فرائیڈ کی بیٹی، ہری مرچیں اور دیوار گریہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں ٹیمز ندی کے اس پار رہ رہا ہوں، جنوب میں سڈنہم کی طرف۔ اس صبح چھ ٹماٹر اور مٹھی بھر ہری مرچیں خریدنے نکلا۔ ’کہاں سے آئے ہو؟‘ سری لنکن سیلز مین ( ’مین‘ تو نہیں لڑکا) نے پوچھا۔ ’ امریکہ سے‘ میں نے کہا۔ ’امریکہ میں کہاں سے؟‘ پھر اس نے پوچھا۔ ’کیلیفورنیا سے۔‘ ’میری گرل فرینڈ بھی کیلیفورنیا میں رہتی ہے‘، اس نے کہا۔ لندن کی گروسری یاگیس اسٹیشن بزنس میں بہت سے سری لنکنز ہیں۔ سڈنہم کو میں ’بی بی سی محلہ‘ کہنے لگا ہوں کہ بی بی سی کے میرے کافی دوست یہیں رہتے ہیں۔ سڈنہم سے بش ہاؤس جانے کیلیے لندن برج کی ٹرین پکڑی اور پھر وہاں سے دو اسٹیشن چیرنگ کراس اور ٹھک سے بش ہاؤس۔ ’راجہ صاحب ! ہاتھ کی ریکھا کیا کہتی ہے ؟‘ میں نے سوچا تھا جب بھی بش ہاؤس جاؤنگا تو راجہ ذوالفقار کو اپنا ہاتھ ضرور دکھاؤں گا۔ راجہ ذوالفقار دست شناسی کا علم رکھتے ہیں۔ اگر آپ بش ہاؤس جائيں تو وہاں اس کے گراؤنڈ فلور پر کلب ضرور جائيں۔ ویسے یہ میرا خیال ہے بش ہاؤس والوں کے چلنے میں ’کلب‘ تیل کا کام دیتا ہے۔ ’اگر پیٹرول نہیں ہوگا تو گاڑی کہاں سے چلے گی؟‘ فنکار علن فقیر نے جنرل ضیا سے کہا تھا۔ اگر آپ بش ہاؤس میں کسی سے ملنے جاتے ہیں تو کلب بھی جا سکتے ہیں۔ ’یہ در کھلا میرے میکدے کا وہ آئے ہیں میرے ملنے والے۔‘ ’یہ بی بی سی والوں کا پاک ٹی شاپ ہے‘ صبح میرا دوست فرجاد نبی فون پر مجھ سے کہہ رہا تھا۔ ہم نے اتوار کو کلب کے ایک کونے میں چوبی میز پر کھنکھناتی شام سجائی اور اپنے گلے تر لیکن کڑوے کیے۔ انور سن رائے، علی احمد خان، ساجدا قبال، میں اور مظہر۔ اس شام تمام بحث کا حاصل مطلب یہ ہوا کہ، بقول علی احمد خان ہم نے بحيثیت انسان کے آدمی نے آدمی پر اتنے ستم کیے ہیں کہ اب ہمیں اپنے اپنے گھر میں اک دیوار گریہ بنانا چاہیے۔
صابر خان، کینیڈا سوہنا رب آپ کے قلم کو اور توانائی دے اور زور قلم مزید زیادہ ہو۔ ساگر ساندیلو، ملیر اسد حسن، پاکستان
کوئی نو سال بعد امریکہ سے باہر سفر کو نکلا لندن ولایت کی طرف۔ برطانیہ کو میں اب تک ولایت ہی کہتا ہوں۔ جب میں لندن کے سفر کو سوچتا ہوں تونہ جانے کیوں مجھے خیرپور میرس کے وہ تالپور حکمران میر علی مراد یاد جاتے ہیں جو کسی عرضی کے سلسلے میں ملکہ سے ملنے گۓ تھے اور واپسی پر انہوں نے لندن کے متعلق ایک سفرنامے میں لکھا :’ جہاں عورتیں بےشرمی کی حد تک گھٹنوں سے نیچے ننگی تھیں اور یہاں تک کہ چھوٹے بچے بھی انگریزی بولتے تھے۔‘ ابھی تو عالی جی کی اس بات میں بھی سچ اور جھوٹ ڈھونڈھنا باقی ہے کہ ’لندن جس کا نام سنا تھا نکلا پیار سے خالی۔‘ بہرحال اپنے بیٹے اور امریکہ کو دو ایک ہفتوں کےلیئے چھوڑنا بھاری دل تو لگا لیکن سفر وسیلہ ظفر کے مصداق بی بی سی میں ٹریننگ (اور میرے جیسے سلیس اردو پڑھے ہوئے آدمی کی دو چشمی ( ہ ) ٹھیک کرنے)، لندن دیکھنے اور ایسے دوستوں سے پھر سے ملنے کے بہانے بھی جن سے اب خوابوں میں ہی ملنا ہوتا ہے۔ ’بچھڑے یار اور جھڑتے پتے بات تو ایک سی نہیں ہے!‘ کسی نے کہا تھا۔ وہ جن سے کبھی ہماری چنڈال چوکڑی تو کیا چنڈو خانے چلتے تھے۔ وہ ان کی شہر شہر انجمن قاتلان شب۔ اب جو ان دیسی پرندوں نے میری طرح ولایت کے درختوں میں آشیانے بنائے ہیں، بوجہ دانہ پانی ، حکم حاکم مرگ مفاجات یا بوجہ کسی اور۔ بس حسن درس کی زبانی ’وطن میں بے وطن معشوق عاشق کا ملن کیسا۔‘ وہ لندن دیکھنا ہے جو دنیا بھر کے جلاوطنوں کا دارالخلافہ ہے اور بھی بہت کچھ۔ لندن کے قریب جب میں گیٹوِک ایئر پورٹ پر اترا تو اس دن ایسٹر کا جمعہ یا ’گڈ فرائیڈے ‘ تھا اور ہوائی اڈے کے ٹرمینل پر بھی چرچ میں عبادات میں شرکت کےلیئے لوگوں سے اپیل ہورہی تھی۔ لندن پر بہارآئی ہوئی ہے۔ میں بش ہاوس اس ’ونڈرمنٹ‘ کی طرح گیا جس طرح کبھی اندروں سندھ سے ریڈیو پاکستان حیدرآباد دیکھنے اور اپنے پسندیدہ صداکاروں اداکاروں سے ملنے گیا تھا۔ مظہر زیدی اور میں نے بش ہاؤس سے کووین گارڈن، لیسٹر سکوائراور پکاڈلی کی ’پتلی گلیوں‘ کی سیر کی۔ دوسرے لفظوں میں مظہر زیدی میرے جیسے پینڈو کو ’لندن کی بتیاں‘ دکھا نے نکلا۔ (جاری ہے)
گل بیگ، پاکستان: مہربانی، باتوں باتوں میں لندن گھما دیا۔۔۔ ساگر ساندیلو، ملیر: خالد، امریکہ محمد عثمان، کارڈِف، ویلز جاوید اقبال ملک، چکوال محمد عمران، لندن عمر، فیصل آباد: صابر خان، برنبی، کینڈا: شاہدہ اکرم، ابو ظہبی: |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||