BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 17 April, 2006, 14:32 GMT 19:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرائیڈ کی بیٹی، ہری مرچیں اور دیوار گریہ



انیس اپریل: ’بی بی سی کا پاک ٹی شاپ‘

لندن میں ٹیمز ندی کے اس پار رہ رہا ہوں، جنوب میں سڈنہم کی طرف۔ اس صبح چھ ٹماٹر اور مٹھی بھر ہری مرچیں خریدنے نکلا۔ ’کہاں سے آئے ہو؟‘ سری لنکن سیلز مین ( ’مین‘ تو نہیں لڑکا) نے پوچھا۔

’ امریکہ سے‘ میں نے کہا۔ ’امریکہ میں کہاں سے؟‘ پھر اس نے پوچھا۔

’کیلیفورنیا سے۔‘

’میری گرل فرینڈ بھی کیلیفورنیا میں رہتی ہے‘، اس نے کہا۔

لندن کی گروسری یاگیس اسٹیشن بزنس میں بہت سے سری لنکنز ہیں۔
سڈنہم میں ایک سڑک ہے جسے ’جیوز واک‘ کہتے ہیں۔ ’جیوز واک پر کبھی مشہور نفسیات دان سگمنڈ فرائيڈ کی بیٹی رہتی تھی‘ کسی نے کہا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ انیس سو اسی کی دہائی ميں اپنے ہاں (پاکستان میں) سگمنڈ فرائیڈ بڑا مشہور ہوا تھا۔ سگمنڈ فرائيڈ اور اشفاق احمد۔

سڈنہم کو میں ’بی بی سی محلہ‘ کہنے لگا ہوں کہ بی بی سی کے میرے کافی دوست یہیں رہتے ہیں۔ سڈنہم سے بش ہاؤس جانے کیلیے لندن برج کی ٹرین پکڑی اور پھر وہاں سے دو اسٹیشن چیرنگ کراس اور ٹھک سے بش ہاؤس۔

’راجہ صاحب ! ہاتھ کی ریکھا کیا کہتی ہے ؟‘ میں نے سوچا تھا جب بھی بش ہاؤس جاؤنگا تو راجہ ذوالفقار کو اپنا ہاتھ ضرور دکھاؤں گا۔ راجہ ذوالفقار دست شناسی کا علم رکھتے ہیں۔

اگر آپ بش ہاؤس جائيں تو وہاں اس کے گراؤنڈ فلور پر کلب ضرور جائيں۔ ویسے یہ میرا خیال ہے بش ہاؤس والوں کے چلنے میں ’کلب‘ تیل کا کام دیتا ہے۔ ’اگر پیٹرول نہیں ہوگا تو گاڑی کہاں سے چلے گی؟‘ فنکار علن فقیر نے جنرل ضیا سے کہا تھا۔

اگر آپ بش ہاؤس میں کسی سے ملنے جاتے ہیں تو کلب بھی جا سکتے ہیں۔ ’یہ در کھلا میرے میکدے کا وہ آئے ہیں میرے ملنے والے۔‘

’یہ بی بی سی والوں کا پاک ٹی شاپ ہے‘ صبح میرا دوست فرجاد نبی فون پر مجھ سے کہہ رہا تھا۔ ہم نے اتوار کو کلب کے ایک کونے میں چوبی میز پر کھنکھناتی شام سجائی اور اپنے گلے تر لیکن کڑوے کیے۔ انور سن رائے، علی احمد خان، ساجدا قبال، میں اور مظہر۔ اس شام تمام بحث کا حاصل مطلب یہ ہوا کہ، بقول علی احمد خان ہم نے بحيثیت انسان کے آدمی نے آدمی پر اتنے ستم کیے ہیں کہ اب ہمیں اپنے اپنے گھر میں اک دیوار گریہ بنانا چاہیے۔


’آپ کیا کہتے ہیں‘

صابر خان، کینیڈا
سوہنا رب آپ کے قلم کو اور توانائی دے اور زور قلم مزید زیادہ ہو۔

ساگر ساندیلو، ملیر
حسن نے کہیں لکھا تھا ’میرے شہر کے لڑکے اور لڑکیوں کو موت اندھیری گلیوں میں ملی تھی‘۔ تو یہاں تو ہر طرف موت کا راج ہے، کیا کالا پانی، کیا گورا پانی۔۔۔

اسد حسن، پاکستان
مسٹر حسن کیا آپ ابوالکلام آزاد کے بارے میں اپنے دعوے کی وضاحت کر سکتے ہیں۔۔۔؟


سترہ اپریل: ’لندن کی بتیاں‘

کوئی نو سال بعد امریکہ سے باہر سفر کو نکلا لندن ولایت کی طرف۔ برطانیہ کو میں اب تک ولایت ہی کہتا ہوں۔ جب میں لندن کے سفر کو سوچتا ہوں تونہ جانے کیوں مجھے خیرپور میرس کے وہ تالپور حکمران میر علی مراد یاد جاتے ہیں جو کسی عرضی کے سلسلے میں ملکہ سے ملنے گۓ تھے اور واپسی پر انہوں نے لندن کے متعلق ایک سفرنامے میں لکھا :’ جہاں عورتیں بےشرمی کی حد تک گھٹنوں سے نیچے ننگی تھیں اور یہاں تک کہ چھوٹے بچے بھی انگریزی بولتے تھے۔‘ ابھی تو عالی جی کی اس بات میں بھی سچ اور جھوٹ ڈھونڈھنا باقی ہے کہ ’لندن جس کا نام سنا تھا نکلا پیار سے خالی۔‘

بہرحال اپنے بیٹے اور امریکہ کو دو ایک ہفتوں کےلیئے چھوڑنا بھاری دل تو لگا لیکن سفر وسیلہ ظفر کے مصداق بی بی سی میں ٹریننگ (اور میرے جیسے سلیس اردو پڑھے ہوئے آدمی کی دو چشمی ( ہ ) ٹھیک کرنے)، لندن دیکھنے اور ایسے دوستوں سے پھر سے ملنے کے بہانے بھی جن سے اب خوابوں میں ہی ملنا ہوتا ہے۔ ’بچھڑے یار اور جھڑتے پتے بات تو ایک سی نہیں ہے!‘ کسی نے کہا تھا۔ وہ جن سے کبھی ہماری چنڈال چوکڑی تو کیا چنڈو خانے چلتے تھے۔ وہ ان کی شہر شہر انجمن قاتلان شب۔ اب جو ان دیسی پرندوں نے میری طرح ولایت کے درختوں میں آشیانے بنائے ہیں، بوجہ دانہ پانی ، حکم حاکم مرگ مفاجات یا بوجہ کسی اور۔ بس حسن درس کی زبانی ’وطن میں بے وطن معشوق عاشق کا ملن کیسا۔‘

وہ لندن دیکھنا ہے جو دنیا بھر کے جلاوطنوں کا دارالخلافہ ہے اور بھی بہت کچھ۔ لندن کے قریب جب میں گیٹوِک ایئر پورٹ پر اترا تو اس دن ایسٹر کا جمعہ یا ’گڈ فرائیڈے ‘ تھا اور ہوائی اڈے کے ٹرمینل پر بھی چرچ میں عبادات میں شرکت کےلیئے لوگوں سے اپیل ہورہی تھی۔

لندن پر بہارآئی ہوئی ہے۔ میں بش ہاوس اس ’ونڈرمنٹ‘ کی طرح گیا جس طرح کبھی اندروں سندھ سے ریڈیو پاکستان حیدرآباد دیکھنے اور اپنے پسندیدہ صداکاروں اداکاروں سے ملنے گیا تھا۔

مظہر زیدی اور میں نے بش ہاؤس سے کووین گارڈن، لیسٹر سکوائراور پکاڈلی کی ’پتلی گلیوں‘ کی سیر کی۔ دوسرے لفظوں میں مظہر زیدی میرے جیسے پینڈو کو ’لندن کی بتیاں‘ دکھا نے نکلا۔ (جاری ہے)


آپ کیا کہتے ہیں؟

گل بیگ، پاکستان:
مہربانی، باتوں باتوں میں لندن گھما دیا۔۔۔

ساگر ساندیلو، ملیر:
حسن بھائی سیاست پر آپ کا لکھنا مجھے اچھا لگتا ہے کیونکہ جو کچھ میں سوچتا ہوں وہ آپ لکھ دیتے ہو۔ یوں ہی لکھتے رہو اور خوش رہو۔ نہ جانے کب زندگی کی شام ہو جائے۔

خالد، امریکہ
جس طرح لاہور پاکستان کا سب سے بڑا گاؤں ہے اسی طرح لندن دنیا کا سب سے بڑا گاؤں ہے۔ آپ اینجوآئے کیجیے۔

محمد عثمان، کارڈِف، ویلز
جناب کیا آپ بُش ہاؤس کا نام بدل نہیں سکتے؟ یہ نام پڑھ کر طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔۔۔

جاوید اقبال ملک، چکوال
حسن بھائی آپ کو آپ کا امریکہ اور لندن مبارک ہو، ہمارا وطن ہم کو جان سے پیارا ہے۔ ہمیں تو اسی سے محبت ہے۔ آپ بتیاں دیکھیں یا دیے، سب ٹھیک ہے۔

محمد عمران، لندن
لندن ایک بہت ہی خوب صورت اور دریا دل شہر ہے جس کا دامن بہت کشادہ ہے اور ہر کسی کو اپنا بنا لیتا ہے۔ مزید یہ کہ دولت مشترکہ کے ممالک کے باشندوں کا دوسرا گھر ہے۔ اے لندن تو سلامت رہے۔

عمر، فیصل آباد:
حسن صاحب بہت اچھے۔ میں نے لندن دیکھا ہے مگر جس طرح آپ نے اسے پیش کیا اور بھی مزا آ گیا۔ لکھتے رہیے۔

صابر خان، برنبی، کینڈا:
سات سمندر پار، وطن سے دور میں ہمیشہ آپ کی تحریروں کا انتظار کرتا ہوں۔ سوہنی دھرتی کے ساتھ سوھنا رب آپ کو بھی سلامت رکھے۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی:
بلاگ پڑھ کر صرف اس بات کا افسوس ہوا کہ آپ وہ سب کچھ دیکھیں گے بش ہاؤس میں جوہم بچپن سے ذہن میں رجھے ہوئے ہیں|۔ہم تو دو دفعہ لندن جانے اور خواہش اور کوشش کے باوجود وہاں نہیں جا سکے۔ ہم منتظر رہیں گے آپ کی اگلی قسط کے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
حسن کا نیا بلاگحسن بلاگ
’اب اٹلی میں گاتا ہوگا ’میرا نام عبدالرحمان ‘
ضیاپیریار، کہاں ہے؟
’ہمارے نئے دور کا غیب دان کب آئے گا؟ ‘
وسعت بلاگوسعت بلاگ
’کوئی بے زاری سی بے زاری ہے‘
میلاد کی تقریباتمیلاد کی تقریبات
’کیا یہ محرم کی تقریبات کا مقابلہ ہے؟‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد