سعودی عرب ویسے آپ کو بس یا ٹرین میں ہی بات کرنے کا خیال کیوں آتا ہے؟ آپ جب گھر پر ہوتی ہیں تو اس وقت گھر والوں سے باتیں کیوں نہیں کرتیں؟ خیر میرا پاکستان سے تعلق ہے۔ سات بہنوں کا چھوٹا بھائی ہوں۔ اب آپ جان لیں کہ مجھے باتیں کرنے کی کتنی عادت ہوگی اور ہے بھی مگر اب سعودی عرب میں رہتا ہوں اور کبھی کبھی مجھے بھی ایسا لگتا ہے کہ لوگ بات کرنے سے کیوں کتراتے ہیں۔۔۔یا کوئی بات کرنے والا کیوں نہیں۔۔۔ عمر مختار، کینیڈا بہت عمدہ تحریر ہے۔ بہت خوب نعیمہ مہجور جی۔۔۔میرا آدھا ڈیپریشن تو آپ کی تحریر پڑھ کر ہی دور ہو گیا۔ محمد قاسم، پشاور نعیمہ بہن، آپ یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ ہم تو بی بی سی آپ کی آواز کے لیے سنتے ہیں۔ باقی آپ کی بات صحیح ہے۔ اللہ آپ کو دیپریشن سے بچائے۔ خالد علی، کینیڈا آپ بالکل صحیح کہہ رہی ہیں، اور کیا خوب لکھا ہے۔ بہت اچھے۔ کم از کم آپ نے اصل موضوع پر بات تو کی۔ شعیب قاضی، برطانیہ انسان کسی بھی حال میں خوش نہیں ہوتا۔ یہ تو ایک حقیقت ہے۔ جتنا دنیا کے چکر میں آئیں گے اتنا پریشان ہوں گے۔ توکل کی کمی ہے۔۔۔اور کچھ نہیں۔ محمد فیصل، سرگودھا ہم دوسروں سے بات کم کرتے ہیں اس سے ہماری غلط فہمیاں بڑھتی ہیں۔ ہم اپنے آپ میں ہی بنائے رکھتے ہیں ہاں ایسا ہے اور ویسا ہے۔ خود ہی مدعی، خود ہی منصف۔ نتیجہ ٹینشن، ڈیپریشن۔۔۔ مقرب احمد، وہاری بہت دکھ ہوا آپ ایسے معاشرے میں رہتی ہیں۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھ رہا ہوں کہ آفس میں میرے ساتھی سارا دن میرے کان کھاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو جی چاہتا ہے کہ اللہ کوئی دو منٹ کی خاموشی بھی مل جائے۔ راستے میں پبلک بس میں مجال ہے کوئی سواری خاموش بیٹھ جائے۔ اور گھر میں میری بہنیں بالکل بی بی سی ریڈیو کی طرح کمنٹری کرتی ہیں۔ تو نعیمہ جی اس لحاظ سے میں خوش قسمت ہوں۔ اگر میں برطانیہ جاؤں تو جیسا نقشہ آپ نے کھینچا ہے، مجھے تو پہلے دن ہی واپس لوٹنا پڑے گا۔۔۔ حامد احمد، سعودی عرب نعیمہ احمد نے ایک انتہائی اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ آج کے مشینی دور میں ہر کام مشین کے ذریعے کرنے کے نتیجے میں انسان بھی مشینوں کا ایک حصہ بن چکا ہے۔۔۔ |