BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 May, 2006, 16:48 GMT 21:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک اور انتہا پسندی


ستائیس مئی: ایک اور انتہا پسندی


پہلا رویہ
ہلو ہلو میں آگیا ہوں۔۔۔۔۔ اچھا یہ تو بہت زبردست ہوگیا۔ سالے اتنے دن بعد آئے۔۔۔ ویسے کتنے دن کے لئے آئے ہو۔۔۔۔۔ چار روز کے لئے ۔۔۔۔۔بس اتنے سے دنوں کے لئے۔ بھئی یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی۔۔ اچھا کہاں ٹھہرے ہو ۔۔۔۔ ہوٹل میں۔ ارے ہوٹل میں کیا ضرورت تھی جب تمہیں معلوم ہے کہ یہاں تیرے یار کا گھر بھی ہے۔ خیر میں بھی جب کہیں جاتا ہوں تو ہوٹل کو ترجیح دیتا ہوں۔ کیونکہ کسی کے ہاں رکنے سے اپنی بھی آزادی محدود ہوجاتی ہے اور گھر والے بھی بےچارے تکلفات میں پڑ جاتے ہیں۔۔۔ اب یہ ہے کہ کل تم لنچ کے بعد میرے دفتر آ جاؤ چائے ساتھ پئیں گے ۔۔۔دیکھو پہلے کی طرح کوئی بہانہ نہیں کرنا اور آ ضرور جانا۔ پھر تفصیلی گپ شپ کریں گے۔ اوکے۔۔۔۔اوکے۔۔۔ اور ہاں اگر کوئی بھی ضرورت ہو یا کہیں آنا جانا ہو تو مجھے بلاتکلف فون کردینا۔ سمجھ گئے نا۔۔۔۔ جی سمجھ گیا۔۔۔۔۔۔

دوسرا رویہ
چیچہ وطنی کے نواح میں چار لوگوں نے ایک شخص کو کھانے کی دعوت دی اور انکار پر اسے گھر میں گھس کر نہ صرف مارا بلکہ توڑ پھوڑ بھی کی۔ بات پولیس کچہری تک پہنچ گئی۔

اسی سے ملتی جلتی ایک خبر قبائیلی علاقے خیبر ایجنسی سے آئی جہاں تبلیغی جماعت کے ایک گروہ نے جب اپنے لئے کھانا پکانا شروع کیا تو مقامی لوگوں نے انہیں سمجھایا کہ وہ ایسا نہ کریں۔ یہ علاقے کے لوگوں کے لئے غیرت کا مسئلہ ہے کہ کوئی مہمان خود کھانا بنائے۔ جب تبلیغی جماعت والوں کی سمجھ میں بات نہیں آئی تو ان سے کہا گیا کہ وہ بستر بوریا گول کریں اور کہیں اور جاکر کھانا پکائیں۔

میں زندگی میں میزبانی کی دو انتہاؤں سے گھبرا آ کر دو دفعہ فرار ہوا ہوں۔

ایک دفعہ اسلام آباد میں بچپن کے ایک دوست نے بصد اصرار گھر پر روکا لیکن وہ بے چارہ صبح نوکری پر جاتا تو شام گئے لوٹتا اور میں اسکے نوکر سے تکلف میں چائے بنانے کا بھی نہیں کہہ پاتا۔ دو دن بعد میں فرار ہوگیا اور فون پر دوست سے ایک ایمرجنسی کا بہانہ بنا کر معذرت کی۔

دوسری دفعہ یہ ہوا کہ قبائیلی علاقے کرم ایجنسی میں چار روز قیام کے دوران مجھے گوشت کھلا کھلا کر تقریباً ہلاک کردیاگیا۔ جب بھی میں اپنے میزبانوں سے سبزی یا گوشت کی فرمائش کرتا وہ باجماعت اس طرح ہنستے جیسے میں دنیا کا سب سے بڑا مسخرہ ہوں۔ چوتھے دن میں بیماری کا بہانہ کرکے وھاں سے بھاگ نکلا۔

عجیب بات ہے کہ یہاں ہر شخص چاہے وہ شہر میں رہتا ہو یا گاؤں میں، مہمان کی خاطر تو کرنا چاہتا ہے لیکن اپنی شرائط پر۔ اسکے نتیجے میں مہمان نوازی تو باقی رہ جاتی ہے مگرمہمان نکل لیتا ہے۔


آپ کی رائے

علیم اختر، گجرات
وسعت صاحب! فکر نہ کریں، جلد ہی آپ پشاور سے کراچی تک ایک مختلف پاکستان دیکھیں گے۔ جب لوگ مہنگائی سے اپنے کھانے کو تنگ ہوں گے تو مہمان کو خود ہی دھکے دے کر نکالا کریں گے۔ آپ کو خود بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ویسے اب بھی لوگ مہمان کو مصیبت سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی
زبردست، مزہ آ گیا وسعت بھائی۔ آپ نے اپنے بلاگز میں ہم سب کو بہت ورائیٹی دی ہے، لیکن اس طرح کی ورائیٹی بہت کم لوگوں میں ملتی ہے۔ میرا مطلب آپ کی تحریروں سے ہے۔ آپ کو پتہ ہے کہ کہ مصنفوں کی تھوڑی سے تحریر پڑھنے کے بعد آپ کو علم ہو جاتا ہے کہ یہ اس مصنف نے لکھی ہوگی، آپ کی تحریر بھی بالکل ایسی ہی ہے۔ آپ کی تحریریں بھی اس صف میں آ چکی ہیں۔ لیکن ایک بات ہے، مہمان نوازی کی بات جانے دیں، انسان کا سوچیں جو کسی بھی حال میں شکر گزار نہیں ہوتا۔ کوئی آپ کو اوآئیڈ کرے تو وہ بات بھی آپ کو دکھی کرتی ہے اور جو کوئی کھلا کھلا کر پاگل کر دے وہ بھی ناقابل برداشت! کیا کہیں گے اس بات کو؟!

اظفر خان، کینیڈا
مسئلے کا تجزیہ، اور اس تجزیے پر تجزیہ چلتا رہتا ہے مگر وسعت صاحب اب آپ جیسے لوگوں کو مسائل اور اس کے حل کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔۔۔

محمد نصیر، راولپنڈی
میں نے آپ کا کلام پڑھا، بہت خوشی ہوئی۔۔۔




بیس مئی: ’فرنٹ کمپنی‘



ابتدا میں یہ ملک آئی سی ایس بیوروکریٹس اور جاگیرداروں کے کنٹرول میں تھا۔پھر فوج نے ان دونوں طبقات کو اپنی بی ٹیم بنا لیا اور خود بھی ایک ادارے سے طبقے میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔
( جنرل ضیا الحق سے پہلے تک فوج کی شکل کم از کم ایک ادارے کے مشابہہ تھی لیکن پھر اس نے یہ چادر بھی اتار پھینکی اور اب یہ باقی طبقات کی طرح مفادات اور زیادہ سے زیادہ وسائل کے حصول کی جنگ میں ایک مکمل اور موثر فریق ہے۔لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے)۔
آج لگتا ہے کہ ان تینوں طبقات کو صنعتی، تجارتی اور مالی مافیانے اپنی بی ٹیم بنا لیا ہے۔
ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ فارماسوٹیکل کمپنیاں ایک ہی دوا بائیس روپے سے لے کر ایک سو پچیس روپے تک فروخت کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہوں۔
شوگر مل مالکان کا ایک گروہ نہ صرف وفاقی احتسابی ادارے نیب کو ایک پوپلے شیر میں تبدیل کردے بلکہ خود قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے منہ پر بھی ایک ہی بڑک کے بعد ٹیپ لگا دے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ بارہ کے لگ بھگ شارکوں کا غول پورے ملک میں زمین کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر ہزار گنا اضافے کے ساتھ آسمان تک پہنچا دے اور پانچ یا چھ کھلاڑیوں کی ٹیم شیئر مارکیٹ کو یرغمال بنا کے باقی شیئر دلالوں کو شطرنج کے مہروں میں تبدیل کردے۔
پٹرول جو ملک کی لائف لائن ہوتا ہے اس کی قیمت پر تیل کمپنیوں کا انگوٹھا ہو اور وہ اتنی طاقتور ہوں کہ سرکاری وزارتِ پٹرولیم کو اپنے پبلک ریلیشن ادارے میں تبدیل کرکے اسے وفاقی احتسابی ادارے سے بھڑوا دیں۔تاکہ کوئی ان سے اربوں روپے کے منافع کے بارے میں سوال تک نہ کرسکے۔
پاکستان اسوقت وہ جگہ ہے جہاں بینکنگ سیکٹر سو فی صد منافع کما رھا ہے اور اس سیکٹر کی طاقت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ریگولیٹری ادارہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان جو کچھ عرصے پہلے تک بینکنگ سیکٹر کو احکامات اور ہدایات جاری کرتا تھا اب اسی بینکنگ سیکٹر کی ٹھوڑی کو ہاتھ لگا کر کہہ رھا ہے کہ جناب اگر آپ اپنے منافع کے سمندر میں سے چند اور قطرے کھاتے دار کے منہ میں بھی ٹپکا دیں تو بڑی عنائیت ہوگی۔
شائد ہی دنیا کے کسی ملک میں یہ ہوتا ہو کہ آٹو موبائیل بنانے والی کمپنی آپ سے یکمشت سو فیصد رقم لے لے اور گاڑی چھ ماہ سے ایک برس کے عرصے میں ڈلیور کرے لیکن پاکستان میں آٹو موبائیل صنعت نہ صرف خریدار کو نچاتی ہے بلکہ اسی کا پیسہ بینک میں چھ ماہ یا سال بھر رکھ کے مزید اربوں روپے کماتی ہے۔
اگر حکومت یہ کہتی ہے کہ وہ ان حالات میں فریق نہیں ہے تو پھر حکومت اور کسی مافیا کی فرنٹ کمپنی میں بھلا کیا فرق ہوا۔


آپ کی رائے:

محمد یوسف اقبال، دوبئی:
واہ کیا بات کی ہے آپ نے۔ میں نے پہلے بھی آپ کے بہت سے کالم پڑھے ہیں مگر مجھے سچ پوچھئے تو کبھی اتنا متاثر نہیں کیا۔ یہ سب پڑھ کر رونا آتا ہے اور اللہ سے شکایت کرنے کو بھی دل کرتا ہے کہ ہمارے اوپر کیسے جابر اور ظالم حکمران بٹھا دیئے۔ ہم نے پاکستان سٹڈیز میں پڑھا تھا کہ حکمران اللہ کی اطاعت میں کام کرتے ہیں مگر یہاں تو سب الٹا ہے۔

علیم اختر، گجرات:
یہ باتیں تو سچی ہیں لیکن اس کا کوئی پریکٹیکل حل تو بتائیے۔

عبدالوحید خان، برمنگھم:
آپ نے جس طرح معاشرے کو لگی دیمک کی نشاندھی کی ہے، اس پر مبارکباد لیکن یہ سب کچھ پڑھ کر بھی کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگے گی۔ تمام مفاداتی گروہ ایک دوسرے کا تحفظ کررہے ہیں اور غریب عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ انہیں بھول گیا ہے کہ ایک سب سے بری ذات بھی ہے جس کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
آپ نے خوب لکھا، عوام دشمن مافیا کھول کر رکھ دیا۔ اس پر اب تبصرہ بھی بے معنی ہے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
’پنگا‘ باز اور سیانے’پنگا‘ باز اور سیانے
’یعنی کراچی میں راوی اتنا چین لکھتا ہے۔۔۔‘
عنبرخیریدیگر عجیب قصے
عنبر خیری کے والدین کے گھر کیا ہوا؟
درست لفظ کا انتخاب’رُشدی ہوئے یا ہوا؟‘
اردو کے مسائل پر ضیا احمد کا نیا بلاگ
شیما بلاگجھمکا گرا رے
بریلی کے بارے میں شیما کمال کا نیا بلاگ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد