BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وسعت بلاگ: ’بھوت مدرسہ‘


اکیس اپریل: ’بھوت مدرسے‘

ایک تازہ ترین سروے کے مطابق پاکستان میں اس وقت تیس ہزار کے لگ بھگ گھوسٹ اسکول یعنی بھوت مدرسے موجود ہیں۔محکمہ تعلیم کے ریکارڈ کے مطابق ان بھوت اسکولوں میں استاد اور شاگرد بھی پائے جاتے ہیں۔یہاں باقاعدگی سے کلاسیں بھی ہوتی ہیں۔ اساتذہ کو ماہانہ تنخواہ بھی مل رہی ہے۔ان اسکولوں کو سرکاری گرانٹ بھی حاصل ہے۔لیکن زمین پر ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔

کسی اسکول کی عمارت میں گائے بھینسیں بندھی ہوئی ہیں تو کہیں غلے کا گودام ۔کسی اسکول میں تھانہ کھلا ہوا ہے تو کہیں وڈیرے نے مہمانوں کے لئے اوطاق بنا ڈالا ہے۔کسی اسکول کی خالی عمارت میں نشئی براجمان ہیں تو کسی کے دروازے، کھڑکیاں اور اینٹیں تک چوری ہوگئی ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد میں ڈاکٹر عطاالرحمان کی سربراہی میں قائم ہائر ایجوکیشن کمیشن بالکل ایک الگ دنیا ہے۔کمیشن کے پاس اعلی تعلیم اور سائنس و ٹیکنولوجی کے میدان میں پاکستان کو دھکیلنے کے لئے شاندار منصوبے اور اربوں روپے کا بجٹ ہے۔کمیشن امریکہ ، یورپ اور فارایسٹ کے معروف تعلیمی اداروں کی طرز پر اگلے چار برس کے دوران کم ازکم چھ بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹیاں قائم کرنے کا اعلان کرچکا ہے تاکہ پاکستان اکیسویں صدی میں کسی سے پیچھے نہ رھ جائے۔

لیکن یہ بات کیسے سمجھائی جائے کہ سرکاری پرائمری تعلیم کو بھوت اسکولوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا اور سارے وسائل اور توجہ جدید ترین اعلی تعلیمی منصوبوں پر لگا دینا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی بچے کو بغیر پاجامے کے صرف کرتا پہنا کر محلے میں چھوڑ دیا جائے اور وہ ہر ایک کے سامنے قلابازیاں کھاتا پھرے۔

’آپ کیا کہتے ہیں‘

لیاقت علی بگٹی، اسلام آباد
بہت اعلیٰ، یہ تو بہت سے مدرسوں کی بات ہے لیکن ان مدرسوں کو آپ کیا نام دیں گے جہاں مسئلہ اس کے برعکس ہے یعنی سکول، استاد اور طلبہ تو ہیں لیکن ان کا پرسان حال کوئی نہیں۔

قاسم، کوئٹہ
یہ بات بالکل سچ ہے کہ پاکستان میں ایک تو ویسے بھی تعلیم کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی اور اس کے قسم کے سکولوں کو تو کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔تاہم آپ نے ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

سید مصباح الدین، سعودی عرب
بھوت سکولوں کے بارے میں آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن ہائیرایجوکیشن کمیشن بھی جو کر رہا ہے وہ جاری رہنا چاہیے۔ حکومت کو بھوت سکولوں کو حقیقی سکولوں میں بدلنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

ندیم خان، کینیڈا
میں آپ کی بات میں ایک اضافہ کروں گا اور وہ یہ ہے کہ سکولوں میں پٹائی کو ایک باقاعدہ جرم بنانے کی ضرورت ہے۔

ساجد مجید، لاہور
واہ کیا ملک ہے۔ کوئی بھی، حتیٰ کہ بھوت بھی یہ پسند نہیں کریں گے کہ ان کے نام پر اس قسم کے سکول چل رہے ہیں۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی
ہم ایسی باتیں پڑھ کر سوائے رنجیدہ ہونے کے اور کچھ نہیں کر سکتے۔ وسعت بھائی آپ اور بی بی سی جیسا مضبوط ادارہ شاید اس سلسلے میں کچھ کر سکے۔ ارباب اختیار سے کوئی بھلا پوچھے کہ کوئی پہلا زینہ چڑھے بغیر آخری زینہ کیسے چڑھ سکتا ہے۔

چودہ اپریل، ’رنجیدہ نہ ہوں‘


وقت نے حکومتوں کو اس فن میں طاق بنا دیا ہے کہ بغیر انگلی ہلائے اقتدار، امن و امان اور عوام کا اعتماد کیسے بحال رکھا جاسکتا ہے۔ یہ تجربات اب ایک آزمودہ مینوئل کی شکل میں ہر حکمران اور اسکے کارندوں کو ازبر ہوچکے ہیں۔

مثلاً اگر کسی بڑی شخصیت کا قتل ہوجائے تو فوراً ایک تعزیتی بیان جاری کیا جائے جس میں مرنے والے کے لئے بلند درجات کی دعا اور لواحقین اور مداحوں کے لئے صبرِ جمیل کی تلقین ہو۔ مرحوم کی ملی و دینی خدمات کو اس بیان میں تفصیلاً خراجِ عقیدت پیش کیا جائے۔ ایک ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر سات روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جائے۔ دوسرے روز مقتول کے گھر جاکر پسماندگان کے ہمراہ دعائیہ ہاتھ بلند کرکے تصویر کھنچوائی جائے اور مقتول کی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں کے جھرمٹ میں بتایا جائے کہ حکومت کس طرح قاتلوں کی گرفتاری کے لئے زمین آسمان ایک کررہی ہے۔ اگرچہ اس طرح کی سازش بے نقاب کرنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے لیکن قانون کا ہاتھ جلد ہی قاتلوں کے گریبان تک پہنچ جائے گا وغیرہ وغیرہ۔

