BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کھائیں تو کھائیں کہاں

اکبر میں کیا اکبری تھی؟

جب بھی کبھی ملک سے باہر گئے تو جس مسئلے کا سب سے پہلے سامنا کرنا پڑا وہ تھا کہ کھائیں گے کیا۔ ویسے تو یہ مسئلہ ملک سے باہر نہیں ملک کے اندر بھی کبھی کبھار سر اٹھاتا رہا۔ مجھے یاد ہے کہ بہت سال پہلے ایک مرتبہ جب دوستوں کا موڈ بنا کہ شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور روٹ بنانا شروع کر دیا گیا کہ یہاں رہیں گے، یہاں سے وہاں جائیں گے ان ان جگہوں کو بیس بنائیں گے تو آخر میں ایک دوست کی آواز آئی ’تے فیر روٹی‘۔ مطلب یہ کہ روٹی کہاں کھائیں گے۔

روٹی کا مسئلہ نیپال میں بھی مجھے اور میری بیوی کو اس وقت پیش آیا جب ہم نے ایک ہوٹل کے مینیو پر پراٹھا دیکھ کر اس کا آرڈر دیا اور پھر پراٹھے کی راہ تکتے رہے۔ جب کافی دیر تک پراٹھا نہ پہنچا اور آملیٹ بالکل ٹھنڈا ہو گیا تو ویٹر کو بلا کر اس کی وجہ پوچھی۔ اس نے آہستہ سے میز پر پڑی ایک چھوٹی سے اوندھے منہ پڑی کٹوری کو سیدھا کیا اور اندر سے پکے ہوئے آٹے کا ایک نوالے جتنا کچومر ہمارے سامنے کر دیا۔ اس کے بقول وہ پراٹھا تھا۔

اب پراٹھا کھانے کی نہ اجازت ہے اور نہ ہی شاید ہمت، ہاں چاہت ضرور ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ کچھ عرصہ پہلے میری ڈاکٹر نے مجھ سے کھانے کی تفصیل پوچھی تو میں نے تھوڑے بہت جھوٹ کے ساتھ اسے سچ سچ بتا دیا کہ میں صبح تقریباً نہیں کھاتا، دوپہر کو کم کھاتا ہوں اور رات کو تقریباً ڈٹ کر۔ اس نے سن کر کہا کہ یہی ہے بیماری کی اصل وجہ۔ پھر اس نے مجھے بتایا کہ انگریزی میں کہتے ہیں کہ ناشتا بادشاہوں کی طرح کھاؤ یعنی غذائیت سے بھرپور اور پیٹ بھر کر، دوپہر کا کھانا ملکہ کی طرح کھاؤ اچھی طرح، پر بادشاہ سے کم اور رات کا کھانا ایک غریب اور مفلس آدمی والا۔ ’اسی طرح تم صحت کی دولت سے مالا مال ہو سکتے ہو‘۔ میں اب کبھی کبھار صبح صبح بادشاہ بننے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ آپ بھی کیجیئے شاید افاقہ ہوجائے۔


’آپ کیا کہتے ہیں‘

موسیٰ، لاہور

آپ نے بہت ہی اچھا نسخہ بتایا ہے۔ میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ اس طریقے پر عمل کروں۔ شکریہ۔

حیدریار اورکزئی، ہنگو

عارف صاحب ڈاکٹر کی بات پر دھیان دیں۔ کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ ’دل سے‘ کو علاج سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

عبدالوحید خان، برمنگھم

پاکستان اور پاکستانی کھانوں کی کیا بات ہے لیکن اس کا اندازہ جب ہی ہوتا ہے جب آپ باہر کے ممالک جاتے ہیں۔ ورنہ تو گھر کی مرغی دال برابر والی بات ہے۔

صباح الدین بٹ، سوئٹزرلینڈ

عارف صاحب، ہمت کی بات کریں اجازت کی کون پرواہ کرتا ہے۔ ہمت ہو تو ہما وقت بادشاہت کرنے سے کون روک سکتا ہے۔

نظام، دبئی
یہ بلاگ تو دل سے نہیں پیٹ سے لکھا ہوا ہے۔

علی عمران، کراچی

کھانے کا معاملہ بہت نازک ہے ان کے لیئے جو کھانے کے لیئے جیتے ہیں۔ لیکن ہم تو جینے کے لیئے کھاتے ہیں یعنی ایک ناشتہ بھرپور اور ایک کھانا وہ بھی رات کو۔ ڈنر نہ کرنا ٹھیک نہیں ڈاکٹر سے ہمیں اختلاف ہے کیونکہ ہم نے ایک حدیث سنی ہے کہ رات کو کھانا نہ کھانے والا بہت جلد بوڑھا ہو جاتا ہے۔

عامر بھٹی، اسلام آباد، پاکستان
جناب ایک وقت کا کا بادشاہ بننے کا کیا فائدہ؟ بندہ بنے تو پورے دن کا۔۔۔

ثنا خان، کراچی

صبح کے وقت میں بھی ملکہ، دوپہر میں غریب اور رات میں بھی ڈبل ملکہ۔ کھانے کی ’روٹین‘ بدلنا بہت مشکل ہے۔

شاہدہ اکرام، دبئی

شمیم بھائی، آپ ایک بات بتائیں کہ پراٹھا جیسی چیز سے بچنا کتنا مشکل ہے۔ لیکن کیا کریں دل ہی تو ہے نہ سنگِ خشت، جو ڈاکٹر کہے وہ ہی کھانا ہو گا۔ لیکن دل کبھی کبھار تو منہ کا ذائقہ تبدیل کر ہی لیا جاتا ہے۔ بس یہ ہے کہ روزانہ کی روٹین میں سب کچھ ایک مقدار رکھا جائے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اکبر میں کیا اکبری تھی؟ان پڑھ شہنشاہ
اکبر کی400 ویں برسی پر عارف شمیم کا بلاگ
پاکستان کا دلیپ کمار پاکستان کا دلیپ کمار
’علی اور زیبا کی فلم میں رنگیلے کا کیا کام‘
عنبر خیری کی حیرتعادتوں کا آڈٹ
عنبرخیری اور چائے کا نشہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد