سیاسی جماعتوں کے خفیہ قرضے بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے لارڈ چانسلر کے زیر تجویز نئے قانون کے تحت سیاسی جماعتوں کو خفیہ قرضوں کی فراہمی پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ لارڈ فیلکنر ہر جماعت کو تحریری طور پر تجویز دے رہے ہیں کہ پارلیمان میں پہلے سے ہی زیر غور ایک قانونی مسودے میں قرضوں پر پابندی کو بھی شامل کیا جائے۔ خفیہ قرضوں کے حوالے سے لیبرپارٹی پر کچھ الزامات عائد کیئے گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جن کاروباری حضرات نے جماعت کو لاکھوں پاؤنڈ کے قرضے فراہم کیئے تھے، جماعت نے دارالامراء کے اعزازات کے لیئے ان افراد کو ہی نامزد کیا تھا۔ تاہم لیبر پارٹی ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ ایک سرمایہ کار نے، جنہیں ایک خصوصی اعزاز کے لیئے نامزد کیا گیا تھا، اب دعوٰی کیا ہے کہ انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ ان کی جانب سے جماعت کو دیئے گئے دو لاکھ پچاس ہزار پاؤنڈ کے قرضے کو خفیہ رکھا جائے۔ اسی طرح سر غلام نون کو دارالامراء میں شامل ہونے سے روک دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے بھی جماعت کو دیئے گئے قرضہ کو خفیہ رکھا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت کے ایک ’سینیئر نمائندے‘ نے انہیں ہدایت کی تھی کہ قرضے کے بارے میں اعلان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘۔ یہ سکینڈل اس وقت سامنے آیا ہے جب اعزازات کی نامزدگی کے لئے کاروباری دنیا کے تین اہم ناموں کو شامل نہیں کیا جارہا تھا جس پر ایک معائنہ کار حلقے نے سوالات اٹھائے۔ ان تین سرمایہ کاروں نے اعلان کے ساتھ جماعت کو قرضے فراہم کیے تھے اور انہیں خفیہ نہیں رکھا تھا۔ لیبر پارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال کے عام انتخابات کے لیئےاسے 14 ملین کے قرضے خفیہ طور پر دیئے گئے تھے۔ لارڈ فیلکنر کا کہنا ہے کہ اب ’الیکٹورل ایڈمشن بل‘ میں ایک شق شامل کی جائے گی جس کے تحت جماعتوں کو فراہم کیئے جانے والے قرضوں کو خفیہ رکھنے پر پابندی ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ نظام اتنا شفاف نہیں ہے اور اسے صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ تو نہیں کہا کہ خفیہ قرضے ’دھوکہ دہی‘ کی مد میں آتے ہیں تاہم ان کا اصرار تھا کہ قرضوں کے لین دین کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں برطانیہ پھر انتہائی ’الرٹ‘ حالت میں 10 July, 2005 | آس پاس برطانیہ میں اسلامی بنکاری13 June, 2005 | آس پاس دارالامراء کی سیٹ کے لیے رشوت؟12 March, 2006 | آس پاس الجزیرہ کا ٹونی بلیئر کو خط26 November, 2005 | آس پاس نازیوں کے’کھوجی‘ کا انتقال20 September, 2005 | آس پاس سمندری طوفان، 80 سے زیادہ ہلاک 30 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||