اگر کسی عوامی جگہ یا اجتماع میں بم دھماکے یا فائرنگ سے لوگوں کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوجائے تو تعزیتی بیان کے ساتھ ساتھ فوری طور پر مرنے والوں کے لواحقین کے لئے ایک ایک لاکھ اور زخمیوں کے لئے پچاس پچاس ہزار روپے معاوضے کا اعلان اور مجرموں کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لئے پانچ لاکھ کے انعام کا اعلان کردیا جائے۔ تاکہ یہ تاثر زائل ہو کہ حکومت کو عوام کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اگر عوام کے جذبات بہت زیادہ مشتعل نہیں ہیں تو دوسرے دن ورنہ تیسرے دن علامتی تعزیت کے لئے بیسیوں مرنے والوں میں سے دوچار کے گھر فاتحہ خوانی کے لئے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مرنے والے کے بیٹے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر یا بیوہ کو گلے لگا کر دلاسہ دیتے ہوئے تصویر بنوانا افضل ہوگا۔ اس موقع پر اس طرح کی بات کرنا بھی سودمند رہے گا کہ یہ کام کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا۔ بیرونی ہاتھ کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت عوام کے تحفظ کو مزید فول پروف بنائے گی وغیرہ وغیرہ۔ اگر ملزمان کے خیالی خاکے بھی جاری کردئیے جائیں تو اور اچھا ہوگا۔

اس دوران دوچار بسیں یا پٹرول پمپ یا سینما نذرِ آتش ہونے یا ایک آدھ بینک اور سرکاری گاڑی کی توڑ پھوڑ سے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ دوچار دن میں سب نارمل ہوجاتا ہے۔ کسی کو کچھ یاد بھی نہیں رہتا۔

’آپ کیا کہتے ہیں‘

ساجد مجید، لاہور
خان صاحب سب کچھ تو آپ نے کہہ دیا۔ ہم کیا کہیں؟ بس دعا ہے ہے اس پاکستان کے لیے۔۔۔

منصور احمد، کراچی
میرا خیال ہے کہ آپ ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں۔ وقت بہت بڑا مرحم ہوتا ہے جو سارے غم بھر دیتا ہے لیکن ہم اس ملک کے حکمرانوں کا کیا کریں آخر؟

اجمل میندھرانی، کراچی
کس قدر مذحکہ خیز بات ہے نہ کہ ہم سب کچھ سمجھتے ہیں پھر بھی برداشت کرتے ہیں۔ لوگ بلا وجہ ہم پر جذباتی قوم ہونے کا الزام لگاتے ہیں کیونکہ ہم زندہ قوم ہیں۔

ابو انتظام سید، فیصل آباد
کبھی کبھی آپ بہت اچھی بات لکھتے ہیں۔ ہمیشہ اچھی بات لکھا کریں۔ صرف ملاؤں کو نشانہ مت بنائیں۔

محمد عاصف انور، فیصل آباد
مجھے ڈر ہے کہ ہم بے حس ہوتے جا رہے ہیں۔ کوئی بھی واقعہ ہو ہمیں بس دو تین دن یاد رہتا ہے اور بس۔ ہمیں الیکشن میں ووٹ ڈالتے وقت یہ سب کچھ یاد رکھنا چاہیے۔ مگر یہ بات بھی ہے کہ جب مشرف صاحب جیسے صدر ہوں تو الیکشن بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔

محبوب خان، امریکہ
ایک بات رہ گئی۔ وہ یہ کہ ’ملزمان کے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی‘ اور ’فوج نے گشت بڑھگ دی ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔ بس جناب بات ختم۔۔۔

کریم شامون، کراچی
کبھی سوچتا ہوں کہ کیا اس ملک کے لوگ واقعی ان بے معنی الفاظ پر یقین کرتے ہیں؟ حکمران طبقے کے لوگ جب پریس کانفرنسوں، ٹی وی شوز وغیرہ میں بات کرتے ہیں تو مجھے شرم سی آتی ہے کیونکہ یہ بات صاف ہے کہ وہ جو کچھ بھی بولتے ہیں اس پر ذرا بھی یقین نہیں کرتے اور وہ حقیقت سے میلوں دور ہوتا ہے۔

اظہر عظیم، کراچی
میں پوری طرح اتفاق کرتا ہوں۔ اس قسم کے سانحے نہ جانے کتنی سالوں سے ہو رہے ہیں مگر کچھ دن بعد سب ’معمول‘ پر آ جاتا ہے۔ مشرف پر حملے کرنے والے تو فوراً گرفتار ہو جاتے ہیں۔۔۔مگر باقیوں کا کیا؟

اپنا اقتباس ہمیں بھیجیں

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
وسعت بلاگوسعت بلاگ
’کوئی بے زاری سی بے زاری ہے‘
حسن کا نیا بلاگحسن بلاگ
’اب اٹلی میں گاتا ہوگا ’میرا نام عبدالرحمان ‘
ضیاپیریار، کہاں ہے؟
’ہمارے نئے دور کا غیب دان کب آئے گا؟ ‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد