وسعت بلاگ: ’بھوت مدرسہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تازہ ترین سروے کے مطابق پاکستان میں اس وقت تیس ہزار کے لگ بھگ گھوسٹ اسکول یعنی بھوت مدرسے موجود ہیں۔محکمہ تعلیم کے ریکارڈ کے مطابق ان بھوت اسکولوں میں استاد اور شاگرد بھی پائے جاتے ہیں۔یہاں باقاعدگی سے کلاسیں بھی ہوتی ہیں۔ اساتذہ کو ماہانہ تنخواہ بھی مل رہی ہے۔ان اسکولوں کو سرکاری گرانٹ بھی حاصل ہے۔لیکن زمین پر ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ کسی اسکول کی عمارت میں گائے بھینسیں بندھی ہوئی ہیں تو کہیں غلے کا گودام ۔کسی اسکول میں تھانہ کھلا ہوا ہے تو کہیں وڈیرے نے مہمانوں کے لئے اوطاق بنا ڈالا ہے۔کسی اسکول کی خالی عمارت میں نشئی براجمان ہیں تو کسی کے دروازے، کھڑکیاں اور اینٹیں تک چوری ہوگئی ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد میں ڈاکٹر عطاالرحمان کی سربراہی میں قائم ہائر ایجوکیشن کمیشن بالکل ایک الگ دنیا ہے۔کمیشن کے پاس اعلی تعلیم اور سائنس و ٹیکنولوجی کے میدان میں پاکستان کو دھکیلنے کے لئے شاندار منصوبے اور اربوں روپے کا بجٹ ہے۔کمیشن امریکہ ، یورپ اور فارایسٹ کے معروف تعلیمی اداروں کی طرز پر اگلے چار برس کے دوران کم ازکم چھ بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹیاں قائم کرنے کا اعلان کرچکا ہے تاکہ پاکستان اکیسویں صدی میں کسی سے پیچھے نہ رھ جائے۔ لیکن یہ بات کیسے سمجھائی جائے کہ سرکاری پرائمری تعلیم کو بھوت اسکولوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا اور سارے وسائل اور توجہ جدید ترین اعلی تعلیمی منصوبوں پر لگا دینا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی بچے کو بغیر پاجامے کے صرف کرتا پہنا کر محلے میں چھوڑ دیا جائے اور وہ ہر ایک کے سامنے قلابازیاں کھاتا پھرے۔
لیاقت علی بگٹی، اسلام آباد بہت اعلیٰ، یہ تو بہت سے مدرسوں کی بات ہے لیکن ان مدرسوں کو آپ کیا نام دیں گے جہاں مسئلہ اس کے برعکس ہے یعنی سکول، استاد اور طلبہ تو ہیں لیکن ان کا پرسان حال کوئی نہیں۔ قاسم، کوئٹہ سید مصباح الدین، سعودی عرب ندیم خان، کینیڈا ساجد مجید، لاہور شاہدہ اکرم، ابوظہبی
وقت نے حکومتوں کو اس فن میں طاق بنا دیا ہے کہ بغیر انگلی ہلائے اقتدار، امن و امان اور عوام کا اعتماد کیسے بحال رکھا جاسکتا ہے۔ یہ تجربات اب ایک آزمودہ مینوئل کی شکل میں ہر حکمران اور اسکے کارندوں کو ازبر ہوچکے ہیں۔ مثلاً اگر کسی بڑی شخصیت کا قتل ہوجائے تو فوراً ایک تعزیتی بیان جاری کیا جائے جس میں مرنے والے کے لئے بلند درجات کی دعا اور لواحقین اور مداحوں کے لئے صبرِ جمیل کی تلقین ہو۔ مرحوم کی ملی و دینی خدمات کو اس بیان میں تفصیلاً خراجِ عقیدت پیش کیا جائے۔ ایک ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر سات روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جائے۔ دوسرے روز مقتول کے گھر جاکر پسماندگان کے ہمراہ دعائیہ ہاتھ بلند کرکے تصویر کھنچوائی جائے اور مقتول کی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں کے جھرمٹ میں بتایا جائے کہ حکومت کس طرح قاتلوں کی گرفتاری کے لئے زمین آسمان ایک کررہی ہے۔ اگرچہ اس طرح کی سازش بے نقاب کرنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے لیکن قانون کا ہاتھ جلد ہی قاتلوں کے گریبان تک پہنچ جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ اگر کسی عوامی جگہ یا اجتماع میں بم دھماکے یا فائرنگ سے لوگوں کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوجائے تو تعزیتی بیان کے ساتھ ساتھ فوری طور پر مرنے والوں کے لواحقین کے لئے ایک ایک لاکھ اور زخمیوں کے لئے پچاس پچاس ہزار روپے معاوضے کا اعلان اور مجرموں کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لئے پانچ لاکھ کے انعام کا اعلان کردیا جائے۔ تاکہ یہ تاثر زائل ہو کہ حکومت کو عوام کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اگر عوام کے جذبات بہت زیادہ مشتعل نہیں ہیں تو دوسرے دن ورنہ تیسرے دن علامتی تعزیت کے لئے بیسیوں مرنے والوں میں سے دوچار کے گھر فاتحہ خوانی کے لئے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مرنے والے کے بیٹے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر یا بیوہ کو گلے لگا کر دلاسہ دیتے ہوئے تصویر بنوانا افضل ہوگا۔ اس موقع پر اس طرح کی بات کرنا بھی سودمند رہے گا کہ یہ کام کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا۔ بیرونی ہاتھ کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت عوام کے تحفظ کو مزید فول پروف بنائے گی وغیرہ وغیرہ۔ اگر ملزمان کے خیالی خاکے بھی جاری کردئیے جائیں تو اور اچھا ہوگا۔ اس دوران دوچار بسیں یا پٹرول پمپ یا سینما نذرِ آتش ہونے یا ایک آدھ بینک اور سرکاری گاڑی کی توڑ پھوڑ سے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ دوچار دن میں سب نارمل ہوجاتا ہے۔ کسی کو کچھ یاد بھی نہیں رہتا۔
ساجد مجید، لاہور خان صاحب سب کچھ تو آپ نے کہہ دیا۔ ہم کیا کہیں؟ بس دعا ہے ہے اس پاکستان کے لیے۔۔۔ منصور احمد، کراچی اجمل میندھرانی، کراچی ابو انتظام سید، فیصل آباد محمد عاصف انور، فیصل آباد محبوب خان، امریکہ کریم شامون، کراچی اظہر عظیم، کراچی |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||