ایک اور انتہا پسندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلا رویہ دوسرا رویہ اسی سے ملتی جلتی ایک خبر قبائیلی علاقے خیبر ایجنسی سے آئی جہاں تبلیغی جماعت کے ایک گروہ نے جب اپنے لئے کھانا پکانا شروع کیا تو مقامی لوگوں نے انہیں سمجھایا کہ وہ ایسا نہ کریں۔ یہ علاقے کے لوگوں کے لئے غیرت کا مسئلہ ہے کہ کوئی مہمان خود کھانا بنائے۔ جب تبلیغی جماعت والوں کی سمجھ میں بات نہیں آئی تو ان سے کہا گیا کہ وہ بستر بوریا گول کریں اور کہیں اور جاکر کھانا پکائیں۔ میں زندگی میں میزبانی کی دو انتہاؤں سے گھبرا آ کر دو دفعہ فرار ہوا ہوں۔ ایک دفعہ اسلام آباد میں بچپن کے ایک دوست نے بصد اصرار گھر پر روکا لیکن وہ بے چارہ صبح نوکری پر جاتا تو شام گئے لوٹتا اور میں اسکے نوکر سے تکلف میں چائے بنانے کا بھی نہیں کہہ پاتا۔ دو دن بعد میں فرار ہوگیا اور فون پر دوست سے ایک ایمرجنسی کا بہانہ بنا کر معذرت کی۔ دوسری دفعہ یہ ہوا کہ قبائیلی علاقے کرم ایجنسی میں چار روز قیام کے دوران مجھے گوشت کھلا کھلا کر تقریباً ہلاک کردیاگیا۔ جب بھی میں اپنے میزبانوں سے سبزی یا گوشت کی فرمائش کرتا وہ باجماعت اس طرح ہنستے جیسے میں دنیا کا سب سے بڑا مسخرہ ہوں۔ چوتھے دن میں بیماری کا بہانہ کرکے وھاں سے بھاگ نکلا۔ عجیب بات ہے کہ یہاں ہر شخص چاہے وہ شہر میں رہتا ہو یا گاؤں میں، مہمان کی خاطر تو کرنا چاہتا ہے لیکن اپنی شرائط پر۔ اسکے نتیجے میں مہمان نوازی تو باقی رہ جاتی ہے مگرمہمان نکل لیتا ہے۔
علیم اختر، گجرات وسعت صاحب! فکر نہ کریں، جلد ہی آپ پشاور سے کراچی تک ایک مختلف پاکستان دیکھیں گے۔ جب لوگ مہنگائی سے اپنے کھانے کو تنگ ہوں گے تو مہمان کو خود ہی دھکے دے کر نکالا کریں گے۔ آپ کو خود بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ویسے اب بھی لوگ مہمان کو مصیبت سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ شاہدہ اکرم، ابو ظہبی اظفر خان، کینیڈا محمد نصیر، راولپنڈی
ابتدا میں یہ ملک آئی سی ایس بیوروکریٹس اور جاگیرداروں کے کنٹرول میں تھا۔پھر فوج نے ان دونوں طبقات کو اپنی بی ٹیم بنا لیا اور خود بھی ایک ادارے سے طبقے میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ ( جنرل ضیا الحق سے پہلے تک فوج کی شکل کم از کم ایک ادارے کے مشابہہ تھی لیکن پھر اس نے یہ چادر بھی اتار پھینکی اور اب یہ باقی طبقات کی طرح مفادات اور زیادہ سے زیادہ وسائل کے حصول کی جنگ میں ایک مکمل اور موثر فریق ہے۔لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے)۔ آج لگتا ہے کہ ان تینوں طبقات کو صنعتی، تجارتی اور مالی مافیانے اپنی بی ٹیم بنا لیا ہے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ فارماسوٹیکل کمپنیاں ایک ہی دوا بائیس روپے سے لے کر ایک سو پچیس روپے تک فروخت کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہوں۔ شوگر مل مالکان کا ایک گروہ نہ صرف وفاقی احتسابی ادارے نیب کو ایک پوپلے شیر میں تبدیل کردے بلکہ خود قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے منہ پر بھی ایک ہی بڑک کے بعد ٹیپ لگا دے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ بارہ کے لگ بھگ شارکوں کا غول پورے ملک میں زمین کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر ہزار گنا اضافے کے ساتھ آسمان تک پہنچا دے اور پانچ یا چھ کھلاڑیوں کی ٹیم شیئر مارکیٹ کو یرغمال بنا کے باقی شیئر دلالوں کو شطرنج کے مہروں میں تبدیل کردے۔ پٹرول جو ملک کی لائف لائن ہوتا ہے اس کی قیمت پر تیل کمپنیوں کا انگوٹھا ہو اور وہ اتنی طاقتور ہوں کہ سرکاری وزارتِ پٹرولیم کو اپنے پبلک ریلیشن ادارے میں تبدیل کرکے اسے وفاقی احتسابی ادارے سے بھڑوا دیں۔تاکہ کوئی ان سے اربوں روپے کے منافع کے بارے میں سوال تک نہ کرسکے۔ پاکستان اسوقت وہ جگہ ہے جہاں بینکنگ سیکٹر سو فی صد منافع کما رھا ہے اور اس سیکٹر کی طاقت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ریگولیٹری ادارہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان جو کچھ عرصے پہلے تک بینکنگ سیکٹر کو احکامات اور ہدایات جاری کرتا تھا اب اسی بینکنگ سیکٹر کی ٹھوڑی کو ہاتھ لگا کر کہہ رھا ہے کہ جناب اگر آپ اپنے منافع کے سمندر میں سے چند اور قطرے کھاتے دار کے منہ میں بھی ٹپکا دیں تو بڑی عنائیت ہوگی۔ شائد ہی دنیا کے کسی ملک میں یہ ہوتا ہو کہ آٹو موبائیل بنانے والی کمپنی آپ سے یکمشت سو فیصد رقم لے لے اور گاڑی چھ ماہ سے ایک برس کے عرصے میں ڈلیور کرے لیکن پاکستان میں آٹو موبائیل صنعت نہ صرف خریدار کو نچاتی ہے بلکہ اسی کا پیسہ بینک میں چھ ماہ یا سال بھر رکھ کے مزید اربوں روپے کماتی ہے۔ اگر حکومت یہ کہتی ہے کہ وہ ان حالات میں فریق نہیں ہے تو پھر حکومت اور کسی مافیا کی فرنٹ کمپنی میں بھلا کیا فرق ہوا۔
محمد یوسف اقبال، دوبئی: علیم اختر، گجرات: عبدالوحید خان، برمنگھم: جاوید اقبال ملک، چکوال: |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||